بلتستان کل جماعتی کانفرنس: نلتر واقعہ کی مذمت؛ علاقے میں فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ


اسکردو-کارگل، دیوسائی روڈ کھولنے، جگلوٹ -اسکردو روڈ پر ٹنلز کی بحالی؛ تعلیم، صحت، مواصلات اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی، کا مطالبہ

بام جہان رپورٹ

اسکردو، مارچ 28: گلگت بلتستان ایک پر امن خظہ ہے جو مزید بد امنی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ حکومت اور سیکوریٹی اداروں کو چاہئے کہ وہ گلگت بلتستان میں امن کے دشمنوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر سزا دلائی جائے۔ اسکردو -کارگل روڈ کو کھولنے اور بچھڑے ہوئے خاندانوں کو ملنے کا موقع دیا جائے۔ بلتستان میں سڑکوں، بجلی ، صحت اور تعلیمی شعبے کو بہتر بنایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں نے اتوار کے روز اسکردو میں منعقدہ کل جماعتی کانفرنس میں کیا جس کا انعقاد سول سوسائٹی بلتستان نے کیا تھا ۔ کانفرنس میں تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، گلگت بلتستان اسمبلی کے اراکین، مذہبی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کیں اور گلگت بلتستان میں امن کے قیام کو یقینی بنانا اور مسافروں کی جانوں کے تحفظ کو یقینی بناے پر زور دیا گیا۔
کانفرنس سے پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی غلام شہزاد آغا ، شیخ ذوالفقار ، مولانا عارف ، مولانا سہیل نواز مولانا محمد یحییٰ ، بشارت غازی ایڈووکیٹ، شیرین فاطمہ، شجاعت حسین، غلام حسین اطہر صدر انجمن تاجران کے علاوہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور تاجروں کے انجمنوں کے ذمہ داران نے خطاب کیا اور متفقہ قرارداد یں منظو رکئے۔
شرکاء نے نلتر واقعہ کی مذمت کی اور اس میں مرنے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے واقعے میں ملوث عناصر کو گرفتار اور سخت سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
انہوں نے اس واقعہ کی آڑ میں شر پسند اور مفاد پرست عناصر کی جانب سے پورے خظے میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی کوشیشں اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد شائع کرنے کی بھی مذمت کی اور حکومت اور ریاستی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قسم کے عناصر کی حوصلہ شکنی کریں اور ان کے عزائم کو ناکام بنا دیں۔

مواصلات

شرکا نے گلگت بلتستان اسمبلی کارگل-اسکردو روڈ کھولنے کے متفیقہ قرارداد کی روشنی میں جلد از جلد اس اہم راہداری کو کھولنے کا بندوبست کیا جائے تاکہ کئی دہائیوں سے بچھڑے ہوئے خاندان ایک دوسرے سے مل سکیں اس سے سیاحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
ایک قرارداد کے ذریعے جگلوٹ -اسکردو روڈ کی کستہ حالی پر بھی تشویش کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اہم شاہراہ موت کا کنوں بن چکا ہے آئے دن حادثات رونما ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں اب تک گزشتہ ایک سال کے دوران 100 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔بار بار سڑک کے خراب اور آمدورفت منقطع ہونے سے بلتستان کے عوام کو شدید مشکلات اور پریشانی کا سامناکرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے سیاحت اور معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس روڈ پر سرنگوں کو ختم کرنے سے اس کی افادیت ختم ہو گئی ہے۔ انہوں نے متعلقہ ادارہ نیشنل ہائے وے اتھارٹی سے مطالبہ کیا کہ دوبارہ سرنگوں کو بحال کریں، اس روڈ کو عالمی معیار اور شاہراہ کے قوانین کے مطابق بنا یا جائے۔
مقررین کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سڑک مسافروں کے لئے محفوظ نہیں ۔ گلگت بلتستان کے کسی بھی کونے میں کوئی ناخوشگورا واقعہ پیش آتا ہے تو شاہراہ ریشم بند ہو جاتا ہے جس سے مسافروں کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس شاہراہ کی طویل بندش اب روز کا معمول بن گیا ہے ۔ مسافروں کی جانیں محفوظ نہیں ، درجنوں دہشت گردی کے واقعات رونما ہو چکے ہیں ۔
شرکاء نے شاہراہ ریشم کے متبادل شونٹر پاس سڑک پر جلد از جلد کام کا آغاز کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے دیو سائی روڈ کو جلد از جلد تمام ٹریفک کے لئے بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ جگلوٹ-اسکردو کے مرکزی شاہراہ کے بار بار بند ہونے سے ہمیشہ پیٹرولیم کی مصنوعی قلت کا سامنا ہوتا ہے ۔ اسلئے بلتستان میں پیٹرولیم کا ڈپو قائم کیا جائے۔

ٹیلی مواصلات

گلگت بلتستان کے بہت سارے دیہات ٹیلفون اور ینٹرنیٹ کی سہولتوں سے محروم ہیں۔ جب کہ اسکردو میں نیٹ کی رفتار 2 جی کے برابر بھی نہیں۔ انٹرنیٹ کی بار بار بندش اور سگنل کا بار بار غائب ہونا روز کا معمول بن چکا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کی بلتستان کو عالمی معیار کے مطابق مواصلاتی سہولیات فراہم کیا جائے۔ جہاں جہاں موبائل کی سہولیات نہیں ہے وہاں ٹاورز کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے۔

توانائی کا بحران

مقررین نے کہا کہ بلتستان میں بڑھتی ہوئی آبادی اور توانائی کے ضروریات میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کا بحران شدید تر ہوتا جا رہا ہے ۔ مگر عرصئہ دراز سے بلتستان ڈویزن میں توانائی کا کوئی بڑا منصوببہ شروع نہیں کیا گیاہے ۔ جس کی وجہ سے اسکردو اور اس سے ملحقہ علاقوں کے لوگوں کو 22 گھنٹے کی بد ترین لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جس کی وجہ سے لوگ سڑکوں پر نکلنے کے لئے مجبور ہوتے ہیں۔
شرکا نے مطالبہ کیا کہ شگرتھنگ، ہرپوہ ، غواڑی، پاور پراجیکٹس پر کام شروع کیا جائے۔، شتونگ نالہ کا پانی اسکردو لانے کے لئے اقدامات اٹھایا جائے۔
انہوں نے اس امر بھی افسوس کا اطہار کیا کہ اسکردو بلتستان ڈویزن کا ہیڈکوارتر ہونے کے باجود اس کی سڑکیں کھنڈرات بن چکی ہیں اور گاڑیوں کے چلنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسکردو کے تما م سڑکوں کی مرمت اور پختگی کا کام اور ٹینڈر شدہ سڑک جس پر آٹھ مہنے سے کام نہیں ہو رہا ہے اس پر کام شروع کیا جائے اور جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ اسکردو بائ پاس روڈ کو نقشہ کے مطابق مکمل کیا جائے۔

تعلیم

شرکاہ نے کہا کہ اسکردو میں شگر، خپلو، کھرمنگ، روندو، اور گلتری کے طلباء و طالبات کے لئے صرف ایک ایک ڈگری کالج ہے جس میں دوسری شفٹ چلانے کے باوجود ظلبا کی کثیر تعداد داخلے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسکردو میں دو مزید ڈگری کالجز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ روندو میں بھی ایک کالج قائم کریں۔
ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ اسکردو میں فل فور ایک میڈیکل کالج اور ایک انجنئرنگ کالج کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ غریب طلباء و طالبات کو بھی گھر کی دہلز پر تعلیمی سہولیات میسر ہوں اور انہوں دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے۔

صحت کے مسائل

شرکاءکا کہناتھا کہ بلتستان میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہے۔ واحد ہسپتال آر ایچ کیو پر شدید دبا ؤہے جہاں شگر خپلو، روندو، گلتری اور گلگت بلتستان کے تمام علاقوں کے مریض آتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریجنل ہیڈکوارٹرز ہسپتال اسکردو کو ایک ہزار بستروں کا بنا کر اس میں جدید طبی آلات کی تنصیب کو یقینی بنایا جائے اور یہاں تربیت یافتہ ٹیکنیشنز کو تعینات کیا جائے۔ بلتستان کے تمام اور تحصیلوں میں ہسپتال قائم کیا جائے۔
بلتستان بھر میں مختلیف سرکاری اداروں کے عمارات اور دفاتر تعمیر ہونے کے باوجود ان کے پی سی 4 ابھی تک منظور نہیں ہوا ہے۔ جس سے عوم کو کافی مشکلات کا سا منا ہے۔ اسکولوں اور ڈسپنسریوں میں اساتذہ اور عملہ کی شدید قلت ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام مکلم شدہ اسکیموں کا پی سی 4 منظور کیا جائے۔
شرکاء نے بلتستان کو غیر میعیاری گندم کی فراہمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا جس کے کھانے سے لوگوں میں پیٹ کے امراض میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حفظان صحت کے معیار کے مطابق گندم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں