‘پاکستان کواقتصادی سفارتکاری پر زیادہ توجع دینے کی ضرورت ہے’

ماہرین نے وزیرِ خارجہ کے حالیہ دورہ ایران و سعودی عرب کو غیر دانشمندانہ قرار دیا؛ پاکستان کو جیو اسٹریٹجک شراکت داری سے اقتصادی شراکت داری کی طرف جانا ہو گا

بام جہان رپورٹ

اسلام آباد: موجودہ علاقائی منظرنامے میں پاکستان کے سفارتی اقدامات اور پوزیشن میں حکمت عملی، اسٹریٹجک وژ ن اور صلاحیت کا فقدان دکھائی دیتا ہے۔ مشرق وسطی کے بحران میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے حالیہ دورےایران اور سعودی عرب غیر دانشمندانہ اور غیر ضروری تھا، باوجود اس حقیقت کو جانتے ہوئے کہ مشرق وسطی کی صورتحال نہ ہی بگڑے گی اور نہ ہی پاکستان اس میں کوئی خاص کردار ادا کر سکتا ہے ۔
ان خیالات کا اظہار سفارتکاروں، اور خارجہ امور اور علمہ سیاست کے ماہرین نے گزشتہ دنوں ایک مذاکرہ بعنوان "تبدیل شدہ عالمی طاقت کے تناظر میں پاکستان کے لئے پالیسی کے نئے امکانات‘ جس کا اہتمام ادرہ برائے پایئدار ترقی اور پالیسی (ایس ڈی پی آئی) نے کیں تھی، میں کیں.
بھارت میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا کہ بدقسمتی سے پا کستان کے خارجہ پالیسے اور بیرون دنیا سفارتی مشنز کی وہ قابلیت اور صلاحیت نہں اور نہ ہی ان کی استعداد بڑھائی گئی جس سے وہ ملکی مفادات اور بیانے کو موثر طریقے سے دنیا میں پیش کر سکیں اور ملک کا مثبت امیج اُجاگر کر سکیں ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی حکومت نے حقیقی سفارتکاری پر زیادہ توجہ نہیں دی ۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرق وسطی کے بحران اور پاکستان کے ثالثی کا کردار ادا کرنے میں آج مسئلہ کشمیر کو ہم نے بہت پیچھے چھوڑ دیاہے ۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ دوسروں کی بجائے اپنے دفتر خارجہ کے سنگین مسائل اور چیلنجوں کو حل کرنے اور اقتصادی سفارتکاری پر زیادہ توجہ دے ۔
سابق وزیر مملکت برائے سرمایہ کاری ہارون شریف نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی معیشت اب یک جہتی سے ملٹیہمی جہتی اور تکثیریت کی طرف جا رہی ہے جہاں 2050 تک معاشی طاقت کے متعدد مراکز ہونگے اور ان میں سے بیشتر ایشیاء کے خطے میں ہوں گے۔
انہوں نے اکیسویں صدی کو ایشیاء کی صدی قرار دیا جہاں چین معاشی طاقتکے طور پر سرفہرست ہو گا. علاوہ ازیں پاکستان کو اپنے جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کی وجہ سے مرکزی حیثیت حاصل ہوگی ۔
ہارون نے کہا کہ بڑی معاشی ٹرانزیکشسن پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں اور نجی شعبے کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو اپنی صلاحیت کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کو بھی اپنی توجہ جیو اسٹریٹجک شراکت داری سے اقتصادی شراکت داری کی طرف منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہارون نے مزید کہا کہ ایشیا کا خطہ دنیا کا اگلا معاشی حب بننے کے بعد پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج اپنی ترقی کی رفتار کو بڑھانا ہو گا۔ ڈاکٹر جوکن ہپپلر ، ریذیڈنٹ ڈائریکٹر ، فریڈرک – البرٹ-اسٹفٹنگ (FES) نے کہا کہ کوئی بھی عالمی طاقت یا کوئی بھی ملک پاکستان کے مسائل حل نہیں کرے گا، بلکہ اپنے قومی مفاد کا خیال رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایک موثر گورننس کا میکنزم بنائے جس سے لوگوں کے مسائل بروقت حل ہوں۔ چائنہ اسٹڈی سنٹر ، ، ایس ڈی پی آئی کے ڈائریکٹر شکیل احمد رامے نے سیشن کا ماڈریٹ کیا اور اس سے قبل ایس ڈی پی آئی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ عائشہ الیاس نے ویلکم ریمارکس دیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں