‘گلگت بلتستان میں لیبر قوانین کا نفاذ اور لیبر کورٹ کا قیام عمل میں لایا جائے’

ہنزہ اور اسکردو میں یوم مزدور منایا گیا، تقریبات سے بابا جان، نجف علی، اور دیگر رہنماوں کا خطاب

رپورٹ: وسیم اکرم

ہنزہ: گلگت بلتستان میں یوم مزدور منایا گیااور شکاگو کے شہدوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اس سلسلے میں اسکردو اور ہنزہ میں دو تقریبات منعقد ہوئیں جہاں سیاسی کارکنوں اور رہنماوں نے موجودہ حکومت کی مزدور دشمن پالیسیوں کو حدف تنقید بنایا اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ وہ سرمایہ دارانہ انسان دشمن نظام کے خلاف اور گلگت بلتستان کے محنت کش عوام کے بنیادی معاشی، سیاسی اور سماجی حقوق کے لئے بھر پور جدوجہد کریں گے۔

عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے ہنزہ نے یوم مئی منانے کے سلسلے میں اپنے مرکزی آفس علی آباد میں ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا۔ تقریب میں عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین باباجان، پارٹی آرگنائزر اکرام جمال، سابق صدر ظہور الٰہی اور جنرل سکریٹری آخون بائے نے اس دن کی تاریخی اہمیت اور آج کے دور میں محنت کشوں کے مسائل پر روشنی ڈالی۔

ان رہنماؤں نے 1886ء میں شکاگو کے شہر میں شہید ہونے والے انقلابیوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے دنیا بھر کے محنت کشوں کے حقوق کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جن کی قربانیوں کی بدولت آج دنیا بھر میں مزدوروں کے لئے اوقات کار 8 گھنٹہ اور اجرت کا تعین ہوا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اوقات کار آج چار گھنٹہ اور ایک ہفتہ میں دودن چھٹی مقرر ہوا ہے، جب کہ پاکستان میں صوتحال ابترسے ابتر ہوتی جارہی ہے۔ ڈیڑھ کروڑ مزدور اور پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار کئے گئے ہیں اور آئین اور قوانین میں دئے گئے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

مقررین نے کہا کہ آج بھی محنت کشوں کا استحصال ختم نہیں ہوا ہے۔کرونا وبا، اور موجودہ کٹھ پتلی حکومت کی مزدور دشمن اور عوام دشمن معاشی پالیسیوں، بدعنوانیوں اور نا اہلی کی وجہ سے لاکھوں مزدور، چھوٹے ملازمین، صحافی، ہیلتھ ورکر اور کھیت مزدور بے روزگاری اور فاقہ کشی کے شکار ہیں۔

گلگت بلتستان میں نہ تو کوئی آئین ہے نہ مزدور قوانین کا اطلاق ہوتا ہے ۔یہاں ایک غیر انسانی نو آبادیاتی نظام ہے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں معاشی پسماندگی کی وجہ سے شہروں کے جیسے صنعتی مزدور نہیں ہیں۔ یہاں 99 فی صد محنت کش ہیں جن میں چھوٹے کسان، چھوٹے کاروباری، اجرت پہ کام کرنے والے مزدور، اور سیاحت کے شعبے سے منسلک وقتی کارکن شامل ہیں جن کو یونین کی شکل میں منظم کرنا کافی مشکل ہے ۔ ان کو ایک نظریاتی انقلابی پارٹی کے اندر منظم کرکے حقوق کی جدو جہد کے لئے تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

کامریڈ باباجان نے کہا کہ یہ عوامی ورکرز پارٹی ہی ہے جو محنت کشوں کے لیے جد وجہد بھی کرتی ہے اور اس کے کارکن ظلم و جبر اور قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کر تے ہیں۔
کامریڈ باباجان نے صحافیوں کی حقوق کی بات کرتے ہوئے کہا صحافیوں کو عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے پر دباؤ اور انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مالکان کئی کئی مہنوں تک ان کو تنخواء نہیں دیتے ہیں. اسلئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو تحفظ فراہم کیا جائے اور صحافیوں کو بروقت تنخوا دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان محنت کشوں اور محنت کار عوام، نوجوانوں، خواتین اور طلباء کہ پارٹی کی حیثیت سے اس عزم اعادہ کرتی ہے کہ وہ ان کے حقوق کے لئے جدجہد جاری رکھے گی۔

شرکاء نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے درج ذیل مطالبات کیے:۔

تمام محنت کشوں کو حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم تنخواء 17500 روپے کی ادائیگی کو یقینی بنایا جائے، اور مہنگائی کے تناسب سے اس میں اضافہ کیا جائے۔ تمام عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے، تمام اداروں میں کنٹنجینسی نظام ختم کرکے مستقل طور پر ملازمتیں دی جائیں۔
محکمہ صحت کے تمام عارضی ملازمین کو مستقل کیا جائے، ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکروں کے لئے پچھلے سال اعلان کردہ رسک الاؤنس بمعہ بقایاجات فوری طور پر ادا کی جائے۔
گلگت بلتستان میں اکثریتی آبادی کیھتی باڑی سے منسلک ہیں۔ کسان اپنے اپنے چھوٹے قطعہ اراضی پر سبزیاں اور پھل اگاتے ہیں لیکن ان کی محنت کا پھل آڑھتی لے جاتے ہیں۔ لیٰذامڈل مین کو ختم کر کے کسانوں کو مارکیٹ تک براہ راست رسائی کی سہولت دیا جائے. اور انہوں کھاد، بیج اور تربیت کی سہولیات فراہم کیاجائے۔

چھوٹے کاروباری اور غیر مستقل بنیادوں پر کام کرنے والے محنت کش اور محنت کار لوگ مثلا کیبین چلانے والے، ریڑھی والے، وکلاء، اساتذہ ، اور صحافی الغرض وہ تمام محنت کش جو اپنی محنت کے عوض معاوضہ لیتے ہوں، کو تمام حقوق بالخصوص تعلیم وصحت کی مفت اور معیاری سہولیات دی جائے۔

کرونا وباء سے متاثر ہونے والے محنت کشوں کو حالات معمول پر آنے تک گھریلو اخراجات ماہانہ بنیادوں پر ادا کر دی جائے۔

معدنیات جو علاقے کے چند وسائل میں سے ایک ہے، اس کو مقامی لوگوں کی مرضی کے برعکس مقامی و غیر مقامی سرمایہ داروں کے حوالے کئے جا رہے ہیں، اسلئے عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ابھی تک جتنے کان کنی کے لیز جاری کئے گئے ہیں انہیں فورا منسوخ کیا جائے اور عوامی مشترکہ حقوق کی بنیاد پر ان کو استعمال کرنے کی اجازت دی جائے اور مقامی لوگوں کو لیز دیا جائے۔

پارٹی کے کارکن اور شاعر سلطان علی عاجز نے محنت کشوں سے متعلق اپنا کلام بھی سنایا۔

اسکردو:
اسکردو میں ایک جلوس نکالا گیا اور یادگار چوک پر مختلف رہنماوں نے تقاریر کیں۔
مزدور یونین گلگت بلتستان کے زیر اہتمام منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے معروف سیاسی و سماجی رہنما نجف علی نے یوم مئی کی تاریخی اہمیت اور محنت کشوں کے استحصال اور ہوشربا مہنگائی اور بے روزگاری پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے تمام ترقی پسند، وطن دوست قوتوں اور مزدور یونینوں سے اپیل کیا کہ وہ متحد ہو کراپنے غصب شدہ قومی، سیاسی اور معاشی حقوق کے لئے جدوجہد کریں۔

ترقی پسند کارکن شبیر مایار اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا اور مزدوروں کے اجرت میں اضافہ ، مزدوروں کو مفت علاج اور لاک ڈاؤن کے دوران اشیاء ضرورت کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے گلگت بلتستان میں مزدور وں کے حقوق کے تحفظ کے لئے لیبر قوانین کے نفاذ اور لیبر کورٹ کے قیام اور تمام مزدوروں کو انشور نس کروانے کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں