بوائے کرائسز کی وجوہات

تحریر: ندا اسحاق

آپ کسی بھی والدین یا ٹیچر سے پوچھیں انکے بچے تعلیمی میدان میں کیسی کارکردگی دکھا رہے ہیں. بیشتر کا جواب یہی ہوتا ہے "لڑکیاں اچھا پڑھ لیتی ہیں لیکن لڑکوں نے نہ پڑھنے کی قسم کھا رکھی ہے اورانکے رویئے کو کنٹرول کرنا بھی ایک الگ عذاب ہے.“
چونکہ اکیسویں صدی تعلیم اور ٹیکنالوجی کی صدی تصورکی جاتی ہے جہاں دونوں چیزیں نہ صرف ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکے ہیں بلکہ ہمارے نفسیات پرحاوی ہوچکی ہیں- تعلیم کوسماجی شعوراورآگہی کے حصول کا ذریعہ بنانے کی بجائے معاشی فائدے اورمقابلہ بازی کا ذریعہ بنایا گیا ہے. جس کے نتیجے میں نوجوان نسل میں نفسیاتی دبائو اوربیماریوں میں خطرناک حد تک اظافہ ہوگیا ہے – ہمارے جیسے پدرسرئ سماج میں تو امتحان کو بھی غیرت کا مسئلہ بنایا گیا ہے.
مستقل فیل ہونے والے بچے یا پسند کی یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے پراکثرطالبعلم ڈپریشن میں مبتلاہو جاتے ہیں یا خودکشی جیسے انتہائی قدم آٹھانے سے بھی نہیں کتراتے ہیں.
ہماری خوشیوں، خوابوں، کامیابی اورشخصیت کو بھی ہماری سرٹیفیکیٹ سے ماپا جاتا ہے. اب ایسے میں جب بچے اس پاگل پنے کی مقابلہ بازی میں کسی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں تو والدین کا فکرمند ہونا فطری بات ہے.

Boy-sad-depressed-School-Life-Pre-teen-Teenager-Crisis-900

ترقی یافتہ ممالک میں اس وقت تعلیمی میدان میں بری پرفارمنس اور رویے کو "لڑکوں کا بحران” (boy crisis) کہا جاتا ہے ناس مسئلہ پر کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں. ماہرِین تعلیم، اور صنفییات (gender studies) کے ماہرین کی تحقیق اوراعداد و شمارسے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ لڑکیوں نے لٹریچر سے لے کر سائنس اور ریاضی (جو خاص مردوں سے وابستہ مضامین مانے جاتے ہیں) میں لڑکوں سے بہت بہتر نتائج دیے ہیں. اس صدی میں یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیمی ڈگریاں حاصل کرنے والی خواتین کی تعداد مردوں کی نسبت زیادہ ہے. (پریکٹیکل فیلڈ میں یہ تعداد کم کیوں ہے یہ ایک علیحدہ بحث ہے). جہاں gender pay gap کم ہوتا جارہا ہے وہاں gender education gap وسیع ہوتا نظر آرہا ہے.
اوسلو میں منعقیدہ تعلیم و ترقی کانفرنس (Oslo Summit On Education and Development 2015) نےپاکستان کو تعلیمی کارکردگی کے حوالے سے بدترین ملک قرار دیا ہے. یہاں بلاشبہ نہ صرف اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد کم ہے بلکہ لڑکے بھی اس بنیادی عیاشی سے محروم ہیں.
ہم بات کریں گے ان والدین کی جو اپنے بچوں کے لیے بہترین یا اپنی استطاعت کے مطابق اسکولوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں. پنجاب ایجوکیشن سیکٹر پروگرام (PSEP) کی ایک ریسرچ رپورٹ سے بھی اس بات کی تصدیق ہوئی ہے- اسکولوں میں زیرِ تعلیم طلبہ کی کارکردگی تمام مضامین ماسوائے ریاضی، جس میں زیادہ نہیں بس انیس بیس کا فرق آیا ہے، میں مخالف جنس کی نسبت بہت بہتر ہے.

محض تعلیم ہی نہیں بلکہ رویے اور social skills میں بھی لڑکوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے. یوں اچانک اس صدی میں لڑکوں کے رویے اورکارکردگی پراعتراضات کی بھرمارکی کیا وجوہات ہیں؟ کیا ان مسائل کو زیرِبحث لانا وقت کی ضرورت نہیں ہے، تاکہ آنے والے وقتوں میں اس gender gap کے ہولناک نتائج سے بچا جا سکے؟
وجوہات یقیناً ان گنت ہیں. لیکن چونکہ boy crisis ایک بین الاقوامی مسئلہ کی حیثیت اختیار کر گئی ہے-اسلئے اس مسئلہ پر ماہرین مختلف نظریات اور آراء پیش کرتے ہیں.
سیکھنے اورسکھانے سے وابستہ افراد کی تحقیق کے مطابق اکیسویں صدی کی کلاس رومز کوکچھ اس طرح سے ڈیزائن کرنا چاہئے کہ اس میں اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے بچے کا از خود پابند (self-regulatory) ہونا ضروری ہے. یعنی گھنٹوں ایک ہی جگہ بیٹھ کرلیکچرسننا، اسے باقاعدگی سے نوٹ کرنا، نظم و ضبط اورہدایات کی پابندی کرنا،اکتاہٹ (boring) اورجنجھلا دینے (frustrated assignments) کام کو وقت پرمکمل کرنا، منظم رہنا لڑکوں کے لیئے بہت ضروری ہے-
ماہرین کے مطابق کلاس رومز لڑکیوں کے حق میں بہتراورلڑکوں کے لیے بوریت کا سامان ہیں.
تربیتی عناصر پراگرغورکیا جائے تومعاشرے میں اولاد نرینہ کی socializing کے طورطریقے کچھ اس طرح سے تشکیل دیے گئے ہیں ان کے لیے اسکول ایک عدم دلچسپی کی جگہ ثابت ہوتی ہے، خالص مردانگی (masculinity model) اور پدرسری (Patriarchy) کے زیرِاثر پنپنے والے آزاد ذہنوں کے لیے اکیسویں صدی کی تعلیم گاہ کسی جیل سے کم نہیں. مردوں کے حقوق سے وابستہ کچھ تحریکوں نے اس بحران کی وجہ صنفیت (feminism) کو قراردیا ہے. انکا ماننا ہے موجودہ دور کے اسکول اورنصاب خالص فیمنسٹ (feminist) اصولوں پرنافذ ہیں جس کی وجہ سے طالب علموں کو کلاس رومز میں مشکلات کا سامنا ہے، فیمنسٹ مائنڈ کی ٹیچرز کا رویہ لڑکوں کی طرف جانبدارانہ ہے. ان تحریکوں نے کلاس رومز کو boy-friendly بنانے کی تجاویز بھی پیش کی ہیں.
پاکستان سمیت دنیا بھر میں شعبہ تعلیم سے وابستہ مرد اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے، خاص کرkindergarten اورابتدائی تعلیم میں مردوں کی شراکت تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے. لڑکوں میں پڑھنے لکھنے کے فقدان اورعدم دلچسپی کو اوائلی سالوں میں کلاس رومز میں مرداساتذہ کا بحیثیت ایک رول ماڈل (role model) موجود نہ ہونا بھی مانا جارہا ہے . بچوں میں پائی جانے والی معذوری (جن میں antisocial behavior, attention disorders, autism spectrum disorders, dyslexia, stuttering, delayed speech) کی شرح لڑکوں میں زیادہ ہے، جس کی وجہ سے انہیں خاص توجہ اورروایتی اندازسے ہٹ کر پڑھانے کی ضرورت ہے.
اکیسویں صدی میں معیشت اور سائنس نے muscles سے microchip کا جو سفر طے کیا ہے اس کے اثرات مردوں پر بہت منفی حد تک پڑے ہیں. سیلف ڈرائیونگ گاڑیاں اور ہیوی مشینری کے ہوتے ہوئے اب محنت اورمشقت کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں رہی ہے. اس تبدیلی کی بدولت اعلیٰ تعلیم کے بغیر اچھی نوکری کے ملنے کا تصورمانند پڑرہا ہے. یہی وجہ ہے اس مسئلے پر عالمی سطح پرغورکیا جا رہا ہے.
ترقی یافتہ ممالک میں طلاق کی شرح بہت زیادہ ہے، بچے (خاص کر لڑکے) ماں باپ کی علیحدگی کی وجہ سے father-figure یعنی والد کے کردار کو بھر پور طریقے سے سمجھنے اور محسوس کرنے سے قاصر رہتے ہیں جس کی بدولت ان میں تشدد، خود اعتمادی کی کمی اوربرے گریڈزدیکھنے میں آئے ہیں. اس بحران کی وجہ male-parent کا لڑکوں کی زندگی میں بھرپور کردار ادا نہ کرنا بھی خیال کیا گیا ہے.
پاکستان میں طلاق کی شرح بہت کم ہے لیکن مرد حضرات کا بچوں کی تربیت میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے کیونکہ انہیں اپنی سوشل سرگرمیوں سے فرصت کم ملتی ہے اور ہماری سوسائٹی میں اسکا کوئی تصور بھی موجود نہیں. اب تو سوشل میڈیا نے صورتحال کو اور بھی گھمبیر ہیں بنا دیا ہے.
مسائل ہوں اوراس میں میڈیا کا منفی کردارشامل نہ ہو، یہ ہرگز ممکن نہیں…نوعمربچے جب فلموں یا ڈراموں میں دیکھتے ہیں کلاس کا سب سے cool dude ایک بہت ہی لاپرواہ لڑکا ہے، ٹیچرز سے بدتمیزی کرتا ہے، بیک بینچر ہے، پڑھائی سے اسکا دور دورتک کوئی واسطہ نہیں، اسکول سے بھاگ جانا فیشن بن گیا ہے، لڑنے جھگڑنے میں نمبر ون، لڑکیوں پرsexist جملے بازی کرتا ہے لیکن پھر بھی لڑکیاں اسی کو پسند کرتی ہیں. اسکی نسبت جو لڑکا پڑھتا ہے اوراچھا رویہ رکھتا ہےکلاس میں وہ بزدل(sissy) ہے اوراس سے لڑکیاں بھی متاثر نہیں ہوتیں. یہ فارمولا فلموں میں شاید کامیاب ہو لیکن حقیقی زندگی میں شدید ناکامی اور پیچدہ مسائل کا سبب بنتے ہیں .
والدین، پالیسی ساز اوراساتزہ، ان تینوں کے کردار کے بغیر اس مسئلے کا حل تلاشں کرنا ممکن نہیں- ہمیں اپنی بیٹیوں کی کامیابی پر بہت خوشی ہے لیکن ہمیں اپنے بیٹوں کے مسائل پر بھی نظر رکھنی ہوگی.اس پر بات کرنا بہت ضروری ہے، ایک جنس پر ٹوٹنے والے مسائل کا اثر یقیناً مخالف جنس پر بھی پڑتا ہے-

اپنا تبصرہ بھیجیں