PTI 222

کارکردگی زیرو، پھر بھی ہیرو


خالد مسعود

عمران  خان نیازی کو 2011ء میں جب اسٹیبلشمنٹ نے اپنی سرپرستی میں لے لیا تو موصوف کا لہجہ یکدم بدل گیا۔ یوں وہ ماضی میں جن کی تعریفیں کرتے تھے ان کے شدید دشمن بن گئے اور سیاستدانوں کے بارے میں وہی زبان بولنے لگے جو غیر سیاسی طاقتیں بولتی تھیں۔

سال 2014میں ایک سازش کے ذریعے انہوں نے علامہ طاہر القادری کے ساتھ مل کر اس وقت کے مسلم لیگی  حکومت کے خلاف دھرنے دینے کا سلسلہ شروع کیا جن کے دوران سول نافرمانی کا اعلان کیا گیا، ٹی وی ا سٹیشن اور پارلیمنٹ کی عمارت پر چڑھائی کی گئی اور کردار کشی اور بد تہذیبی کا وہ طوفان شروع ہوگیا جو آج تک جاری ہے۔

سنہ 2018 کے انتخابات میں صریحاََ دھاندلی کے ذریعے برسرِ اقتدار آنے کے بعد تو وہ حکومت کرنے کی بجائے سیاسی مخالفین کو جھوٹے مقدمات میں گرفتار کرنے، صحافت کو پابندِ سلاسل کرنے اور ہر ادارے کو تباہ و برباد کرنے میں مصروف ہوگئے، جس کی وجہ سے معیشت تباہ و برباد ہو گئی اور 1951کے بعد پاکستان کی گروتھ منفی ہو گئی۔

یہی نہیں سی پیک پر کام روک دیا گیا اور پاکستان کے قریبی دوست ممالک سے تعلقات متاثر ہونے لگے۔ کرپشن میں 24درجے اضافہ ہوا، بے تحاشا قرضے لیے گئے، یعنی قیامِ پاکستان سے 2018تک پاکستان نے 25ہزار ارب روپے قرضہ لیا جب کہ عمران خان کے پونے چار سال میں 20ہزار ارب روپے قرضہ لیا گیا، جس کا مصرف کہیں نظر نہ آیا۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کا جو طوفان اٹھا اس نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی۔

 جب خطرہ تھاکہ پاکستان جون تک دیوالیہ ہو جائے گا تو ایک آئینی طریقے سے عمران حکومت کو تبدیل کر دیا گیا جسے انہوں نے ہر غیر آئینی طریقے سے روکنے کی کوشش کی اور امریکی سازش کا ایک جھوٹا بیانیہ گھڑ لیا جس کی قلعی پہلے نیشنل سیکورٹی کونسل اور بعد میں خیبر پختونخواء حکومت نے امریکی سفیر سے ملاقات اور یو ایس ایڈ کی گاڑیاں قبول کرکے اور آمریکہ میں سی آئی اے کے پاکستان اسٹیشن کے سابق سربراہ کی لابیسٹ فرم کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے پر خود کھول دی۔

 حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اس بد ترین کارکردگی کے باوجود محض جھوٹ اور پروپیگنڈے کے زور پر یہ سارا ملبہ قومی اداروں پر ڈال دیا گیااور نفرت کی ایسی مہم چلائی گئی کہ الامان،الحفیظ۔  اسے کہتے ہیں کارکردگی زیرو، پھر بھی ہیرو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں