یکساں تعلیمی نصاب پر اٹھتے اعتراضات

یکساں تعلیمی نصاب کے لئے اقوام کے اہل دانش پر مشتمل کمیشن کا قیام ضروری ہے۔
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ شناخت وہی ہوتی ہے جسے نسل در نسل دل و دماغ قبول کرتے ہوں۔ مسلط شدہ شناخت تو میک اپ ہے جو گرمی کے پسینے اور بارش دونوں سے اتر جاتا ہے۔

Single National Curriculum

تحریر: حیدر جاوید سید

پشتو کی ایک کہاوت ہے ’’جنگ کے قصے بڑے شاندار اور خون گرمانے والے ہوتے ہیں مگر انجام کار دکھ، رنج، جدائیاں اور بربادی کے سوا کچھ نہیں‘‘۔
مجھے یہ کہاوت یکساں تعلیمی نصاب کے حوالے سے یاد آئی۔ یکساں تعلیمی نصاب کے قصے بھی بہت دلفریب ہیں لیکن انجام وہی ہوگا جو بالائی سطور میں عرض کیا۔
18ویں ترمیم کے بعد تعلیم وفاق کا معاملہ نہیں رہا۔ ہم سے طالب علم تو 18ویں ترمیم سے قبل بھی یہی عرض کرتے تھے تعلیم اقوام کی تاریخی، تہذیبی و تمدنی روایات سے خالی ہو تو دولے شاہ کے چوہے تخلیق ہوتے ہیں، عصری شعور والی نسلیں ہرگز نہیں۔
کیا کریں اس لیبارٹری میں ڈھنگ کا کوئی تجربہ گزشتہ 74برسوں سے ہوا ہی نہیں۔ جتنے تجربے ہوئے وہ الٹا گلے پڑگئے۔
یکساں تعلیمی نصاب کے ضمن میں پہلی بات یہ ہے میں ملتانی ہوں سو لازم ہے کہ میں چاہوں گا ملتان کی تاریخ پڑھیں میرے بچے۔ افغانوں، رنجیت سنگھ یا دوسرے حملہ آوروں کی نہیں۔
میرے بچوں اور بچوں کے بچوں کو علم ہونا چاہیے کس کس نے اس ہنستے بستے شہر کو ویران کیا، گلیاں کوچے لاشوں سے بھرے، لُوٹا، جلایا، مردوزن اور بچے غلام بناکر لے گیا،
لیکن ساعت بھر کے لئے یہاں رک جایئے۔
ہمیں اولاً تو یہ طے کرنا ہوگا کہ تاریخ کا مذہب اور عقیدہ نہیں ہوتا۔
ثانیاً تاریخ حملہ آوروں سے نہیں زمین زادوں سے شروع ہوتی ہے۔
ثالثاً مقامی مزاحمت کار حریت پسند ہوتے ہیں ڈاکو نہیں۔
جب تک ہم یہ تین باتیں طے نہیں کرلیتے آگے بڑھنا بیکار ہے۔
دوسری بات مکرر عرض کرنا چاہتاہوں وہ یہ ہے کہ مذہب اور عقیدہ فرد کا نجی معاملہ ہوتا ہے تاریخ کسی بھی سماج کی مشترکہ شناخت۔ ہم یہاں چوہتر برسوں سے الٹی گنگا بہاتے چلے آرہے ہیں۔ مذہب، عقیدے کو سماج کی شناخت بناکر پیش کررہے ہیں اور تاریخ کو نجی معاملہ کہہ رہے ہیں۔
یہ اس لئے ہے کہ متحدہ ہندوستان کا بٹوارہ ہماری یا یوں کہہ لیجئے انڈس ویلی کی اقوام کی تاریخ نگل گیا ہے۔ ساڑھے سات دہائیوں سے ہمیں تاریخ کے نام پر گھٹالے ازبر کروائے جارہے ہیں اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ یہی کہ ہماری کوئی سمت ہے نہ منزل۔
مثلاً نوازشریف دور میں فیصلہ آیا پیپلزپارٹی نے برطرف ملازمین کی پارلیمان کے ذریعے بحالی کا فیصلہ درست کیا۔ اب فیصلہ اس سے مختلف ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کے خلاف اپیل میں کون گیا تھا؟ یہ دو باتیں جاننے کی کوشش کیجئے ساری کہانی سمجھ جائیں گے۔ خیر یہ ایک مثال تھی۔ کچھ الگ سے لکھا ہے اس موضوع پر وہ بھی پڑھنے والوں کی خدمت میں پیش کروں گا۔

فی الوقت یہ کہ یکساں تعلیمی نصاب کے حوالے سے سندھ کا انکار درست ہے۔ سرائیکی وسیب کواس حوالے سے سندھ کی پیروی میں احتجاج ریکارڈ کرواناچاہیے۔
سندھی چونکہ فیڈریشن کی آئینی اکائی ہیں اس لئے انہوں نے 15اگست 1947ء سے مسلط ہوئے ہیرو اپنانے سے انکار کردیا یہ انکار بجا طور پر درست ہے۔ ہم سرائیکیوں کا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے اکثر دوست (سرائیکی قوم پرست) تاریخ اور عصری سیاست کو مذہب کا تڑکہ لگانے سے باز نہیں آتے۔ وہ رنجیت سنگھ کے مظالم کی مذمت کے لئے نواب مظفر خان کو ڈھال بنالیتے ہیں۔
مجھ طالب علم کے لئے رنجیت سنگھی ایمپائر اور افغان ایمپائر کی گورنری ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں۔ مذہب کی رعایت دینا تاریخ سے کھلواڑ کرنا ہے جس دن ہم شعور اور یقین کے ساتھ یہ بات سمجھ لیں گے جدوجہد کا نیا مرحلہ شروع ہوگا۔
یقیناً بہت سارے دوست بالائی سطور اور اس میں موجود فہم پر اعتراض کریں گے ان کا حق ہے۔ ہم اس پر مکاملہ اٹھالیتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ اپنی بات کیجئے کالم کا دامن حاضر ہے۔
ایک طالب علم کے طور پر میں تاریخ (اس خطے کی) کو بطور تاریخ دیکھنے، پڑھنے، سمجھنے اور پھر اس پر بات کرنے پر یقین رکھتا ہوں۔
وضاحت کے ساتھ عرض کردوں جناح صاحب کی 11اگست 1947ء والی تقریر جو انہوں نے دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس میں کی تھی، کو ہمیشہ دستور سازی کیلئے بیانیہ اس لئے کہتا ہوں کہ سیاستدان عوامی اجتماعات میں بھلے جو کہتے رہیں عمل کی دنیا پارلیمان میں دیئے گئے پالیسی ساز بیان (بیانات) سے شروع ہوتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ نصف صدی سے عرض کررہا ہوں ہمارا تعلیمی نظام اور مسلط شدہ تاریخ کے ساتھ خود دستور کی بعض شقیں جناح صاحب کے 11اگست 1947ء والے خطاب سے متصادم ہیں۔
یہ پانچ اقوام کی فیڈریشن ہے ہر قوم کی اپنی تاریخ اور تہذیبی روایات ہیں۔ یکساں نصاب تعلیم کا کہیں بھی یہ مطلب اور مقصد نہیں کہ اقوام کی تاریخ ان کے ورثے اور ہیروز سے انکار کردیا جائے اس لئے جو لوگ یکساں نصاب پر اعتراض کررہے ہیں ان کی بات سنجیدگی سے سنی جانی چاہیے۔
اختلاف رائے رکھنے والوں کے پلڑے میں ایک صوبائی حکومت کا وزن بھی شامل ہے۔ فیڈریشن کو دستوری اکائیوں اور اقوام کی آراء کا احترام کرنا چاہیے
ہم اگراپنے بچوں کو خواجہ غلام فریدؒ، شاہ لطیف بھٹائیؒ، بلھے شاہ، رحمن باباؒ اور مست توکلیؒ پڑھانا چاہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ میر، غالب، اقبال، انشااللہ خان انشا، جگر مرادی آبادی کا انکار کررہے ہیں۔
اصل میں ہم کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اپنی تاریخ، تہذیب و تمدن سے گندھے علم پر ہمارے بچوں کا پہلا حق ہے۔
مکرر عرض کئے دیتا ہوں یکساں نصاب کا مطلب جدید سائنسی علوم کا مشترکہ ہونا ہے۔ اسلامیات مشترکہ مضمون ہے لیکن ضروری ہے کہ اس کے مضامین اعتدال اور توازن سے عبارت ہوں صاف سیدھی بات یہ ہے کہ فرقہ پرستی کے تعصبات سے محفوظ ہوں۔
تاریخ خالصتاً مقامی مضمون ہے۔ حیران مت ہوں میں تاریخ کے اس حصے پر اعتراض اٹھارہا ہوں جس میں خوشحال خان خٹک، احمد خان کھرل، ساون مل، ہوش محمد شیدی اور دوسرے زمین زادوں کی بجائے بیرونی حملہ آوروں کی ثنا لکھی گئی ہے۔
مذہب یا عقیدہ کبھی بھی تاریخ پر مٹی پاو پروگرام نہیں دیتے ایسا ہوتا تو عرب اپنی تاریخ سے قبل از اسلام کا حصہ نکال پھینکتے۔ ایرانی تورانی لبنانی بھی یہی کرتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔
بدقسمتی سے یہ بیماری ہمارے یہاں ہی کاشت ہوئی اور اس کی فصل مرغوب غذابھی بن کر رہ گئی۔
آخری بات یہ ہے کہ یکساں تعلیمی نصاب کے لئے اقوام کے اہل دانش پر مشتمل کمیشن کا قیام ضروری ہے۔
سمجھنے والی بات یہ ہے کہ شناخت وہی ہوتی ہے جسے نسل در نسل دل و دماغ قبول کرتے ہوں۔ مسلط شدہ شناخت تو میک اپ ہے جو گرمی کے پسینے اور بارش دونوں سے اتر جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے