عاصمہ جہانگیر 111

عاصمہ جہانگیر کی بصیرت کا کرشمہ

بامِ جہاں


عاصمہ جہانگیر سماجی فعالیت، حق و انصاف، صنفی تعصب کے تدارک کی جدوجہد، ظلم و استبداد اور آئین و قانون کی سربلندی کیلیئے نڈر اور بے خوف زندگی کا نام ہے۔
یہ سب عاصمہ جہانگیر کی سیاسی بصیرت سے بھرپور شخصیت کا کرشمہ ہے کہ باوجود زندگی کی بازی ہار جانے کے لاہور میں ان کے نام سے منصوب آج شروع ہونے والی کانفرنس میں ان کی بیباک جدوجہد کی بلند آوازیں سننے اور دیکھنے میں آئیں۔
علی احمد کرد کی شعلہ بیانی اپنی جگہ لیکن تقریر میں ان کا یہ کہنا کہ ملک مٹھی میں دبی ریت کی طرح ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہے بے حد معنی خیز اور خصوصا” عدلیہ کیلیئے چشم کشا تھا۔ اس تلخ لیکن سچ کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ کی تائید نے مزید تقویت دی۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی تقریر ردعمل سے بھرپور تھی لیکن حاضرین کی اتنی بڑی تعداد اور ان کے بیحد معنی خیز نعروں کی موجودگی میں جوابی تقریر کو اس لحاظ سے مثبت سمجھنا چاہیئے کہ جس طرح دفاعی محکموں کے بارے میں براہ راست نام لینے کے بجائے عرفیت کا استعمال مثلا” خلائی مخلوق، خفیہ ہاتھ وغیرہ ترک ہو کر براہ راست نام لینے کی روایت پڑ چکی ہے، اسی طرح عدلیہ اور اس کے فیصلوں کے بارے میں کھل کر اظہار رائے کا دور بھی شروع ہو چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ علی احمد کرد کی تلخ نوائی اور مجمع کے جذباتی نعروں کے درمیان چیف جسٹس نے کھڑے رہنا مناسب سمجھا، آنے والے وقت میں اس صورتحال میں تیزی آئے گی اور عاصمہ جہانگیر کی یاد تازہ کرتی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں