گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 21، عوامی و مذہبی اجتماعات پر پابندی

گلگت بلتستان میں تمام ہوٹلوں، مارکیٹوں اور دوکانوں کو بند رکھنے کا حکم؛  اسکردو میں تمام ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسیز کو قرنطینہ کی نگیداشت مرکز میں تبدیل

رپورٹ: عنائیت ابدالی

گلگت: گلگت بلتستان میں کورونا کے آٹھ مزید مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے جس سے اب تک مجموعی طور پر مریضوں کی کل تعداد 21 ہوگئی ہے۔

محکمہ اطلاعات نے اس حوالے سے تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ تا فتان بلوچستان سے آئے ہوئے زائرین کوحکومت گلگت بلتستان نے سکردو،نگر اور گلگت کے مختلف ہوٹلوں میں 14 دن مکمل ہونے تک قرنطینہ میں رکھا ہے تاکہ ان کی بہتر نگہداشت ہو اوروہ اسکریننگ کےعمل سے گزر سکیں۔

اس سے قبل مشتبہ مریضوں کے خون کے نمونے اسلام آباد میں قومی ادارہ برائے صحت (این۔آئی۔ایچ) بھجوائے جاتے تھے اب تمام ٹیسٹ ضلعی ہیڈ کوارٹرز ہسپتال گلگت میں ہی تربیت یافتہ ڈاکٹر کررہے ہیں۔

ان مریضوں کے نمونےڈسٹرکٹ ہسپتال گلگت میں ٹیسٹ کیئے گئیے جن میں سے 8 لوگوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کے بعد ان کو فوری طور پر گلگت میں قائم مخصوص کمرہ میں منتقل کردیا گیا ہے جہاں پر محکمہ صحت کا عملہ ان کی بہترین نگہداشت پر مامور ہیں ۔

گلگت بلتستان کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ ایران اور دوسرے متاثرہ ممالک سے واپس آنے والے لوگوں کوعارضی طور پر بنائے گئے قرنطینہ جو پرائیویٹ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاوسیسز میں بنائے گئے ہیں، میں رکھا جائیگا۔

خیال رہے کل تک کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 13 تھی ان کو بھی علٰحدہ کمرہ میں رکھا گیا ہے ۔

درین اثناء گلگت بلتستان کی انتظامیہ نے کورونا وائرس سے متاثرین کی تعداد میں پریشان کن حد تک اضافہ کے پیش نظر تمام عوامی، مذہبی اور سماجی اجتماعات ، جلسہ، جلوسوں اور میلوں پر پابندی عائد کی ہے۔

گلگت بلتستان کے ہوم سیکریٹری چوہدری محمد علی رندھاوا نے جمعرات کو ایک نوٹیفکیشن کے زریعے تمام ہوٹلوں، موٹلوں،
گیسٹ ہاوسیز، کمرشل مار کیٹوں، دوکانوں، کھیل کود ، اسنوکر کلبوں، ورزش کے مراکز ، نائی کی دوکانوں، بیوٹی پارلرز، تعلیمی اداروں، دینی مدارس، ٹیوشن سینٹرز، ، شادی ہال، اور پبلک پارکوں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔

اعلان نامہ کے مطابق ہر قسم کےکھیل کود کے مقابلے ، نوکریوں کی بھرتیاں، انٹرویوز، اور امتحا نات بھی ملتوی کئے گئے ہیں۔
تاہم بنیادی ضروری اشیاء جن میں دوائوں، کھانے پینے کی بنیادی اشیاء کی دوکانیں ، گوشت، اور سبزی کی دوکانیں اور وہ ہوٹلیں جو انتظامیہ کو درکار ہیں کھلی رہیں گے۔

اس نوٹیفیکیشن کے تحت ماسک اور سینیٹائزرز کی ذخیرہ اندوزی اور مہنگے داموں بیچنے کو خلاف قانون قرار دیا گیا ہے ، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائیگی۔

بلتستاان ڈویژن کے انتظامیہ نے بھی ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے تمام ہوٹلوں، موٹلز، ریستوران اور گیسٹ ہاوسوں کو سرکاری تحویل میں لے کر عارضی قرنطینہ میں تبدیل کیا ہے جہاں ایران اور دیگر متاثرہ ممالک سے آنے والے کورونا وائرس کے مریضوں کو دو ہفتوں کے لئے رکھا جایئگا۔ اس حکم نا مہ پر فوری عملدرآمد ہوگا۔

گلگت بلتستان کی حکومت کے ترجمان فیض ا للہ فراق نے ان فیصلوں کی تصدیق کرتے ہوئے بام جہان اور ہائی ایشیاء ہرالڈ کے نمائیندے کو بتایا کہ اس وباء سے بچاو کی خاطر اور صحت عامہ کے پیش نظر سیاحوں کی علاقے میں داخلے پر 21 دنوں کے لئے پابندٰ عائد کی گئی ہے ۔

سیکریٹری اطلاعات فدا حسین نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ محکمہ صحت کے بتائے ہوئے رہنما اصولوں پر سختی سے کاربند رہیں تاکہ یہ وباء مزید نہ پھیل سکے ۔

انہوں نے ان تمام مریضوں کے رشتہ داروں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان سے ملنے جلنے سے اجتناب کریں ۔

ٍفدا حسین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں اور گردونواح میں صفائی کا خاص خیال رکھیں اور ہر کسی سے میل جول سے گریز کریں۔عوام کو بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

سیکریٹری اطلاعات نے کورونا وائرس کے روک تھام اور احتیاطی تدابیر سے متعلق کہا ہے کہ حکومت قومی نشریاتی ادارے ،مقامی کیبلز اور اخبارات کے ذریعے عوام میں اس وباء کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے،۔

خیال رہےیہ وائرس اب تک کئی ممالک میں پھیل چکا ہے اور دو لاکھ سے زائد لوگوں کو متاثر کر چکا ہے. اس وباء سے اب تک آٹھ ہزار سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ پاکستان میں اب تک تین سو کے قریب لوگ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور خیبر پختونخواء میں دو ہلاکتوں کی خبر آئی ہے۔

کورونا وائرس سے نمٹنے کا عوامی منصوبہ

پاکستان کی حکومت اور سیاسی پارٹیان اس مہلک ترین وباء سے نمٹنے کے لئے ابھی تک سنجیدہ نہیں دکھا رہے ہیں۔ بائیں بازو کی عوامی ورکرز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے ایک جامع عوامی منصوبہ ترتیب دی ہے۔

اے ڈبلیو پی کے پلان کے مطابق "کورونا وائرس کی وبائی مرض جس کو  انسانیت  نے صدیوں میں بھی نہیں دیکھا ہے، نے دنیا اور پاکستان کو شدید  ترین طبی، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی بحران سے دوچار کر  دیا ہے۔ اس وقت  جب کہ حکومتیں اور سیاسی رہنماء  عالمی سطح پرسر جوڑ کے سوچ رہے ہیں کہ کیا کیا جائے، اس متعدی مرض  سے  بڑے پیمانے پر ہلاکتیں، بے روزگاری اور عالمی معاشی بدحالی کے امکانات میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہیں ۔

"بہت سارے ممالک جو اس وائرس کی ‘کم’ شرح اموات’  (صرف 2 سے 3 فی صد) کی افواہوں کی وجہ سے دھوکا کھا گئے،بر وقت اس کے سد باب میں ناکام دکھائی دیتے ہیں- ان کو یہ نہیں  معلوم تھا کہ یہ اب تک کی سب سےخطرناک  متعدی  مرض ہے جو بہت  تیزی کے ساتھ چند ہفتوں میں وسیع تر انسانی آبادی میں پھیل جاتا ہے جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر ہلاکتں ناگزیر دکھائی دیتا ہے”-

اس پلان کے مطابق دوسرے ممالک کی طرح پاکستان  میں بھی اسں وائرس نے ہمارے سیاسی، معاشی اور صحت کے ڈھانچوں  کی ٹوٹ پھوٹ اور بوسیدگی  کو بالکل بے نقاب کردیا  ہے۔ کئی سالوں سے اس ملک پر مسلط  جدید  نوآبادیاتی پالیسیوں نے عدم مساوات کو بڑھاوا دینے اور عوامی بنیادی سہولتوں  کے ڈھانچے کو سخت کھوکھلا کردیا ہے۔ یہ نظام اب اس  وبائی مرض کے دباؤ کے نتیجے میں زمین بوس ہو تا دکھائی دے رہا ہے ۔  منافع خوری کی بے مہار حوس اور انفرادیت پسند ی اور خود غرضی  نے ا س قسم کے بحرانوں سے نمٹنے میں اس نظام  کی مجرمانہ غفلت کو بے نقاب کیا ہے۔ ایران اور اٹلی جیسے ممالک جو وقت گزرنے کے ساتھ وباء پر قابو نہیں پاسکے اب تباہی کے قریب پہنچ  چکے ہیں، انہیں ہزاروں  بلکہ لاکوں افرادکی موت اور مجموعی طور پر معیشت کے خاتمے کا سامنا ہے-

صرف  چین، جنوبی کوریا اور تائیوان جیسے ممالک ،جنہوں نے شہروں اور آبادیوں کے گرد مکمل حصار قا ئم کر کے آمدورفت پر پابندی لگائی، وسیع پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ کروائے اورسماجی میل ملاپ سے فاصلہ رکھنے اور اجتماعات میں شرکت سے اجتناب جیسے اقدامات  کے ذریعے  کسی حد تک اس وباء کوپھیلنے سے  روکنے میں کامیاب  دکھائی دیتے ہیں  –

ایران جیسے ممالک، جن کی قیادت نےابتداء میں اس وباء کے بارے میں معلومات کو دبانے اور مذہبی اجتماعات کو جاری رکھا اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کے خطرہ کے پیش نظر لاک ڈاؤن نہیں کیا، اب وہ آئی ایم ایف سے 5 ارب  ڈالر کی ہنگامی امداد اور لاکھوں افراد کے موت کے امکانات کو اجاگر کرنے کی بات کر رہی ہے ۔

امریکہ، برطانیہ اور یورپ میں بھی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہو رہی ہے، ان کے صحت کا ڈھانچہ  (انفرا سٹرکچر ) چند ہفتوں کے اندر اندر اس وباء سے نمٹنے میں ملکل بے بس ہوتا دکھائی دے رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ  نئی ویکسین کو تیار ہونے  میں کم از کم  18مہنے  لگ  سکتے ہیں  اس دوران حکومتوں کو  سخت اقدامات اٹھانا ہوں گے۔

اے ڈبلیو پی نے اپنے دستاویز میں تجویز پیش کی ہے کہ "اگر پاکستان اپنی کھوکھلی معیشت اور کمزور ترہن صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ اس بحران کے دبائو  کو سہنا چاہتی ہے تو اس کے لئےاسے سخت ترین، اور بروقت اقدامات اٹھانےہونگے جو بحران کے وسعت سے مطابقت رکھتا ہو اور لوگوں، با لخصوص آبادی کے کمزور ترین حصوں  عمر رسیدہ شہریوں، بیمار اور غریب لوگوں اور شعبئہ صحت کے کارکنوں کو تحفظ  دیتا ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں