62

طبقاتی سیاست کی پہچان یوسف مستی خان


 انہوں نے  انتہائی نامساعد حالات اور بیماری کے باجود آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھی اور کھبی مایوسی کا شکار نہیں ھوا۔

 ان کو انقلابی نعروں کے ساتھ ان کے آبائی قبرستان  میوہ شاہ کراچی میں اپنے پردادا مستی خان کے  پہلو میں دفن کیا گیا ۔


تحریر منان باچا ایڈوکیٹ


 یوسف مستی خان  سولہ جولائی انیس سو اڑتالیس کو کراچی میں واجہ اکبر مستی خان کے گھر میں پیدا ھوئے۔ان کا تعلق بلوچوں کے مشہور قبیلے ” گورگیچ” سے تھا۔

 اس قبیلے کو کسی زمانے میں بلوچ تاریخ کے دراز قد شخصیت، قومی ہیرو اور نام ور بلوچی شاعر ” بالاچ ” کی وجہ سے بے حد شہرت اور عروج حاصل رہا۔

 بالاچ نہ صرف گورگیچ قبیلے کے سردار تھے بلکہ وہ بلوچ قبائیل میں ایک اھم کردار کے بھی حامل تھے۔

 بالاچ کی وفات کے بعد اس قبیلے کا شیرازہ بکھر گیا اور اس کے بڑی تعداد میں لوگ افغانستان ہجرت کرگئے جو قندھار کے گرد و نواح میں کرز کے علاقے میں آباد ہوگئے ۔


بھٹو کے دور میں جب دو صوبوں میں نشنل عوامی پارٹی کے حکومتوں کو ختم کیا گیا اور پارٹی پر پابندی لگاکر  بلوچستان پر فوج کشی کی گئی تو یوسف مستی خان نے ملازمت چھوڑ کر سیاست کے میدان میں آئے۔


 ڈھائی سو سال قبل اس قبیلے کے کچھ لوگ  افغانستان سے آکر”  قلات ” میں آباد ہوئے  جہاں سےکچھ لوگ بلوچستان کے  علاقے ” سبی ” میں آباد ہوئے جبکہ  یوسف مستی خان کا خاندان کراچی میں آکر آباد ہوا۔

ان کا شمار کراچی حکمران خاندان میں تھا ایک طرف ان کے والد واجہ اکبر مستی خان  ماہی گیری کے کاروبار اور فیکٹریوں کے مالک رہے تو دوسری ان کے چچا ستار مستی خان انگریزی حکومت میں خان آف قلات کے سفیر رہے۔

  یوسف مستی خان  نے ابتدائی تعلیم کراچی اور پھر مری میں حاصل کی ۔


انہوں نے باقاعدہ سیاست کا آغاز سردار شیرباز خان مزاری اور بی بی نسیم ولی خان کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سے کیا وہ اس جماعت کے کراچی کے صدر رھے


تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے ایک ملٹی نیشنل کمپنی "پاکستان برماشلز ” میں بحثیت منیجر ملازمت اختیار کرلی۔

 بھٹو کے دور میں جب دو صوبوں میں نشنل عوامی پارٹی کے حکومتوں کو ختم کیا گیا اور پارٹی پر پابندی لگاکر  بلوچستان پر فوج کشی کی گئی تو یوسف مستی خان نے ملازمت چھوڑ کر سیاست کے میدان میں آئے۔

 حکومت نے  ان کو اپنے چاچا عبدالستار مستی خان کے ساتھ بلوچ مزاحمت کاروں کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کرکے قلی کیمپ میں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

 انہوں نے باقاعدہ سیاست کا آغاز سردار شیرباز خان مزاری اور بی بی نسیم ولی خان کی قیادت میں نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی سے کیا وہ اس جماعت کے کراچی کے صدر رھے۔

بھٹو مخالف تحریک میں ان کا ایک کلیدی کردار رہا ہے۔ انھوں نے لیاری کے علاقے سے پیپلز پارٹی کے خلاف قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا لیکن جنرل ضیا نے یہ الیکشن نہی ھونے دئیے۔

 افغان انقلاب کے بعد وہ میر غوث بخش بزنجو کی قیادت میں بننے والی پاکستان نیشنل پارٹی سے وابستہ ہوئے اور آخری دم تک میر غوث بخش بزنجو کے نظریات پر قائم و دائم رہے۔

 انھوں نے تحریک بحالی جمہوریت میں نمایاں کردار ادا کیا اور جنرل ضیا کے حکومت میں  کئی مرتبہ قید وبند کا شکار رہے ۔


آپ انیس سو ترانوے  سے انیس سو چھیانوے  تک پاکستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر رھے اور اس حیثیت میں انہوں نے نشنل عوامی پارٹی کے طرز پر ایک بڑی پارٹی بنانے کی کوشش کی۔


بھٹو سے لے کر جنرل ضیا تک کی حکومتوں میں ان کے تمام کاروبار کو تباہ کیا گیا۔

  وہ قومی مسئلے کو طبقاتی مسئلے کے ساتھ جوڑ کر پاکستان میں سامراج مخالف جاگیرداری کے خاتمے اور محنت کش طبقات کے حقوق کی حصول کیلئے برسرپیکار رھے۔

 آپ انیس سو ترانوے  سے انیس سو چھیانوے  تک پاکستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر رھے اور اس حیثیت میں انہوں نے نشنل عوامی پارٹی کے طرز پر ایک بڑی پارٹی بنانے کی کوشش کی۔

 انہوں نے خان عبدالولی خان سے مسلسل ملاقاتیں کی اور ان کو اس بات پر قائل کیا کہ وہ سیاست سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیں۔ اور  ان تمام دھڑوں کو اکھٹا کرکے ان کے سربراہ بنیں۔

تاہم ان کی اس کوششوں کو کامیاب نہیں ھو نے دیا گیا۔ انیس سو ستانوے میں جب پاکستان نیشنل پارٹی کے ایک دھڑے  نے میر بیزن بزنجو کی قیادت میں بلوچستان نیشنل مومنٹ کے ساتھ مل کر سردار عطا اللہ مینگل کی سربراہی میں بلوچستان  نیشنل پارٹی بنائی تو یوسف مستی خان نے اپنی راہیں ان سے جدا کر دی۔ اور پاکستان نیشنل پارٹی کو منظم کیا۔

بعد میں بائیں بازو کی پارٹی پاکستان ورکر پارٹی سے انضمام کیا اور نیشنل ورکر پارٹی کے نام سے  نئی جماعت بنائی جس کے صدر عابد منٹو تھے اور یوسف مستی خان جنرل سیکرٹری تھے۔

بعد میں چار دیگر پارٹیوں نے نیشنل ورکر پارٹی سے الحاق کرکے عوامی ورکر پارٹی تشکیل دی جس کے پہلے صدر عابد حسین منٹو بنے اور دوسری سیشن میں فانوس گجر اس جماعت کے صدر اور یوسف مستی خان نائب صدر رہے۔


 انہوں نے  انتہائی نامساعد حالات اور بیماری کے باجود آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھی اور کھبی مایوسی کا شکار نہیں ھوا۔


فانوس گجر کے وفات کے بعد آپ  پارٹی کے قائم مقام صدر رھے اور اپریل دو ہزار بائس  کے لاہور میں منعقدہ مرکزی کنونشن میں ان کو مرکزی صدر چنا گیا۔

 وہ ایک لمبے عرصے سے کینسر کے عارضے میں مبتلا رہے لیکن انھوں نے کھبی بیماری کو خاطر میں نہیں لایا۔

 وہ کہتے تھے کہ میں ایک طرف اپنے جسمانی کینسر سےلڑ رہا ہوں  تو دوسری طرف معاشرے میں پھیلے ھوئے کینسر کے خلاف جدوجھد سے باز نہیں آؤں گا۔

ان پر اس خطرناک بیماری کے باوجود گوادر میں جانے پر پاپندی لگائی گئی اور ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ بناکر ان کو گرفتار کیا گیا۔

 انہوں نے زبردستی کراچی کے مقامی لوگوں کی زمینوں پر ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کی خلاف سخت مزاحمت کی اور ہر طرح سے ملک ریاض کا راستہ روکا۔


وہ کہتے تھے کہ میں ایک طرف اپنے جسمانی کینسر سےلڑ رہا ہوں  تو دوسری طرف معاشرے میں پھیلے ھوئے کینسر کے خلاف جدوجھد سے باز نہیں آؤں گا۔


 ان کو انقلابی نعروں کے ساتھ ان کے آبائی قبرستان  میوہ شاہ کراچی میں اپنے پردادا مستی خان کے  پہلو میں دفن کیا گیا ۔ یوسف مستی خان  نے ساری عمر محکوم اقوام اور محنت کش طبقات کیلئے جدوجہد کی اور ان کا کردار آنے والے نسلوں کیلئے مشغل کا کردار ادا کرے گا اور اس راہ پر چلنے والوں کو روشنی فراہم کرتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں