اکادمی ادبیات 136

اکادمی ادبیات اسلام آباد میں معروف مصنف مستنصر حسین تارڑ کے ساتھ نشست

ویب ڈیسک


ناول زندگی کی طرح ہوتا ہے جس میں مختلف موڑ آتے ہیں۔ ان خیالات کا ظہارناول نگار، سفرنامہ نگار اور ادیب مستنصر حسین تاڑر نے اکادمی ادبیات پاکستان کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب ”اہل قلم سے ملیے“ میں کیا۔

تقریب میں ڈاکٹر صلاح الدین درویش، طاہرہ اقبال، ڈاکٹر صوفیہ یوسف، ڈاکٹر شیر علی، محمد عاصم بٹ، محمودہ غازیہ، جہانگیر عمران، اختر رضا سلیمی، عظمی جہاں اور دیگر اہل قلم نے ان کی فنی زندگی اور شخصیت کے حوالے سے گفتگو اور سوالات کیے۔ الیاس بابر اعوان نے منظوم خراج پیش کیا۔ افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے ڈاکٹر یوسف خشک ،چیئرمین ، اکادمی ادبیات پاکستان نے کہاکہ مستنصر حسین تاڑرکسی تعارف کے محتاج نہیں ،وہ پاکستان ہیں اور ادبی دنیا میں مستنصر حسین تارڑ پاکستان کی منفرد پہچان ہیں انہوں نے اپنے ناولوں اور نثر کے ذریعے ریڈر شپ کا معیار بلند کیا۔ وہ پاکستان کے بلند پایہ ادیب ہیں۔ ڈاکٹر یوسف خشک نے کہاکہ پاکستان کا کوئی شہر ان کے نام سے منسوب ہونا چاہیے۔

انہوں نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ محمد عاصم بٹ ، ڈائریکٹر اکادمی نے کہا کہ مستنصر حسین تاڑر ایسی بلند مرتبت شخصیت ہےں کہ جن کی ہمارے درمیان موجودگی سے ہمارے ہونے کو اعتبارملتاہے۔ صلاح الدین درویش نے کہاکہ مستنصر حسین تاڑرایک مکمل ادبی شخصیت ہیں۔ انہوں نے انسانیت کو جس طرح دیکھا پرکھا، اُسی طرح لکھا۔ انہوں نے اُن کے ناول حس و خاشاک زمانے کو اہم قرار دیتے ہوئے اس پر گفتگو کی۔ طاہرہ اقبال نے کہاکہ مستنصر حسین تاڑرکے ناولوں سے پتا چلتا ہے جیسے کوئی تخلیق کا دیوتا اُن سے لکھواتا ہے۔ اُن کی تحریروں میں انفرادیت اور تنوع پائی جاتی ہے۔ وہ عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہیں۔ وہ نئی نسل کے لیے تربیت کا گہوارہ ہیں۔ مستنصر حسین تاڑرنے کہاکہ میں چیئرمین اکادمی ڈاکٹر یوسف خشک کا شکریہ ادا کرتا ہوںکہ انہوں نے میرے ناول ”بہاﺅ“ کا ترجمہ کروا کے اکادمی سے شایع کیا ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں اہم تخلیقات کے تراجم کم ہوتے ہیں۔ معیاری تراجم کے بعد اُن کو دنیا بھر میں پہنچانا چاہےے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری تخلیقات نوبل انعام یافتہ تخلیقات سے کم نہیں ہوتی ہیں۔ اُن کا کہنا تھاکہ جس ادیب میں جان ہوتی ہے وہ زبان اور گرائمر خود ترتیب دیتا ہے۔ مستنصر حسین تاڑرنے کہا کہ کم از کم میں اپنے قاری کو کسی الجھن میں نہیں ڈالتا۔ میں زبان کے بارے میں نہیں جانتا مگر لکھ سکتا ہوں۔

انہو ں نے کہا کہ سلیم الرحمن کی رائے کا احترام کرتاہوں جنہوں نے میرے ناول ”راکھ“ کوایڈٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی مرضی سے لکھتا ہوں ، میرا کوئی استاد نہیں۔ میں منظروں، چہروں، پہاڑوں اور بڑے لٹریچر سے سیکھتا ہوں۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ناول کو زندگی کی طرح سمجھتا ہوں جس طرح زندگی میں مختلف موڑ اور مراحل آتے ہیں اسی طرح ناول میں بھی مختلف موڑ لاتا ہوں۔ جس طرح انسان زندگی کے حوالے سے پلان بناتے ہیں اسی طرح ناول کو بھی پلان کیا جاتا ہے جب ناول میں کردار باغی ہونے لگتے ہیںتو گویا وہ ناول کا عروج ہوتا ہے۔ میں نے ٹیلی وژن سے اپنے کیرئیر کا آغاز اور اُسی دور میں میری کتاب بھی چھپی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ شہرت اللہ کی طرف سے عنایت ہوتی ہے اس کو انجوائے کرنا چاہےے اس کو اپنا حق نہیں سمجھنا چاہےے۔ میںنے کبھی شہرت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے کہاکہ نئی نسل کے لیے مطالعہ ، مشاہدہ اور تجربات کرنا ضروری ہے اور انہیں انسانی پہلوﺅں سے آگاہی ہونی چاہےے۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی تھیم نے بے چین کیا تو میں ناول لکھنا شروع کرتا ہوں۔ انہو ں نے اس تاثر کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ کتاب کو کسی چیز سے خطرہ نہیں اور نہ ادب پر جمود طاری ہے ۔ لکھنے پڑھنے کے سلسلے رواں دواں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تخلیق کی اصل پرکھ صرف تخلیق کارہی کر سکتے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہماری پاکستانی زبانیں اپنی سرزمین سے نموپاتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ لاہور جس پر مہر ثبت کردے تووہ بڑ ا تخلیق کار بنتا ہے ۔ آخر میں حاضرین نے ن کے ناولوں کے بارے میں سوالات کیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں