الوداع ! کامریڈ بہادر خان

تحریر: فرمان بیگ

گوجال اور بالخصوص افگرچی کے عوام آج ایک حقیقی انقلابی، عوام دوست باشعور انسان سے محروم ہوگئے.

جناب بہادر خان المعروف دول بہادر بیاسی سال کے عمر میں طبعی طور پر ہم سے جدا ہوئے لیکن ان کی جدوجید اور آدرش ہمارے درمیان موجود ہے.

بہادر خان ان چند اشخاص میں شامل تھے جنھوں نے ہنزہ گوجال کے عوام کو میری نظام کے ظلم و استبداد سےنجات دلانے میں ہراول کردار اداکیاتھاجس کی وجہ سے انھیں طرح طرح کے مسائل ومشکلات سے دو چار ہونا پڑا. جیسا کہ تاریخ میں ازل سے ہوتا آیا ہے جس نے بھی جمود کو ٹوڑنے کی کوشیش کیں اور حکمرانوں کو للکارا ان کے خلاف مذہب کے ٹھیکیداروں نے طرح طرح کے فتوےلگائے. بہادر اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بھی یہی حربہ میر اور ان کے حواریوں نے استعمال کیئے. یہاں تک کہ انہیں جان سے مارنے تک کی دہمکیاں بھی ملتی رہی. ان سب کے باوجود وہ ہمیشہ عزم واستقلال کے ساتھ عوام کے اجتماعی حقوق کےلیےاپنے آخری سانس تک کمربستہ رہے۔

بہادر نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1960ء کی دہائی میں کراچی میں ہنزہ نگر کی آزادی کی تحریک سے کیاتھا اور ہنزہ گوجال کے عوام کو ریاست ہنزہ کے حکمراں طبقوں کے ظلم وجبر اور بے جا ٹیکسوں سے آزادی دلانے اور انصاف پر مبنی معاشی سماجی نظام اور ایک روشن خیال معاشرے کی تشکیل کی خاطر اس وقت کے ترقی پسند پاکستان پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے اور آخری سانس تک اس سے وابستہ رہے. البتہ جب بھی کوئی اجتماعی عوامی حقوق اور مسائل پر بات کرتا یا کسی بھی عوامی تحریک کا آغاز ہوتا وہ ان میں پیش پیش ہوتے تھے خواء وہ برگیڈئر اسلم بیگ ہوٹل کیس ہو یا خنجراب نشنل پارک کیس، وہ ہمیشہ صف اول میں کھڑے رہے۔

مجھے یاد ہے جب اسی کی دہائی میں گلگت بلتستان جمہوری محاذ نے عوامی حقوق اور وسائل پر سرمایہ دار اسلم بیگ کے ناجائز قبضے کے خلاف احتجاج اور جلسوں کا آغاز کیا تومرحوم نہ صرف خود ان میں بھر پور شریک ہوئے بلکہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں کی شرکت کو بھی یقینی بناتے تھے ان کی شرکت سے ہمیں حوصلہ ملا کرتا تھا. کئی مرتبہ انھوں نے گلگت بلتستان جمہوری محاذ کے جلسے کی صدارت بھی کی اس وقت جن بزرگوں سے ہمیں حوصلہ ملا ان میں غلام محمد ،زمان علی، ہنر بیگ، ملا بردی اور دیگر شامل تھے جو ہمارے ساتھ بھی دیتے تھے حوصلے بھی بڑھاتے اور مشکل وقت میں ہمارے ساتھ کھڑے بھی رہتے تھے.
وہ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ "ہم نے اگرچہ میری نظام کا تو خاتمہ کر لیا لیکن حقیقی آزادی ہمیں نہیں ملا، کیونکہ وہی حکمران خاندان کے لوگ نوکرشاہی کے روپ میں دوبارہ ہمارے اوپر مسلط کئے گئے. جو اج تک جاری ہے. ہمارا معاشرہ ابھی تک غلامی سے مکمل آزاد نہیں ہوا ہے”. جس کا دکھ اور افسوس بھی ان کو تھا.

اکثر سیاسی حوالے سے گفتگو میں اس بات پر دکھی ہوجاتاتھا کہ ہمارے بچے پڑھ لکھ گئے لیکن سیاسی شعور سے نابلد ہیں اپنے جائز حقوق لینے سے بھی گھبراتے ہیں. وہ اکثرکیا کرتےتھے کہ نوکری کے لئے تعلیم کے ساتھ بچوں کو سیاسی تعلیم بھی دینا چاہیے تاکہ وہ اپنے معاشرے کو صحیح معنوں میں سمجھ سکیں اور آئینی اور سیاسی حقوق کے بارے میں جانکاری حاصیل کر سکیں. ان کا یہ بھی کہنا تھا غیر سرکاری اداروں کے آنے سے ہمارے بچوں کے خواب اور زندگی اور تعلیم کے مقاصد صرف اپنے ذاتی فائدے اور بڑی بڑی تنخواء کا حصول بن گیا۔وہ زندگی کے اعلی ادرشوں اور اجتماعی سوچ سے ہٹ گئے.

سیاست کے ساتھ انھوں نے لوگوں کی معاشیفلاح و بہبود اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی گران قدر خدمات سرانجام دیں. وہ خنجراب دیہی تنظیم (کے وی او) کے بانیوں میں سےتھے اور اس کے صدر بھی رہے. اپنے دور صدارت میں انھوں نے بچیوں کے تعلیم کے حصول کو یقینی بنانے کےلیے گلگت شہر میں ایک ہوسٹل تعمیر کرایا.

دوسرے جانب جنگل اور جنگلی حیات کےتحفظ کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیا. جنگلی جانوروں کے قانونی شکار کے آمدن سے خنجراب دیہی تنظیم کے ممبران کے معاشی ضرورتوں کو پوراکرنے کے لیے سوسیائٹی کا قیام عمل میں لایا.
ان کی سیاسی سماجی معاشی اور ماحولیاتی تحفظ کی فہرست بہت لمبی ہیں۔ یہ ان کے عوام دوستی اور پختہ انقلابی سوچ کا مظہر تھا کہ بیاسی سال کی عمر میں بھیاپنی بیماری کا پرواہ کئے بغیر جوانوں سے ذیادہ باہمت اور حوصلے کے ساتھ افگرچ کے عوام کی خدمت میں دن رات ایک کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں