اسٹیٹ سبجیکٹ رول اورگلگت بلتستان کا مقدمہ

گذشتہ چند دہایئوں سے گلگت بلتستان کی مقامی آبادی میں جوتبدیلی Demographic change دیکھنے میں آئی ہے اورمقامی لوگوں میں اپنے زمین، وسائل، ملازمتوں اورکاروبار کے مواقع سے محروم ہونے کی وجہ سے تشویش میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے. اس کا اظہار مختلیف شکلوں اور سوشل میڈیا پر ہو رہا ہے. قوم پرست قوتوں کا کہنا ہے کہ ڈوگرہ دور کے نافذ کردہ اسٹیٹ سبجیکٹ رول جس کو 1970ء کی دہائی میں ختم کیا گیا تھا، کو دوبارہ گلگت بلتستان میں بحال کیا جانا چایئے جبکہ بایاں بازو کے سیاسی قوتوں اوردانشوروں کا اس قانون کے حوالے سے تحفظات ہیں. آن کا خیال ہے کہ گلگت بلتستان کے تبدیل شدہ سیاسی وسماجی حالات میں قانون سازاسمبلی کے انتخابات اوراس کے نتیجے میں بننے والی مقنینہ کے ذریعے مقامی آبادی اور آن کے حقوق کے تحفظ کے لیے نیئے قانون سازی کے ذریعے لوگوں کے بنیادی حقوق اور وسائل پرملکیت کا تحفظ ہو سکتا ہے. اس موضوع کی حساسیت اوراہمیت کے پیش نظر ہم سمجھتے ہیں کہ اس پرسیرحاصل بحث کہ ضرورت ہے تاکہ لوگوں کوآگاہی ہو اوروہ تاریخی، سیاسی اورسماجی سیاق وسباق میں متفیقہ را ئے قائم کرسکیں اورمسقبل کے لئے نیا قومی بیانیہ تشکیل دینے میں آسانی ہو. اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر ہم ہایئ ایشیاء ہرالڈ اوربام دنیاء کے ادارہ کے ذریعے ایک سنجیدہ بحث کا آغازکررہے ہیں اوردانشوروں، سیاسی رہنمائوں، محقیقین اورلکھاریوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اس بحث کو آگے بڑھائیں. ہم یہاں گلگت بلتستان کے نوجوان محقیق، کالم نویس عزیزعلی داد کی تازہ ترین کالم جو انگریزی اخبارThe News on Sunday اور The High Asia Herald میں چھپ چکا ہے، کا ترجمہ اس آمید کے ساتھ شائع کر رہیں ہیں کہ سنجیدہ حلقہ اس موضوع پربحث میں حصہ لیں گے اوراپنی تحریریں ہمیں ارسال کریں گے.– مدیرآعلیٰ

    تحریر: عزیز علی داد

    گزشتہ کچھ عرصے سے قوم پرست قوتیں اور پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول (ایس ایس آر) کی بحالی کے لئےآوازیں بلند کر رہے ہیں۔ تاہم یہ بحث گلگت بلتستان میں ڈوگرہ حکمرانوں کے نافذ کردہ قانون کے بارے میں سیاق وسباق اورتاریخی معلومات کے فقدان کی وجہ سے ابہام کا شکار ہے۔

    گلگت بلتستان کے لوگوں کی بینادی شہریت، حقوق اورقانون کی تشریح کے حوالے سے موجودہ گتھیوں کوسلجھا نے کے لیئے نوآبادیاتی اورمابعد نوآبادیاتی دورمیں اس خطے کی قانونی حثیت کے حوالے سےکی جانے والے تبدیلیوں کوسمجھنا ضروری ہے۔

    تاریخی طور پریہ خطہ جو آج گلگت بلتستان کہلاتا ہے، چھوٹے چھوٹے ریاستوں کا ایک مجموعہ رہا ہے۔ ان ریاستوں میں مطلق العنان حکمران ہوا کرتے تھے جوتمام اختیارات کے مالک تھے۔ وہ بزعم خود قانون ساز، جج اورانتظامی سربراہ ہوتے تھے۔ کچھ علاقے مثلا چلاس، تا نگیر اورداریل قبائلی ریاستیں تھیں۔ اس نظام میں ریاست کا کوئی سربراہ نہیں ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی قبایلی ریاستوں کو "بے سرا” acephalous ریاستیں کہا جاتا ہے۔ایسی قبائلی ریاستیں ایک وضع کردہ ضابطہ اخلاق پرعمل کرتے تھے جہاں عمائدین اہم فیصلے کیا کرتے تھے۔

    گلگت بلتستان کی شخصی اورقبائلی ریاستوں کےحکمراں اپنے تمام معاملات بشمول آبادکاروں کو بسانے جیسےمسائل کو روایتی قوانین customary laws کے تحت حل کرتے تھے۔ چونکہ روایتی قوانین کی جڑیں دیسی indigenous ثقافت اورمعاشرتی نظام مِیں جڑی ہویئ تھیں اسلیے ا ن ریاستوں کوبین الریاستی یا بین العلا قائی مہاجرت کے معاملات کو نمٹانے میں کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھیں۔ کئی وادیوں میں لسانی اورنسلی تنوع آج بھی اس کی کامیابی کی گواہی دیتے ہیں۔ یہ اس مفروضہ کو بھی رد کرتا ہے کہ جغرافیایئ دشوار گزاری، ناقابل رسائ اورسخت آب و ہوا کی وجہ سےمقامی باشندوں میں نقل و حمل نہ ہونے کے برابرتھی۔

    کشمیر کے ڈوگروں نے 1860ء کی دہائی میں بلتستان اورگلگت کو فتح کرنے کے بعد طاقت کے توازن میں زبردست تبدیلی رونماء ہویئ- ڈوگرہ حکمرانوں نے خطے پراپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے نئے قوانین نافذ کئے۔ مہاراجہ کشمیرنے 1927ء میں موروثی ریاستی باشندہ کےحکمنامہ Hereditary State Subject Order کو متعارف کرایا۔ اس قانون کے ذریعے لوگوں کو ریاستی اورغیرریاستی باشندوں کی بنیاد پرتشریح اوردرجہ بندی کی گیئ۔ اس قانون کے تحت صرف جموں وکشمیرکے باشندوں کوسرکاری عہدوں پرتعیناتی، زمین کے استعمال اورملکیت کا حق دیا گیا۔ غیر ریاستی باشندوں کو ان حقوق سے محروم کردیا گیا۔ بعد میں ہندوستان نے اپنے آئین کے آرٹیکل 35-A میں ریاستی باشندہ کی اسی تشریح کو برقرار رکھا۔

    چونکہ گلگت بلتستان مہاراجہ کشمیرکے زیرانتظام کشمیرکا حصہ رہا ہے لہذا اس بنیاد پریہ کہا جاتا ہے کہ SSR کو اس خطے تک بڑھایا جائے گا۔ تاہم گلگت بلتستان میں اس قانون کے نفاذ سے متعلق کوئی دستاویزات یا سرکاری ریکارڈ محکمہ قانون کے پاس موجود نہیں ہے۔ لہذا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ SSR مابعد نوآبادیاتی دورمیں نوآبادیاتی دورکے باقیات hangover کی حثیت سے انتظامی عمل میں لٹکتا آ رہاہے.

    انیسویں صدی کے آخر میں گلگت بلتستان میں ڈوگرہ اوربرطانوی نوآبادیاتی فتوحات کی تکمیل کے بعد ڈوگروں نے کشمیراوراس وقت کے صوبہ سرحد سے کرایے کے لوگ اوراپنے کاسہ لیسوں کو لا کر گلگت بلتستان میں آباد ہونے کی اجازت دی۔ آباد کاروں میں سب سے اہم وہ پٹھان فوجی تھے جنہوں نے یاسین میں منڈوری قلعہ کی سفاکانہ فوجی مہم اورقتل عام میں حصہ لیا تھا۔ بلتستان اورگلگت میں اپنی فوجی مہموں میں ڈوگروں نے کسی اصول اور قانون کی پاسداری نہیں کیں اور بلا استثنیٰ مقامی آبادی کی نسل کشی کیں۔ یاسین میں منڈوری قلعہ کی فتح کے بعد انہوں نے ہر بالغ مرد اور بچہ کوتہہ تیغ کیا اور لڑکیوں کو اغوا کرلیا۔

    کشمیریوں کی ایک بڑی تعداد اب گلگت بلتستان کے بڑے شہروں اوردیہات میں آباد ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ڈوگرہ حکمرانوں نے اس قانون کے تحت مختلیف وادیوں اورریاستوں کے باشندوں کی نقل وحمل پرپابندی عائد کیں۔ مثال کے طورپرہنزہ اورگلگت بلتستان کے دوسرے حصوں سے آنے والے لوگوں کو صرف دن کے وقت گلگت شہر میں داخلے کی اجازت تھی۔ انہیں رات کے وقت شہرمیں نہیں رہنے دیا جاتا۔ مقامی لوگوں کی نقل و حمل پر پابندی اورغیرمقامی لوگوں کوبسنے کی اجازت 1947 تک جاری رہی تا وقتیکہ گلگت بلتستان کی جنگ ازادی کے نتیجے میں ڈوگروں کو علاقے سے بے دخل نہں کیا گیا۔ ایس ایس آر کی بحالی کے ذریعے اس طرح کے امتیازی سلوک کو دوبارہ رائج کرنے سے علاقے میں بے چینی اور لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے دوری کا باعث بنے گی۔

    گلگت بلتستان کے قوم پرست قوتیں اس حقیقت کو نظرانداز کرتےہیں کہ مقامی لوگوں نے کبھی بھی اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کا ثبوت سترکی دہائی کے اوائل میں ایڈووکیٹ جوہرعلی کی قیادت میں تنظییم ملت کے بینرتلےمقامی لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس تنظیم کا مقصد "اسٹیٹ سبجیکٹ رول کا خاتمہ اور آئینی حیثیت حاصل کرنا تھا”۔

    ستر کی دہایئ میں گلگت بلتستان میں مقامی حکمرانوں کو ان کے باقی ماندہ اختیارات سے محروم کرنے اورپاکستانی ریاستی اداروں کوبااختیاربنانے کے لیے آئینی نہیں بلکہ انتظامی سطح پر تبدیلیاں متعارف کروائی گئیں۔ مقامی ریاستوں اور ان کے قوانین کے خاتمے کے ساتھ ساتھ غیر رسمی طورپر SSR کا گلگت بلتستان سے خاتمہ کردیا گیا۔ جس کے نتیجے میں قانونی خلاء پیدا ہوا۔ اس نے غیر مقامی افراد کو گلگت بلتستان میں جائیدادیں خریدنے، سرکاری اداروں میں ملازمتیں حاصل کرنے اورگلگت بلتستان میں آباد ہونے کے مواقع فراہم کیِے-علاوہ ازیں بیرونی دنیا کے ساتھ خطے کا رابطہ استوار ہونے اوربیوروکریسی کے اختیارات میں اضافہ کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں پاکستان کے دوسرے حصوں سے لوگوں کی آمد اوریہاں بسنے کاسلسلہ شروع ہوا۔ گذشتہ چار دہایئوں میں اس میں اضافہ دیکھنے مِیں آیا ہے۔

    سیاست اورمقامی آبادی میں فرقہ واریت کا عنصرداخل ہونے کی وجہ سے لوگوں کا سیاسی معاملات، آئینی حیثیت اورمقامی باشندگی اورشہریت کی تشریح بھی فرقہ واریت کے پیمانے پر جانچا گیا۔ 1988ء کی فرقہ وارانہ کشیدگی کے بعد ہجرت اورآباد کاری کے مسئلے نے فرقہ وارانہ رخ اختیار کیا- ہرفرقہ نے اپنے ہم عقیدہ لوگوں کو گلگت بلتستان میں ہجرت کرنے کی ترغیب دینا شروع کیا تاکہ وہ دوسرے فرقوں پرعددی غلبہ حاصل کرسکیں۔

    اس مضمون کوتحریرکرتے وقت یہ اطلاع ملی کہ ہندوستان کی حکومت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کے ساتھ آرٹیکل 35-A کا خاتمہ کرکے جموں و کشمیر کی خصوصی حثیت کو ختم کیا ہے۔ ان آیئنی دفعات کے ذریعے جموں وکشمیر کے قانون سازاسمبلی کو یہ اختیارحاصیل ہے کی وہ ریاست کے مستقل رہائشیوں کی تشریح کرسکے۔ ان دفعات کی رو سے ریاست اوراس کے مستقل رہائشیوں کو خصوصی حقوق اورمراعات حاصیل ہِیں۔ اس اقدام کے ساتھ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیرمیں علیحدگی پسندوں کے خلاف بڑے پیمانے پرکاروایئ شروع کی جا رہی ہے۔

    یہ سوال جموں و کشمیر اور وہاں بھارتی حکومت کے اقدامات کے بارے میں پاکستان کے مؤقف کے لئے بہت اہم ہے- پاکستان ایک طرف جموں وکشمیر کو بھارت میں شامل کرنےکے اقدام پراحتجاج کر رہی ہے لیکن گلگت بلتستان کے حوالے سے اس کی پالیسی اس کے موقوف کو کمزورکردیتی ہے- کیونکہ اس خطے کو نہ تو پاکستان نے کوئی خصوصی حیثیت دی ہے اورنہ ہی آئینی تحفظ- جب پاکستان نے اپنے زیرانتظام کسی بھی حصےکوکویئ خصوصی حیثیت نہیں دی ہے تو اسے ہندوستان کی حکومت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پراعتراض مضحکہ خیزمعلوم ہوتا ہے۔

    یہ بات صرف پالیسی سازوں پر موقوف نہیں- کشمیرکمیٹی کے چیئرمین سید فخرامام نے 2 اگست 2019 کوتجویز پیش کیا کہ حکومت پاکستان گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ رول کو بحال کرنے پرغور کریں۔

    گلگت بلتستان کی موجودہ حیثیت کے بارے میں لوگوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔اپنے زمین اور وسائل پرحق ملکیت کے لئے مطالبہ اورآباد کاروں کے خلاف مظاہرے زور پکڑتی جا رہی ہے۔

    اس قسم کے پیچیدہ مسئلے کا حل اسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی میں نہیں جوایک مخصوص سماجی حالات اورطاقت کےبل بوتے پرنافذ کیا گیا تھا۔ آج کے تبدیل شدہ صورتحال اورگلگت بلتستان کے تکثیریت diversity کو دیکھتے ہوئے ایس ایس آر کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر موثراور بے سود ثابت ہوگی۔

    اسلیئے پاکستان کو چاہیئے کہ وہ خطے پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لئے نوآبادیاتی قانون کو بحال کرنے کی بجائے مقامی لوگوں کواعتماد میں لے کرنئے قوانین بنائے اورگلگت بلتستان میں حقوق کا ایک خصوصی بل پیش کریں جو گلگت بلتستان کے پشتنی باشندوں کی حثیت کو واضح کرے اوران کی زمینوں، ملازمتوں، وسائل، سماجی اورسیاسی حقوق کو غصب کرنےکے خلاف تحفظ دے سکے۔ اس طرح کے حفاظتی اقدامات کے بغیرلوگ اپنے کھیتوں، پہاڑوں، برف، پانی اورجنگلات پربڑے پیمانے پرجاری نوآبادیاتی قبضہ سے خوفزدہ رہیں گے۔
    حالیہ چند سالوں سے خطے کی آبادی میں زبردست تبدیلی اورغیرمقامی لوگوں کی زمینوں، کاروبار اورقدرتی وسائل پر قبضے کے نتیجے میں مقامی لوگوں کی تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسلیئے آنھوں نے احتجاجی آواز بلند کرنا شروع کردیا ہے۔

    ترجمہ: فرمان علی

اپنا تبصرہ بھیجیں