128

پی ٹی آئی کارکنان نفسیاتی عارضہ کوگنیٹیو ڈیزوننس کا شکار


ہارولڈ کیمپنگ نامی مشہور پادری نے اس نے 21 مئی 2011 کو اعلان کیا کہ دنیا میں قیامت آئے گی اور 20 کروڑ لوگ فوت ہوجائیں گے۔ کیمپنگ نے اتنی تفصیل سے ساری کہانی بیان کی کہ اس کے تمام ماننے والے اس پر یقین کر بیٹھے اور 21 مئی کا انتظار کرنے لگے۔

تحریر: ڈاکٹر فرحان ورک


آخر کیوں تحریک انصاف کے بعض بظاہر سمجھدار نظر آنے والے لوگ بھی عجیب و غریب گفتگو کرتے ہیں؟

اس تصویر میں نظر آنے والے شخص کا نام ہارولڈ کیمپنگ ہے، یہ امریکہ میں بہت مشہور پادری تھا۔ اپنے مقبولیت کے دور میں اس کے 140 سے زائد ریڈیو چینل امریکہ میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے جبکہ بیرون ملک بھی فالونگ تھی۔ وہ سب شخصیت پرست تھے اور کیمپنگ پر اندھا اعتماد کرتے تھے۔

اس نے 21 مئی 2011 کو اعلان کیا کہ دنیا میں قیامت آئے گی اور 20 کروڑ لوگ فوت ہوجائیں گے۔ کیمپنگ نے اتنی تفصیل سے ساری کہانی بیان کی کہ اس کے تمام ماننے والے اس پر یقین کر بیٹھے اور 21 مئی کا انتظار کرنے لگے۔

 حالات یہ تھے کہ ایک 14 سال کی لڑکی نے خودکشی کر لی تاکہ اس کو 21 مئی نا دیکھنا پڑے جبکہ بہت سے لوگ گھروں میں بینکر بنا کر چھپ گئے۔ میڈیا بھی دیکھتا رہا۔

 9 سال خیبر پختونواہ، 4.5  سال پنجاب اور 3.8 سال وفاق میں حکومت کے باوجود بھی نہیں آئی اور نا ہی آئے گی لیکن شخصیت پرستی کے پیروکار ہر دفعہ نئے بہانے ڈھونڈ کر دل کو تسلی دیتے ہیں۔ اس کو سائیکالوجی میں Cognitive Dissonance کہا جاتا ہے۔

21 مئی کو کوئی قیامت نہیں آئی، جب میڈیا والے ہیرولڈ کیمپنگ کے ماننے والوں کے انٹرویو لینے گئے تو انہیں لگا شاید وہ لوگ راہ راست پر آئیں گے لیکن الٹا وہ لوگ میڈیا والوں سے لڑنے لگے اور کہنے لگے کہ قیامت اس لئے نہیں آئی کیونکہ ہمارے ایمان کو چیک کیا جانا تھا کہ لوگ 21 مئی کے بعد ہیرولڈ کے ساتھ جڑے رہتے ہیں یا نہیں، اس کے علاوہ کچھ لوگ حساب کتاب سے بتاتے رہے کہ ہیرولڈ درست ہے بس تاریح چند ماہ آگے تھی۔

میڈیا والے حیران پریشان رہ گئے لیکن کچھ عرصہ بعد اسی ہیرولڈ کیمپنگ نے قیامت کی نئی تاریخ دے دی جو 21 اکتوبر 2011 تھی۔ اس کے ماننے والے دوبارہ قیامت کےانتظار میں مصروف ہوگئے، لیکن قیامت دوبارہ نہیں آئی۔

اس دفعہ میڈیا والوں کو یقین تھا کہ اس کے ماننے والے ساتھ چھوڑ گئے ہوں گے لیکن ان کو حیرت تب ہوئی جب ہیرولڈ کے ماننے والے کہنے لگے کہ ہیرولڈ کا جو قیامت کا تصور ہے وہ دراصل روحانی قیامت ہے جبکہ تم لوگ دنیاوی قیامت کا سوچ رہے تھے۔

خیر کچھ عرصہ بعد ہیرولڈ نے خود ہی تسلیم کر لیا کہ وہ غلط تھا البتہ اس کے پیروکاروں نے پھر بھی اس کو نا چھوڑا۔

یہی حال تبدیلی کا ہے جو 9 سال خیبر پختونواہ، 4.5  سال پنجاب اور 3.8 سال وفاق میں حکومت کے باوجود بھی نہیں آئی اور نا ہی آئے گی لیکن شخصیت پرستی کے پیروکار ہر دفعہ نئے بہانے ڈھونڈ کر دل کو تسلی دیتے ہیں۔ اس کو سائیکالوجی میں Cognitive Dissonance کہا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں