حقوق انسانی کے کارکن جلیلہ حیدر کے لئے امریکی ایوارڈ کا اعلان

بلوچستان سے تعلق رکھنے والی معروف حقوق انسانی، صنفی اور سیاسی کارکن کو بین الاقوامی ایوارڈ برائے جرات خواتین (آئی ڈبلیو او سی) ایوارڈ سے نواز دیا جائے گا

بام جہان رپورٹ

پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے تعلق رکھنے والی معروف حقوق انسانی، صنفی اور سیاسی کارکن جلیلہ حیدر کو بین الاقوامی ایوارڈ کے لئے نامزد کیا گیا ہے.

پاکستان کے علاوہ افغانستان، ارمینیا، آذربائیجان، بولیویا، برکینا فاسو، چین، ملائیشیا، نیکارا گوا، شام، یمن اور زمبابوے سے غیرمعمولی خدمات انجام دینے والی خواتین کو ایوارڈ کے لیے نامزد کردیا گیا ہے۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے جاری اعلامیہ کے مطابق کے مطابق ‘سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو 12 غیر معمولی خواتین کو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں ایوارڈ سے نوازیں گے جہاں خاتون اول میلانیا ٹرمپ مذکورہ خواتین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں خطاب بھی کریں گی’۔
اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے مطابق سیکریٹری آف اسٹیٹ کی جانب سے دنیا بھر میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی خواتین کے اعزاز میں سالانہ ایوارڈ دیا جاتا ہے اور رواں برس اس روایت کو 14 سال ہوجائیں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی سیکریٹری اسٹیٹ کی جانب سے امن، انصاف، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے اور دیگر خدمات پر یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے۔
اعلامیے کےمطابق اب تک 73 ممالک سے تعلق رکھنے والی 134 خواتین کو یہ ایوارڈ دیا جاچکا ہے اور رواں اس کی تعداد بڑھ کر 144 خواتین اور 77 ممالک تک وسیع ہوجائے گی۔
خیال رہے کہ دنیا بھر میں قائم امریکی سفارتی مشنز ان خواتین کو ایوارڈ کے لیے نامزد کرتے ہیں اور حتمی طور پر 12 خواتین کی منظوری اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے اعلیٰ عہدیداران دیتے ہیں۔

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے معروف انسانی حقوق کی وکیل اور کارکن جلیلہ حیدر بھی دنیا بھر میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی 12 خواتین میں شامل ہیں۔
انہیں انسانی حقوق کے حوالے سے کام کرنے پر اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔
جلیلہ نے ‘ہم پاکستان کے انسان، کی بنیاد رکھی جو مقامی برادریوں، بچوں اور خواتین کو مواقع پیدا کرنے کے لیے کام کرنے والی ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے۔
وہ غربت سے متاثرہ خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کرتی ہیں اور ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والی پہلی وکیل ہیں اور انہوں نے اپنی برادری کے افراد پر شدت پسند فرقہ پرست تنظیموں کی طرف سےحملوں کے خلاف مہم چلائی اور بھوک ہڑتا کی قیادت کی۔

جلیلہ نے ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ بلوچستان کی صدر اور بلوچستان میں عورت مارچ کی شاخ کی صدر کی حیثیت سے عوامی مقامات، کام کی جگہ اور گھروں میں خواتین پر تشدد کے خلاف سرگرمی سےکام کیا۔

ظریفہ غفاری (افغانستان)
افغانستان سے تعلق رکھنے والی ظریفہ غفاری کو خواتین کے لیے ریڈیو اسٹیشن شروع کرنے اور میدان شر کی میئر بننے پر اس ایوارڈ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ خطرات کے باوجود ظریفہ غفاری نے ہر قسم کی تنقید کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنے مشن کو جاری رکھا اور مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہو کر کام کیا اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
ان کی خدمات کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ مخالفین کے خوف اور مفادات کے باوجود ‘کلین سٹی، گرین سٹی’ مہم شروع کی اور اس کو کامیاب بھی بنایا۔

شہلا ہمباٹوا(آذربائیجان)
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے وسطی ایشیائی ملک آذر بائیجان سے تعلق رکھنے والے وکیل شہلا ہمباٹوا کو حقوق کے لیے لڑنے والے افراد کی داد رسی کرنے پر اس ایوارڈ کے لیے نامزد کردیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے انسانی حقوق، صحافیوں، بلاگرز، نوجوانوں سماجی کارکنوں، حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں اور دیگر کے لیے قانونی خدمات فراہم کیں اور قانونی معاونت فراہم کی۔
امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے اس ایوارڈ کے لیے شام سے امینہ خولانی، یمن سے یاسمین القدہی، ملائیشیا سے سوسینا لیو، نیکاراگوا سے ایمایا کوپنز، چین سے سیراگل سویاتبے، برکینا فاسو سے کلیئر اوئیدراوگو، بولیویا سے زمینیا گالارزا، ارمینیا سے لکی کوچاریان اور زمبابوے سے ڈاکٹر ریتا نیامپنگا کو بھی ایوارڈ دیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں