فکس تنخواہ پر کام کرنے والے لیکچرارز کو مستقل کرنے کی مخالفت

پریس ریلز

قومی عورت محاذ گلگت بلتستان نے فکس پے پہ ایک سال کےلیے کالجوں میں لیکچرار بھرتی کرنے کے بعد اندرون خانہ ان کو مستقل کرنے کی کوشش کی مخالفت کی ہے اور اسے پڑھے لکھے بےروزگار گریجویٹس کے ساتھ زیادتی قرار دیا ہے۔

محاذ نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ 2019 میں اخبارات کے ذریعے ایک اشتہار دیا گیا تھا جس کے مطابق گلگت بلتستان کے کالجوں میں معین تنخواہ (فکس پے) یعنی 30 ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے مختلف کالجوں میں ایک سال کے لئے لیکچرار کی تعیناتی کے لئے درخواستیں مانگی گئی تھی۔ درخواستیں لیتے وقت امیدواروں سے باقاعدہ اسٹام پیپر پہ لکھ کے یہ حلفیہ بیان لیا گیا تھا کہ وہ بعد میں مستقل ہونے کا دعوا نہیں کریں گے۔

ایک سال مکمل ہونے پہ محکمہ تعلیم نے دوبارہ وہ تمام پوسٹیں مشتہر کی۔ پہلے سے تعینات شدہ امیدوار عدالت گئے. اور کورٹ نے حکم دیا کہ ان کو کام جاری رکھنا دیا جائے۔ اب عارضی ملازمین میں ان لیکچرارز کو بھی مستقل کرنے کی بات ہو رہی ہے۔

گلگت بلتستان میں 67 لیکچرارز اس پروجیکٹ کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فکس پے پہ کام کرنے والے لیکچرارز کو مستقل کرنا غیر منصفانہ اقدامات ہے۔ ان آسامیوں کو وفاقی کمیشن برائے ملازمت (فیڈرل پبلک سروس کمیشن) کے ذریعے اہلیت کی بنیاد پر تقرریاں عمل میں لایا جائے۔

نیشنل ویمن فرنٹ گلگت بلتستان اس ضمن میں گریجویٹس الائنس کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور حکومت سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ان اسامیوں پہ لیکچرارز کی تعینات قابلیت اور ٹیسٹ انٹر ویو کی بنیاد پر کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں