630

مہ دیہو کُولانُو (کھوار نظم)

شاعر: شہزاد ایوبی


شہزاد ایوبی چترال میں ایک جانے پہچانے نوجوان گلوکار ہیں۔ وہ کچھ عرصے سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کھوار میں کئی مقبول گیت بھی لکھے جنہیں بے حد پذیرائی ملی۔ درجہ ذیل میں ان کی ایک کھوار نظم "مہ دیہو کُولانُو” پیش کی جاتی ہے جس میں ہمارے پدر سری معاشرے میں عورتوں کی سماجی زندگی کو پسِ پشت ڈالنے کے رویے پر چوٹ کی گئی یے۔


مہ دیہو کُولانُو

شہزاد ایوبی

مہ دیہو کُولانان ہزار مشغلہ
شور قسمہ اشٹوک
مائلس، ہمیشہ
ہوسیک، قہقہ
پھونیک، تماشہ

مہ دیہو کُولانُو مینُوئیتی کوئے
ملگیریان انگوئے
جوش قسما ݰاپیک، چھمانی پاچیر
لوٹار لوٹ دسترخوانہ ژاغہ نو بہچیر
چُھوئی روشت دیکا پت، مالگیریان پھونیر

مہ دیہو کُولانُو کوسیکو شوقین
انجیکا باذوق
ژبیکو شوقین
اݰکاروتے بی، مریکو شوقین۔
جشن, خوشانیان، لوڑیکہ شوقین

مگم مہ دیہو، تصویرو ای رخ، پس پردہ شیر

مہ دیہو نان گنیان،
زندگی دنیو،
نو پوشی بسر
دار ځوپی شاخچُور، مال روݯھی بسر
انوسی اژیلیانتے زپ نگی بسر

مہ دیہہ مہ نن اسپسار، عزتوت دی وال
تان دوری کُولانان غیرتوت دی وال
ݰاپیکو جم ذائقو، لذتوت دی وال
مہ برارو قہروتے دی، مہ تتوت دی وال

مہ دوری مینو کی ہانی, ژان ݯھوماوا دی، ہیس اُف نو کوری، مینو پرویزیر
جوش قسمہ ݰاپیکان، ای غاریا پاچیر، غشٹاران نگیر، گوسنان اَف مژیر
نگہہ کیہ کمی کی ہوئے ݰاپیکو موژی، مہ دورو کُولانو دِش لُوان خیݰیر۔۔۔

مگم مہ سوال ہیہ کی
کیہ ہے نن اسپساروسوم ہوست درونگیکو سورا عزت بویا کم؟
ثقافت تباہ تھے نوبوئے؟
غیرتو سوال تھے نو؟

مہ دیہو کُولانو، کورا ای دفعہ، عورتنن دی گانی، کوسیکوتے بیکو،
دیہو ہون تھے نو گوئے؟؟؟؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں