corruption in national assembly asad qaiser 103

سیاسی ہنگامہ خیزی اور پاکستانی سیاست کی خصوصیات

پروفیسر امیر حمزہ ورک


پاکستانی حکمرانوں کی خوش قسمتی کہیں یا عوام کی بدقسمتی کہ پاکستانی ریاست 1947 سے ہی "فرنٹ لائین سٹیٹ” کا درجہ حاصل کئے ہوئے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو عالمی سامراج کی عالمی اور علاقائی پالیسی کا لازمی جزو ہے۔ یہ بات سمجھنے والی ہے کہ دوسری عالمی جنگ (1945_1939) کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ اب عالمی سامراجی نو آبادیاتی نظام نہی چل سکتا۔۔کیونکہ پہلی عالمی جنگ کے نتیجے میں 1917ء کے سوشلسٹ انقلاب نے عالمی سطح پر طاقت کو توازن کو پہلے ہی گڑ بڑ کر دیا تھا۔پھر اوپر سے دوسری عالمی جنگ کے نتیجے میں عالمی سرمایہ دارانہ نظام تباہ ہو گیا اور عالمی طور پر چین سمیت کئی ایک ممالک میں محنت کشوں کی پارٹیوں نے سرمایہ داری سے اقتدار چھین لیا اور ان دونوں جنگوں کے نتیجے میں نصف صدی کے قریب ممالک میں نو آبادیاتی نظام زمین بوس ہو گیا اور برطانیہ۔فرانس۔جرمنی۔اٹلی وغیرہ نوآبادیاتی طاقتوں کو ملکوں کو آزاد کرنا پڑا۔۔
نو آبادیاتی طاقتوں کے غلام ملکوں اور قوموں کے بعد دوسری عالمی جنگ کا سب سے زیادہ فائدہ امریکی سامراج نے اٹھایا۔ جغرافیائی طور پر دونوں عالمی جنگیں امریکی سر زمین سے دور لڑی گئیں اور امریکین سامراج نے اسلحہ بیچ کر خوب پیشہ کمایا اور اپنے آپ کو براہ راست جنگ کے نقصانات سے محفوظ رکھا۔ لہذا دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر عالمی سرمایہ داری نظام کی باگ ڈور برطانیہ سے امریکہ کو منتقل ہو گئ اور پھر سرمایہدار دنیا نے نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کی تلافی” جدید نو آبادیاتی نظام” کی بنیاد ڈال کر کی۔۔یعنی تیسری دنیا کے پسماندہ۔ترقی پذیر اور نو آزاد ملکوں کو سیاسی اور معاشی غلام بنانا۔۔۔ جدید نو آبادیاتی نظام کے قیام کے لئے عالمی سامراج نے "برتن وڈ سسٹم” کے تحت تین بڑے عالمی ادارے1945_46 میں بنائے ۔۔ جن میں۔۔۔
1۔ورلڈ بینک
2۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ۔۔آئی ایم ایف۔
3۔اقوام متحدہ۔۔۔۔۔ شامل ہیں
دوسری طرف عالمی سامراج نے امریکی سربراہی میں تیسری دنیا کے ممالک کی جاگیردار۔سرمایہ دار ۔فوجی و سول بیورو کریسی اور مذہبی عناصر کو اپنے اتحاد کا حصہ بنا کر ان کی اقتدار تک رسائی ممکن بنائی ۔۔۔اور یوں نیم نو آبادیاتی یا جدید نیم نو آبادیاتی نظام کا آغاز ہوا۔۔اور یہی نظام اب تک پاکستان میں لاگو ہے۔۔اس نظام کی پالیسی کے تحت پاکستان سرد جنگ کے دور میں سویٹ یونین کے خلاف فرنٹ لائن شٹیٹ رہا پھر۔۔80 کی دہائی میں افغانستان کے حوالے۔۔اور اب چین+روس+افغانستان کے حوالے سے۔۔۔۔
جدید نوآبادیاتی نظام کی خصوصیات کے حوالے سے عالمی سامراج نے پہلے پاکستان کی سیاست اور معیشت پر مکمل کنٹرول حاصل کیا اور پھر اپنے عالمی مفادات کے لئے پاکستان کو فرنٹ لائیں سٹیٹ کے طور پر استعمال کیا۔اسی لئے آج تک پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں اور گئیں یا مارشل لاء لگا اس میں اندرونی تضادات سے زیادہ عالمی سامراج کے مفادات کو دخل حاصل رہا ہے۔۔
اس وقت کی سیاسی صورتحال میں جو ارتعاش وہ اس جدید نوآبادیاتی نظام کا لازمی نتیجہ ہے کیونکہ
1990 ۔کے بعد دنیا دو قطبی سے یک قطبی ہا گئی تھی اور پھر امریکی سامراج نے ساری دنیا میں جنگوں اور غنڈہ گردی کا وہ بازار گرم کیا جس کی مثالیں عراق۔ افغانستان۔لیبیا۔یمن۔شام مصر اور لاطینی امریکہ کی جنگوں میں ڈھونڈی جا سکتی ہیں۔۔
لیکن جیسے دنیا یک قطبی سے کئ قطبی ہوئی تو غریب ممالک نے سکھ کا سانس لیا کہ اب کچھ حد تک امریکہ کو کوئی روک ٹوک ہو گی۔۔
دو قطبی یا کئی قطبی دنیا کی تقسیم کے نتیجے میں جدید نو آبادیاتی نظام میں کچھ دراڑ آئی ہے اور یہ دراڑ پاکستان کے اندر حکمران طبقات کے اندر تضادات کا واضح اظہار ہے۔۔اور یہ نہاد سب سے زیادہ شدید اسٹیبلشمنٹ کے اندر ہے جو جدید نو آبادیاتی نظام کی آخری حفاظتی دیوار ہے۔۔۔
حکومتون کے آنے جانے کی پاکستان کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو ہر حکمران کے لئے ایک وقت ایسا آیا کہ جب عالمی سامراج سے ان کے پیادے حکمران مایوس ہو کر عالمی سامراج سے منہ موڑ کر دوسری طرف سے مفادات حاصل کرنے کا سوچنے لگتے ہیں۔۔۔لیاقت علی خا۔ایوب خاں ۔۔بھٹو۔ضیاءالحق اور نواز شریف۔۔۔سب عالمی سامراج اور اسٹیبلشمنٹ کی مرضی سے آئے اور ان کی ہی مرضی سے گئے۔۔۔
پاکستان کی سیاست کی دو اور خصوصیات ہیں کہ پاکستان کی سرمایہدار اور جاگیردار سیاسی جماعتیں سامراج کے ساتھ ساتھ کبھی اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے تو کبھی دوسرے دھڑے کے ساتھ ہونے کی وجہ سے سیاسی خودمختاری سے محروم ہیں اور اپنے فیصلے خود کرنے کی بجائے کہیں اور سے کرواتی ہیں
دوسرا یہ کہ سامراج اور اسٹیبلشمنٹ کی ایماء سے سیاسی جماعتیں بحران پیدا کرنے میں اپنا ثانی نہی رکھتی لیکن بحران حل کرنے کی صلاحیت سے عاری ہیں۔۔۔
لہذا موجودہ صورتحال میں جو سیاسی طلاطم برپا ہے وہ حکمران طبقوں کی باہمی لڑائی اور عالمی سامراج کی جدید نو آبادیاتی نظام کے تحت اپنا معاشی اور سیاسی تسلط قائم رکھنے کا اظہار ہے۔۔
کہتے ہیں کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کا نقصان کے مصداق۔۔۔حکمرانوں کی اس لڑائی میں عوام بیچارے پسے جا رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہی ہیے۔۔ایک فرق جیتے یا دوسرا۔۔۔عوام کے مصائب و مسائل پر کوئی فرق نہی پڑنے والا کیونکہ۔۔۔
Hame Singh and Khame Singh,Both are the Same Thing..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں