پشاور ہائی کورٹ نے گیس پلانٹس کی نیلامی روک دی


یہ گیس پلانٹ منصوبہ  مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لئے  منظور ہوا تھا۔ جو علاقے میں ایندھن کی ضرورت کو پورا کرنے اور صحت مند اندھن فراہم کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔


رپورٹ: کریم اللہ


چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  نے معروف سماجی شخصیت رضیت باللہ کے درخواست  پر دروس، ایون، بروز اور چترال کے لئے بڑا منصوبہ ایل پی جی گیس پلانٹ کی نیلامی روکنے کا حکم صادر کیا ہے۔

یہ گیس پلانٹ منصوبہ  مسلم لیگ ن کے دور حکومت میں جنگلات کی کٹائی کو روکنے کے لئے  منظور ہوا تھا۔ جو علاقے میں ایندھن کی ضرورت کو پورا کرنے اور صحت مند اندھن فراہم کرنے کے لئے شروع کیا گیا تھا۔

لیکن دو ہزار اٹھارہ میں تحریک انصاف حکومت میں آتے ہی  نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس منصوبے  کو ختم کرکے منصوبے  کے لئے خریدی گئی زمین سمیت پلانٹ کو نیلام کرنے کا فیصلہ کر دیا تھا جسے چترال سے تعلق رکھنے والے معروف سیاسی و سماجی شخصیت صدر دروش ایکشن فورم رضیت باللہ نے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ اور اس حوالے سے کیس جاری تھی۔

 بعد ازاں سابق ایم این اے شہزادہ افتخار الدین نے علی گوہر درانی ایڈوکیٹ کے ذریعے فریق بنے تھے۔

 آج پشاور ہائی کورٹ نے دونوں وکلاء کے دلائل  سننے کے بعد ایل این جی منصوبے  کے پلانٹس اور زمینات کو  نیلام کرنے سے روکتے ہوئے پچیس  اکتوبر کو دوبارہ تاریخ دی ہے۔

سماجی کارکن رضیت باللہ ایل پی جی پلانٹ کے حوالے سے ہائی ایشیاء ہیرالڈ کو خصوصی انٹرویو دے رہے ہیں

اس سلسلے میں رضیت باللہ نے ہمارے نمائندے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ پلانٹ دو ہزار سولہ میں منظور ہوئی ہے جو کہ چترال میں دروس، ایون بروز اور سینگور میں لگنی ہے اس کے لئے زمین بھی خریدی گئی تھی اور پلانٹ بھی پاکستان پہنچ چکے تھے،۔ مگر دو ہزار اٹھارہ میں حکومتی تبدیلی کے ساتھ یہ منصوبہ بھی تعطل کا شکار ہوا اور بالآخر حکومت نے اس پورے منصوبے کو ہی ختم کرکے پلانٹ اور زمین نیلام کرنے کا اعلان کیا جسے ہم نے پشاور ہائی کورٹ میں چینلج کیا اور آج معزز عدالت نے پلانٹ و زمینات کی نیلامی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان پلانٹ سے چترال کو بہت سارے فوائد ملنے کے امکانات تھے بالخصوص یہاں کے لوگ ایندھن کے طور پر لکڑیوں کا استعمال کرتے ہیں ان پلانٹ کے لگنے سے جنگلات کی کٹائی رک جاتی اور ماحول پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب  ہوتے۔ اس کے علاوہ گیس کے استعمال سے کیچن کے کاموں میں بھی صفائی ستھرائی کے علاوہ خواتین کے صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوتے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے ایک دو ماہ کے اندر معزز عدالت اس کیس کا فیصلہ سنائے گی اور بہت جلد ان پلانٹس کی تنصیب بھی ہوگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں