گدھوں کی عدالت میں پیشی کا احوال


رپورٹ۔ عزیز اللہ خان


پاکستان کی عدالتوں میں انسان پیش ہوتے رہتے ہیں لیکن آج ایک عدالت میں گدھوں کو بھی پیش کیا گیا ہے

ان گدھوں پر کیا الزام تھا کیا یہ سہولت کار کے طور پر استعمال ہوئے ہیں یا یہ مال مقدمہ کا حصہ تھے اس بارے میں سوالات سامنے آئے ہیں۔

یہ عدالت تھی اسسٹسنٹ کمشنر دروش ضلع چترال کی اور یہ گدھے بنیادی طور پر ٹمبر سمگلنگ کے لیے استعمال کیے گئے تھے ۔

چترال اور دیگر شمالی علاقوں میں ٹمبر کی سمگلنگ کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اور حکومت کوشش کرتی ہے کہ اس سمگلنگ کو روکا جا سکے لیکن ٹمبر کے جنگلات تیزی سے ختم ہوتے جا رہے ہیں۔ آج عدالت میں کیا ہوا؟

اسسٹنٹ کمشنر دروش توصیف اللہ کی عدالت میں پانچ گدھے پیش کیے گئے۔ ان گدھوں پر یہ الزام تھا کہ یہ چترال کے علاقے دروش میں ٹمبر کی سمگلنگ میں ملوث تھے۔

اسسٹنٹ کمشنر نے ان پانچ گدھوں کو ٹمبر سمگلنگ کیس میں مال مقدمہ کے طور پر طلب کیا تھا اور اطمینان کے بعد گدھے اور ٹمبر کے سلیپر۔۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے حوالے کر دیا۔

اے سی چترال نے بتایا کہ یہ گدھے آج مجسٹریٹ کی عدالت میں اس لیے پیش کیے گئے تاکہ یہ اطمینان کیا جا سکے کے گدھے بحفاظت موجود ہیں اور یہ کہ انھیں کسی اور کے حوالے نہیں کیا اور یہ کہ کہیں وہ دوبارہ سمگلنگ میں استعمال نہیں ہو رہے۔عدالت نے یہ اطمنان کیا کہ گدھے متعلقہ حکام کی تحویل میں ہی ہیں۔


گدھوں کو عدالت میں کیوں پیش کیا گیا

قصہ کچھ یوں بتایا گیا ہے کہ دروش کے ان علاقوں میں ٹمبر کی سمگلنگ کی اطلاعات انتظامیہ کو موصول ہوئی تھیں، جس پر کارروائی عمل میں لائی گئی تھی۔ سمگلنگ کے لیے وقت فجر سے پہلے کا ہوتا ہے جب ٹمبر آرا مشین پر لائے جاتے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر توصیف اللہ نے اس وقت کارروائی کرتے ہوئے تین گدھے پکڑے جس کے ساتھ ٹمبر کے چار سلیپر باندھے گئے تھے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کارروائی کے دوران ایک ملزم گرفتار ہوا ہے اور دو فرار ہوئے ہیں جبکہ گدھوں کو فارسٹ افسر کی تحویل میں دے دیا گیا تھا۔

ان کے مطابق انھوں نے یہ گدھے ایک مقامی شخص کو سپرداری پر دے دیے تھے تاکہ وہ ان کی رکھوالی کر سکیں۔

اس واقعے کے دو روز بعد پھر شکایت موصول ہوئی کہ سمگلنگ اب بھی جاری ہے، جس پر ایک مرتبہ پھر کارروائی کی گئی اور تین مزید گدھے پکڑے گئے، جن کے ساتھ ٹمبر کے سلیپر بھی تھے۔ یہاں اس کے بعد ایسی اطلاعات پہنچی تھیں کہ شاید یہ تینوں گدھے وہی ہیں جو کہ سپرداری پر دیے گئے تھے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ان میں دو گدھے نئے ہیں اور ایک گدھا وہی ہے۔

اس بارے میں عدالت نے فارسٹ حکام کو تمام گدھے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا کہ تمام گدھے جو پکڑے گئے تھے سارے کے سارے عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کل کتنے گدھے ہیں اور کیا کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ وہی گدھے پھر سے سمگلنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔

اسسٹنٹ کمشنر نے بتایا کہ آج عدالت میں ان گدھوں کو دیکھا گیا اور ان میں ایک گدھا وہی تھا لیکن یہ گدھا غلطی سے پکڑا گیا تھا یہ گدھا دوسری مرتبہ سمگلنگ میں استعمال نہیں ہوا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ جس علاقے میں سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کارروائی کی گئی تھی وہاں اندھیرا تھا اور اس ایریا میں یہ پہلے والا گدھا بھی بندھا ہوا تھا جسے اہلکار ساتھ لے آئے تھے۔ فارسٹ افسران کی جانب سے وضاحت پیش کی گئی جس پر عدالت نے اطمینان کا اظہار کیا گیا اور گدھے محکمہ جنگلات کے حکام کے حوالے کر دیا۔

محکمہ جنگلات کی جانب سے فارسٹ افسر اور دیگر اہلکار عدالت میں پیش ہوئے تھے۔

توصیف اللہ نے بتایا کہ ان گدھوں کو چونکہ سرکاری تحویل میں رکھنا مشکل ہوتا ہے۔ ان کی دیکھ بھال اور ان کی خوراک کو انتظآم کرنا ہوتا ہے اس لیے محکمہ جنگلات کے لوگ عام طور پر گدھے سپر داری پر کسی ذمہ دار شخص کو دیتے ہیں اس لیے یہ گدھے ایک آرا مشین کے مالک کو سپر داری پر دیے گئے تھے۔

یہ گدھے اور ٹمبر کے سلیپر مال مقدمہ ہوتا ہے اور یہ اس وقت تک تحویل میں رہیں گے جب تک کہ اس مقدے کا فیصلہ نہیں ہو جاتا اور جب اس مقدے کا فیصلہ ہوگا تو پھر اس کی مناسبت سے مال مقدمہ کا فیصلہ بھی ہوگا۔

گدھے ہی کیوں؟

بنیادی طور پر یہ مشکل راستہ ہے۔ پہاڑوں سے جنگلات اور ندی نالوں سے یہ ٹمبر سمگل کیا جاتا ہے۔ اور یہ پہاڑوں سے نیچے کاٹ کر جب اس لکڑی کو لایا جاتا ہے تو پھر اسے ٹکڑوں میں کاٹا جاتا ہے۔ اس علاقے میں ٹمبر کی سمگلنگ گاڑیوں پر مشکل ہوتی ہے اس لیے گدھوں کا استعمال ہوتا ہے۔

اس میں ایک بات یہ بھی اہم ہے گدھوں کو جب راستے کا علم ہوجاتا ہے تو وہ خود ہی روانہ ہو جاتے ہیں ان کے ساتھ کسی انسان کا ہونا کوئی ضروری نہیں ہوتا اور وہ اپنی منزل پر خود پہنچ جاتے ہیں سمگلر کون؟

اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ سرکاری سطح پر کہا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے بڑے سمگلر ہو سکتے ہیں۔ اور وہ غریب مزدوروں کو استعمال کرتے ہیں تاکہ سمگلنگ ممکن بنائی جا سکے۔

لیکن دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ارندو کا علاقہ دروش میں پاک افغان سرحد کے قریب واقع ہے اور اس سے غریب لوگوں کی کچھ آمدنی ہوتی ہے۔

مقامی آبادی نے بتایا ہے کہ در اصل گدھوں پر ایک یا دو لکڑی کے ٹکڑے باندھے جاتے ہیں مگر کوئی بڑے پیمانے پر سمگلنگ نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر سمگلنگ ٹرکوں میں ہوتی ہو گی، جس کے لیے دوسرے راستے استعمال کیا جا سکتے ہیں۔

بشکریہ۔ بی بی سی اردو

اپنا تبصرہ بھیجیں