100

نرسنگ پروفیشن سے تعلق رکھنے والی چترال کی بیٹی پی ایچ ڈی کے لئے منتخب

ناصر علی شاہ


ممبر چترالی نرسز فورم و لیکچرر پوسٹ گریجویٹ کالج اف نرسنگ صدراتی اسکالرشپ پروگرام کے تحت ڈاکٹر اف فلسفی کے منتخب ہوگئے اور روان سال میں کورس کے لئے چائنہ جائینگے جو مبارک باد کے مستحق ہے.
1995 میں رشیدہ منظور خدمت خلق کے جذبے کیساتھ بطور ایل ایچ ڈبلیو ہیلتھ پروفیشن سے منسلک ہوگئے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے تھرو اسکالرشپ ملی. 1997 میں کورس مکمل کرنے چترال دورافتادہ علاقوں میں بطور مسیحا خدمت سر انجام دیتے رہے. دور جدید کے مطابق علاج و معالج میں تبدیلی کو دیکھتے ہوئے 2001 میں نرسنگ کے لئے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کراچی چلے گئے اور 2004 میں بطور رجسٹرڈ نرس نرسنگ کونسل کے ساتھ رجسٹرڈ ہوگئے. اس پروگرام میں بھی اسکالرشپ سے استفادہ حاصل کی. کورس مکمل کرکے واپس چترال آنے کو ترجیح دی اور آغا خان ہیلتھ سروس کے ساتھ دوبارہ کام شروع کی اور بطور ہیڈ نرس بونی میڈیکل سنٹر میں کام کی جہاں آپ کو آپ کے جذبہ خدمت کو دیکھتے ہوئے مختلف اعزازات سے نوزا گیا اور چترال نرسنگ ڈیپارٹمنٹ چترال کا انچارج بنا دیا گیا یہ خاتوں 19 سال آغا خان ہیلتھ سروس چترال کے ساتھ ملکر خدمت کو عبادت سمجھتے فرائض ادا کی.
2015 میں بہترین تعلیم کی خاطر اپنے عہدے سے سبگدوش ہوکر خیبر میڈیکل یونیورسٹی پشاور میں ایڈمیشن لے لی اور 2017 میں گریجویشن مکمل کرلی. گریجویشن کے دوراں پبلیک سروس کمیشن میں ملازمت اختیار کی اور تعلیم کو جاری رکھنے کے لئے اسکالرشپ بھی مل گئی گریجویشن کے بعد آپ نے خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے ایم ایس کی ڈگری بھی حاصل کی. آپ سوشل سائنس میں بھی ماسٹر کر چکی ہیں. آپ نرسنگ سکول لیڈی ریڈینگ ہسپتال میں بطور انسٹریکٹر کام کر چکے ہیں اب پوسٹ گریجویٹ کالج اف نرسنگ حیات آباد پشاور میں شمع علم روشن کرنے میں مصروف عمل ہیں..
پریذیڈینشل اسکالرشپ میں 500 سے زائد لوگوں سے انہوں نے بھی ٹیسٹ انٹرویو دیا تھا اور اٹھارہ لوگوں کی سیلیکشن ہوگئی جن میں میڈم راشیدہ کا دوسرا نمبر ہے۔.
نرسنگ پروفیش ترقی کی راہ پہ گامزن ہے انشاءاللہ عظیم تر پیشہ ہوگا اور ان سے منسلک جذبہ خدمت سے بھرپور لوگ اپنے عوام کی دن رات بہترین خدمت کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں