79

دعا زہرہ کی ہٹ دھرمی اور والدین کی ہمت

صفیہ حیات


دعا زہرا کیس میں دعا کی ہٹ دھرمی حیران کن ہے۔ ہارمونز کی سوغات اور محبت کا بھوت جب سر سے اترے گا پھر اسے رشتے یاد آئیں گے۔
زیادہ پرانی بات نہیں ایک بہن نے گھر سے بھاگ کر شادی کی اور باقی بہنوں نے ساری زندگی بھگتا۔
حیرت اس بات کی ہے کہ اس شادی کو پروموٹ کرنے والے یہ بھول رہے ہیں کہ یہ آگ پھیلی تو کہاں تک پہنچے گی۔جو محبت خونی رشتوں کو سڑک پہ لے آئے۔ لعنت ہے ایسی محبت پہ۔
مگر ایک بات ہے۔ورغلانے والے ہی اصل مجرم ہیں۔ظہیر پہلے اپنے پاوں پر تو کھڑا ہو۔۔۔۔
دعا زہرا کیس میں ماں باپ کی ہمت کو سلام
یہ دونوں پہلے اپنی تعلیم مکمل کریں۔ظہیر کی ماں کو چاھئے یہاں مثالی کردار ادا کرے۔بچی کو والدین کے حوالے کرے۔کہ پہلے یہ تعلیم حاصل کریں۔اپنے پاوں پہ کھڑے ہوں پھر ساتھ رہیں۔
محبت کی بھڑکتی آگ میں بچیاں اکثر ایسی غلطیاں کر جاتی ہیں۔مگر ان غلطیوں کو سدھارنا بھی تو ہم نے ہے ۔
نہ کہ بچوں کو غلطیوں کے لئے ماحول فراہم کرنا ہے۔
ظہیر گینگ ہے کوئی
یا دعا کی ہٹ دھرمی ۔۔۔۔
مگر ظہیر کی والدہ سب سے زیادہ قصور وار ہے۔
کچھ بھی ہو۔۔۔۔۔دعا کے والدین کا سڑکوں پہ یوں روتے دھکے کھاتے پھرنا۔۔۔۔ بیٹی کے تڑپنا
کبھی اسے خوش نہیں رہنے دے گا۔
عدالتی فیصلے سے بھی دل کچھ خاص مطمئن نہیں ہوا۔
یعنی کم عمر بچیاں گھر سے بھاگ کر فرار ہوں۔۔۔
گھومیں پھریں۔اور اپنی مرضی سے شادی کے نام پہ گلچھڑے اڑائیں۔
پھر یہ کچی عمر کے افراد کیسا سماج تشکیل دیں گے۔کھیلنے اور کئیریر بنانے کی عمر میں بچے جنیں گے اور انکے بچے بھی پھر یہی کچھ۔
یوں ہم دولے شاہ قوم اس کے سوا کیا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں