پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین پشاور سے گرفتار

پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما منظور پشتین کو رات گئے پشاور کے علاقے تہکال سے گرفتار کر لیا ہے۔
منظور پشتین کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے تہکال پولیس کے اہلکار غلام نبی نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کو بتایا کہ منظور پشتین مختلف مقدمات میں ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کو مطلوب تھے جس کی بنیاد پر انھیں گرفتار کیا گیا ہے ۔
پولیس اہلکار نے یہ بھی بتایا ڈیرہ اسماعیل خان پولیس پشاورپہنچ رہی ہے جس کے بعد منظور پشتین کو ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کے حوالے کیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق رات ایک بجے کے قریب تہکال کے علاقے شاہین کالونی میں ایک مکان پر چھاپہ مارا گیا جہاں سے منظور پشتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان کے ہمراہ مزید چار سے پانچ افراد ہیں جنھیں کرایہ داری قانون پر عمل درآمد نہ کرنے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔
پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ منظور پشتین نے 18 جنوری کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے آئین کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کے بارے میں توہین آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پشاور میں پی ٹی ایم اپنے ایک نیا دفتر کے قیام پر کام کر رہے تھے جہاں سے انھیں گرفتار کیا گیا۔
اس سے قبل انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ منظور پشتین کو حراست میں لینے کی وجہ ان کی تحریک کی جانب سے پر امن اور جمہوری انداز میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا ہے اور انھیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
منظور پشتین کون ہیں؟
منظور احمد پشتین بد امنی سے متاثرہ قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔
سنہ 2018 میں بی بی سی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں منظور پشتین نے بتایا تھا کہ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں ہی حاصل کی اور پھر بنوں میں آرمی پبلک سکول اور وہیں کے کالج میں زیر تعلیم رہے۔

منظور پشتین کے بقول وہ اپنے سکول کے 52 طالب علموں میں واحد نوجوان ہیں، جنھوں نے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کی۔ انھوں نے گومل یونیورسٹی سے ویٹنری سائنس میں بھی تعلیم حاصل کی لیکن انھیں کچھ اور ہی کرنا تھا۔
منظور پشتین نے مقامی سطح پر اپنی محسود تحفظ تحریک سنہ 2014 میں شروع کی تھی اور مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے گروہوں میں وہ اپنی سوچ واضح کرتے رہے۔
منظور پشتین کے مطابق وہ اکثر بمباری، بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور چیک پوسٹوں پر لوگوں کو ہراساں کرنے کے واقعات کے خلاف مظاہرے کرتے تھے، لیکن سب سے بڑا مظاہرہ اُنھوں نے ٹانک میں 15 نومبر 2016 کو کیا تھا جس میں سکیورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی کی گئی تھی۔
اسلام آباد میں فروری 2018 کے کامیاب دس روزہ احتجاج سے فائدہ اٹھاتے ہوئے منظور نے اپنی تحریک کی سمت نہ صرف تبدیل کی اور اسے پشتون تحفظ تحریک کا بڑا کینوس دے دیا بلکہ اس کی تنظیم نو بھی شروع کر دی۔
بعد میں عوامی جلسوں کا سہارا لے کر انھوں نے اس تحریک کا دائرہ قبائلی علاقوں سے بڑھا کر بلوچستان اور کراچی تک پھیلا دیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں