304

امریکی مداخلت یا جدید نوآبادیاتی تسلط


تحریر: پرویز فتح


 گذشتہ تین ہفتوں سے پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر ایک ہیجان کی کیفیت طاری ہے اور ملکی سیاسی معاملات میں امریکی مداخلت کے چرچے ہو رہے ہیں۔ ہفتہ 9 اپریل کی شب تحریکِ عدم اعتماد کے نتیجے میں معزول ہونے والے وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف متحدہ اپوزیشن کی جانب سے تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد اچانک انکشاف کیا تھا  کہ اُن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک ایک خطرناک بیرونی سازش کا نتیجہ ہے۔ اگلے ہی روز اتوار 27 مارچ کو اسلام آباد میں اُن کا جلسۂ عام تھا، جِس میں اُنہوں نے ایک سفید کاغذ لہراتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اُن کے خلاف پیش ہونے والی تحریکِ عدم اعتماد کے پیچھے ایک گہری سازش ہے، اور اُس کے پیچھے بیرونی ہاتھ کارفرما ہیں۔ اُنہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ خط اُن کے خلاف غیر ملکی سازش کا دستاویزی ثبوت ہے۔ اگلے ہی روز ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے زبان پھسلنے کے تاثر دیتے ہوئے اُنہوں نے کہہ ڈالا کہ یہ سازش امریکہ کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔ بعد میں حسب روایت قلا بازی کھاتے ہوئے کہا کہ یہ غیر ملکی خط نہیں بلکہ پاکستانی سفیر کا بھیجا گیا سفارتی مراسلہ ہے، جو اس انکشاف سے تقریباً بیس روز قبل آیا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عمران خان امریکہ مخالف بیانیہ کے ساتھ ساتھ اِن دنوں مذہبی کارڈ بھی بڑے دہڑلے کے ساتھ کھیل رہے ہیں، اور وہ بھی اس بات کا احساس کئے بغیر کہ اس کے نتیجے میں بعض معصوموں کی جان بھی جا سکتی ہے اور یہ کہ مذہبی کارڈ تو سامراجی ممالک اور بیوروکریسی کا پیدا کردا مہلک ترین ہتھیار ہے جو ملک میں جمہوری عمل اور عوامی حقوق کی آوازوں کو دبانے کے لیے بہت موثر سمجھا جاتا ہے۔

امریکہ کے خلاف اُٹھنے والی اِن وسیع تر آوازوں کو سن کر میرے جیسے سامراج دشمن سیاسی و سماجی کارکن کو خوش ہونا تو ایک قدرتی عمل ہے، لیکن مجھے اپنے بچپن کا زمانہ بھی یاد آ گیا، جب میں نے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دُور افتادہ اور انتہائی پسماندہ گاؤں میں جنم لینے اور پرورش پانے کے باوجود اپنی زندگی کا پہلے نعرے، امریکی سامراج مردہ باد، امریکی پٹھو ہائے ہائے سیکھے تھے۔ یہ 1967ء کا زمانہ تھا، میری عمر 6 پرس تھی اور دوسری جماعت میں پڑھتا تھا۔ کسانوں کے ہل کے نشان والا سُرخ پرچم تھامے میں کسانوں کے اجتماعات میں آگے آگے نعرے لگاتا جاتا تھا، ‘امریکی سامراج مردہ باد’، ‘امریکی چمچے ہائے ہائے’، ‘جیڑا واھوے اوہی کھاوے’، ‘سوشلزم آوے ہی آوے’۔ ایک روز بیل گاڑی پر بیٹھ کر میں چک 309 گ ب میں منعقد ہونے والے کسانوں کے ایک بڑے جلسے میں گیا تو وہاں سید مطلبی فریدآبادی، چوہدری فتح محمد اور سید قسور گردیزی جیسے نامور کسان راہنما بتا رہے تھے کہ کِس طرح امریکی سامراج نوآبادیاتی نظام کے ذریعے  اور مقامی جاگیرداروں و بیوروکریسی کی مدد سے ہماری آزادی کو سلب کئے ہوئے ہے اور کیسے یہ جاگیردار اور سرمایہ دار ہمارے ملک کے کسانون، مزارعوں اور کھیت مزدوروں کا خون نچوڑتے ہیں۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ اُس جلسے میں پنجابی کے نامور شاعر سائیں عمر دین، جن کی آواز کوئل کی طرح گونجتی تھی، بڑے ترنم سے اپنا کلام پڑھ رہے تھے:

امریکہ عیش اُڑاوے،

بینکاں فرماں خوب چلاوے،

ساڈے دیش نوں لُٹی کھاوے

او سائیں لوکا جُگنی کہندی اے۔

بعد ازاں کالج اور یونیورسٹی پہنچے تو سی۔آر۔اسلم، عابد حسن منٹو اور انیس ہاشمی جیسے مارکسی دانشوروں کی صُحبت نصیب ہوئی تو سمجھ آئی کہ برِصغیر سے برطانوی سامراج کے جانے کے بعد نمودار ہونے والی اِس ریاست اور اِس کے حاکموں نے کِس طرح سے اپنے عوام کو عالمی سامراجی یلغار اور نوآبادیاتی ریاستی ڈہانچے کے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے۔

عوام کی غلامی قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک جاری ہے، اور طبقاتی استحصال مختلف شکلوں میں بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ ہر آنے والا حکمران فرسودہ نظامِ حکمرانی سے نجات کے نعرے تو لگاتا ہے، اور دعوے بھی کرتا ہے، مگر اقتدار میں آ کر صرف بالا دست طبقات کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے، جِس سے ملک میں بھوک، ننگ، غربت، بےروزگاری، بیماریاں، نفرت اور تشدد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ہے اور عوام کا جینا دوبھر ہو گیا ہے۔ پاکستان کے اندر رہنے والی اقوام کی بے چینی دہائیوں سے جاری ظلم، جبر اور استحصال کے باعث عروج پر ہے۔ مذیب کے نام پر ہونے والی تقسیم اور زیادتیوں سے سماج کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی سیاسی جماعتیں اِس سب کچھ کو نہ سمجھنے اور نہ ہی تبدیل کرنے کے صلاحیت رکھتی ہیں۔ عمران خان کا پونے چار سالہ دورِ اقتدار بھی عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم، جبر اور استحصال میں کسی صورت کمی نہ تھا اور اُس نے بھی اُنہی طبقات کو نوازا اور لوٹ کھسوٹ و استحصال کے نظام کو تحفظ فراہم کیا۔

حالیہ امریکی مداخلت کے دعوؤں اور پسِ پردہ حقائق کا بغور جائزہ لیں تو معزول وزیراعظم عمران خان کی سیاسی ساکھ گذشتہ ایک برس سے مسلسل گِر رہی تھی، جِس سے ایک طرف پی ٹی آئی کی پونے چار سالہ حکومت میں انتہائی ناقص کارکردگی، آئی ایم ایف کی انتہائی سخت شرائط پر وسیع پیمانے پر بیرونی قرضے لینے، اور اُن سے ملک میں مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان، معیشت کی زبوں حالی، بڑھتی ہوئی بےروزگاری، گورننس اور شفافیت میں ناکامی، اور خارجہ پالیسی کی مکمل طور پر ناکامی نے عوام میں مایوسی پیدا کر دی تو دوسری طرف اُن کی اپنی ہی پارٹی میں بے چینی بڑھنے لگی۔ جن الیلکٹ ایبلز پر وہ ہمیشہ فخر کرتے تھے اور اُسے مخالفیں کی وکٹیں گرنا کہا کرتے تھے، اُنہوں نے حسبِ معمول متبادل کی تلاش کرنا شروع کر دی۔ بلا شُبہ یہ گھمبیر صورتِ حال اُنہیں اقتدار میں لانے والی اسٹیبلشمنٹ کے لیے بے چینی کا باعث بن رہی تھی اور ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں، ہمارے نوآبادیاتی آقاؤں اور خطے کے ممالک، بلخصوص چین میں سی پیک کے مستقبل بارے بڑھتے ہوئے خدشات جنم لے رہے تھے، اور  یہ حالات اُن کے لیے مسلسل بےچینی کا سبب بن رہے تھے۔

اندرونی طور پر عمران خان نے اپنے دورِ اقتدار میں بہتر کارکردگی دکھانے اور عوام کو راحت پہنچانے کی بجائے اپوزیشن کی کردار کشی، دوسروں کو نیچا دکھانے، میڈیا کو دبانے، صحافیوں اور میڈیا مالکان کو بلیک میل کرنے اور تشدد کا نشانہ بنانے پر سارا زور لگایا اور سمجھا کہ مُتبال ختم کر کے اُن کی حکومت محفوظ ہو جائے گی۔ درحقیقت یہی وہ حالات تھے جنہوں نے اپوزیشن کو اپنے سیاسی اور ذاتی اختلافات کو بھلا کر ایک مشترکہ حکمتِ عملی کی راہ اپنانے پر مجبُور کیا اور عمران خان کی حکومت پر متحدہ وار کرنے کا راستہ دکھلایا۔ انہی حالات میں قومی اسمبلی میں تحریکِ عدم عتماد پیش ہوئی تو اچانک عمران خان نے سیاسی طور پر مقابلہ کرنے کی بجائے ایک عوامی اجتماع میں سفید پیپر لہراتے ہوئے کہا کہ "عدم اعتماد کی تحریک در اصل غیر ملکی سازش کا نتیجہ ہے، جِس کے خلاف ثبوت میرے ہاتھ میں ہیں، اور ہم اُس گھناؤنے کھیل کو بے نقاب اور ناکام بنا دیں گے”۔

  جِس خط کے چرچے ہو رہے ہیں وہ کوئی خط نہیں بلک اِس کی حکومت کے ماتحت کام کرنے والے ایک سفیر کی جانب سے بھیجا گیا ایک کیبل یا پھر حساس سفارتی مراسلہ ہے، جو اُس وقت امریکہ میں مقیم پاکستانی سفیر مسٹر اسد مجید خان نے سفارتی اصولوں کی روشنی میں دفترِ خارجہ کو بھیجا تھا۔ عام طور پر ایسے مراسلوں کا مقصد دوسرے ممالک سے ڈپلومیٹک تعلقات میں کمیوں کی نشان دہی کرنا اور حکومت کو تعلقات میں بہتری لانے اور مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے میں مدد فراہم کرنا ہوتا ہے۔ اب تک جو خبریں موصول ہوئی ہیں اُن کے مطابق گزشتہ ایک برس سے تنزلی کے شکار پاک امریکہ تعلقات کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے پاکستانی سرکار اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے امریکہ میں پاکستانی سفیر کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی تھیں، جِن کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستانی سفیر نےامریکی دفتر خارجہ کے متعدد ارکان سے ملاقاتیں کیں۔ ایسی ہی ایک ملاقات مارچ کے پہلے ہفتے میں امریکا کے اسسٹنٹ سیکرٹری برائے جنوبی ایشیا مسٹر لونلڈ لو سے ہوئی جِس میں اُس نے پاکستان کے سفیر کو بتایا کہ اُن کی حکومت کو عمران خان پر بالکل بھروسہ نہیں رہا، کیونکہ ہر دوسرے دن اُس کے الفاظ اور لہجہ بالکل ہی مختلف ہوتے ہیں اور اِس بات کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ پاکستانی ریاست کہاں کھڑی ہے۔ اُس کا کہنا تھا کہ عمران خان اب تو پاکستان کے ریاستی اداروں سے مشاورت کیے بغیر ہی روس سے دوستی بڑھا رہے ہیں، جو امریکا کو پسند نہیں اور ایسے حالات میں ہم اس پر اعتماد نہیں کر سکتے۔ اُس نے یہ بھی کہا کہ اگر عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہو گئی تو وہ دوبارہ غور کریں گے کہ پاکستان کی نئی حکومت کے ساتھ تعلقات کِس حد تک بحال ہو سکتے ہیں۔

اِس مراسلے کی اہمیت اور صحت کا اِس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عمران خان نے 20 روز تک نہ اِس کا ذکر کیا، نہ تحقیقاتی اداروں کو بلا کر کوئی چھان بین کروائی، نہ کوئی عدالتی کمیشن بنایا، اور نہ ہی نیشنل سیکورٹی کونسل کا اجلاس بلا کر اِس سازش کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی۔ جب تحریکِ عدم اعتماد کامیاب ہونے کے حالات بن گئے، اپوزیشن کے پاس نمبر پورے ہو گئے، اور عمران خان کے اتحادی اور اُس کی اپنی ہی پارٹی کے ناراض ممبرانِ پارلیمنٹ بھی اُن کے خلاف کھڑے ہو گئے تو اُن کے پاس اس سفارتی مراسلے کو اچھال کر استعمال کرنا ہی واحد امید رہ گیا۔ اُنہوں نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے غیرجانبداری کے دعوؤں کو اپنے حق میں استعمال کرنے اور اُن پر دباؤ ڈالنے کے لیے نیسنل نیشنل سیکورٹی کمیٹی کے اجلاس بلایا اور 5 گھنٹوں تک اُن کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ یہ مراسلہ غیر ملکی سازش کا ثبوت ہے۔ لیکن ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اصرار کیا گیا تھا کہ اِس مراسلے میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جسے ملکی معاملات میں مداخلت کہا جائے اور محض قیاس کی بنیاد پر اِسے ایک منظم سازش نہیں کہا جا سکتا۔ باں اِس اجلاس میں اِس بات پر اتفاق رائے پایا گیا کہ پاکستان میں امریکی سفیر کو دفترِ خارجہ بلا کر ایک احتجاجی مراسلہ دیا جائے، کیونکہ جو کچھ بھی امریکی انتظامیہ کی جانب سے پیغام یا تاثرات کی صورت میں کہا گیا تھا، وہ پاکستان کیلئے نامناسب اور ناقابلِ قبول ہے۔ سفارتی امور میں دفترِ خارجہ کی جانب سے اِس قسم کا مراسلے جاری کیا جانا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔

سنجیدہ حلقے یہی سمجھتے ہیں کہ اس صورتحال میں جب ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں، پی ٹی آئی نے اسے سیاسی معاملہ بنا لیا ہے اور مخالفین کو غدار قرار دے کر سیاسی فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے تا کہ آنے والے انتخابات میں اینٹی امریکہ سینٹیمنٹ کا فائدہ اُٹھایا جا سکے۔ موجودہ صورت حال خاصی پیچیدہ ہے اور مسلسل تبدیل ہو رہی ہے تاہم یہ بات قابل غور ہے کہ عمران خان  کی طرف سے سامنے لائے گئے اس مبینہ سفارتی مراسلے کی اندرون ملک یا پھر بیرونی ذرائع سے غیر جانبدار تصدیق نہیں ہو سکی۔ بلا شُعبہ اِس سارے عمل نے ملک کی داخلی سیاست میں غیر ملکی طاقتوں کو براہ راست ملوث کرنے سے پاکستان کے خارجہ مفادات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ نو منتخب وزیرِاعظم شہباز شریف نے اپنی پہلی تقریر میں اُس خط پر پارلیمنٹ کو آن کیمرہ بریفنگ دینے اور شفاف تحقیقات کروانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان یقیناً قابلِ ستائش ہے اور ایسا کیا گیا تو اِس سے متنازعہ مراسلے کی حقیقت اور اصلیت  کو جاننے میں مدد ملے گی اور ملک کو اِس ہیجان کی کیفیت سے نکالنے کا موقع فراہم کرے گی۔

 عمران خان سمیت پاکستانی حکمرانوں کی امریکہ نوازی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب عمران خان نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی تھی تو وہ امریکہ نوازی میں اتنے آگے نکل گئے تھے کہ اُنہوں نے اپنی امریکہ یاترا اور امریکی صدر سے ملاقات کو ورلڈ کپ جیتنے جیسی کامیابی قرار دیا تھا۔

چند ہفتے قبل جب اسلام آباد میں او آئی سی وزرائے خارجہ کی کانفرنس منعقد ہوئی تھی تو اُس کانفرنس میں عمران خان نے خود امریکی اسسٹینٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ کو دعوت دی تھی اور 24 مارچ کو اُسی اسسٹینٹ سیکرٹری آف اسٹیٹ سے ملاقات میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک امریکہ تعلقات کے شادیانے بجائے تھے۔ یہ مراسلہ تو مارچ کے پہلے ہفتے میں آیا تھا اور اگر یہ اِس قدر اہم تھا تو عمران خان نے خود 21 مارچ کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والی او آئی سی کانفرنس میں امریکہ کے انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ کو کیوں مدعو کیا تھا؟ کانفرنس کے بعد سابق وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے تو امریکہ کے انڈر سیکرٹری آف سٹیٹ کے ساتھ اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تصویر شیئر کرتے ہوئے اِس بات کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہم باہمی اور مشترکہ علاقائی مقاصد کو فروغ دینے کے لیے ایک باقاعدہ اور منظم بات چیت کا عمل جاری رکھیں گے، اور ہم اِس سال سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منانے کے منتظر ہیں۔

  حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان برِصغیر کے بٹوارے سے لے کر آج تک نوآبادیاتی شکنجے میں جکڑا ہوا ھے۔ مقامی طور پر اس کے اتحادی اسٹیٹسکو برقرار رکھنے والی قوتیں, یعنی جاگیردار, وڈھیرے, اشرفیہ اور اسٹیبلشمنٹ ہیں, جنہوں نے اب مذھبی انتہا پسند گروہوں کی پرورش کر کے اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور اُنہیں عوامی و جمہوری قوتوں کے خلاف ہتھیار ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک یہاں پر نہ تو کوئی حکومت امریکی سامراج اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مرضی اور اُن کے مفادات کے تحفظ کی ضمانت کے بغیر بنی ہے اور نہ ہی کبھی تبدیل ہوئی ہے۔

عمران خان کا سفارتی مراسلہ تو پونے چار سالہ دورِ حکومت میں ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کا ایک بہانہ ہے, کیونکہ عمران خان کا اقتدار میں آنا بھی سامراجی ایجنڈے اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کے تحفظ کے تحت ہی ممکن ہوا تھا، جِن میں سی پیک منصوبے کو روکنا, یا پھر اس کی رفتار کو بہت محدود کرنا تھا۔ جبکہ اسٹیبلشمنٹ کا مسئلہ نواز شریف اور اسحاق ڈار کی جانب سے دفاعی بجٹ کے علاوہ اضافی دفاعی فنڈز میں رکاوٹوں کو دور کرنا تھا۔ عمران خان نے اپنے اقتدار کے پہلے دو تین سال اچھے بچوں کی طرح بیرونی اور اندرونی آقاؤں کے دیئے گئے روڈ میپ کے مطابق گزارے, اور فیض یاب ہوئے۔ جب مہنگائی کے طوفان اور وعدوں کی تکمیل میں ناکامیوں کا ملبہ آقاؤں پر ڈالنے اور مذاحمت کرنے لگا تو انجام کو پہنچ گیا۔

عقل کے اِن اندھوں کو کون سمجھائے کہ یہ صرف امریکہ کی جانب سے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے بلکہ جدید نوآبادیاتی نظام کے تحت غلامی ہے۔ عمران خان کا مسئلہ یہ ھے کہ وہ موجودہ ملکی ڈہانچے میں رہتے ہوئے ہی سیاست کرنا چاہتا ہے اور جاگیرداروں طبقہ اور اشرفیہ کے مفادات کی سیاست ہی کو درست مانتا ہے، جِس میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین جیسے انسان قابض ہیں۔ یہ دونوں وہی ہیں جو نامور سوشلسٹ راہنما اور عوامی ورکرز پارٹی کے بانی صدر عابد حسن منٹو کے لینڈ ریفارمز کیس میں ملک کے جاگیرداروں اور قبائیلی سرداروں کے نمائیندوں کے طور پر سپریم کورٹ میں پیش ہو رہے ہیں۔ یہ مقدمہ ضیاء دور میں زرعی اصلاحات کو غیر اسلامی قرار دیئے جانے کے خلاف سپریم کورٹ میں جاری ہے اور گزشتہ دس برس سے سریم کورٹ کے چیف جسٹس نے سرد خانوں میں ڈال رکھا ہے۔

عمران خان نے اپنے دور اقتدار میں اپنے منشور اور عوام سے کئے گئے وعدوں کا 10 فیصد بھی پورا کیا ہوتا تو آج یہ دِن دیکھنا نہ پڑتے۔ آج جو لائن اُنہوں نے اپنائی ہے اسے پوری طرح سے سمجھنے اور مستقبل کی راہیں متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ اُسے یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ پاکستان کے جاگیرداروں کی سیاسی جماعت اقتدار ہی ہوتی ہے، کیونکہ انہوں نے اسٹیٹسکو کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ یہ لڑائی لمبی ہوئی تو ایسے لوگ عمران خان کا ساتھ چھوڑ کر نئی صف بندیاں کرنے لگ جائیں گے اور اسے اکیلا چھوڑ جائیں گے۔ بالآخر عمران خان ائر مارشل اصغر خان کی طرح سیاسی منظر نامے سے دوُر ہوتا جائے گا۔


پرویز فتح لیڈز برطانیہ میں مقیم ہیں۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایروناٹییکل انجنئر ہیں۔ وہ عوامی ورکرز پارٹی نارتھ انگلینڈ کے رہنماء ہیں۔ وہ سیاسی و بین الاقوامی امور پر قومی اخبارات میں کالم اور مضامین لکھتے رہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں