انٹرنیٹ: طلباء تحریک کی باز گشت پارلیمنٹ تک سنائی دینے لگی

بام جہاں رپورٹ

آن لائن کلاسز کے خلاف اور انٹرنیٹ تک رسائی کے لئے گلگت بلتستان سمیت پاکستان کے زیر انتظام کشمیر، بلوچستان ، سابق قبائیلی علاقوں میں طلباء و طالبات کا احتجاج گزشتہ ایک مہنے سے جاری ہے۔ اور اب سماجی رابطہ کے پلیٹ فارمز پر بھی مہم شروع کیا گیا ہے جو گزشتہ دو دن سے ٹرینڈنگ کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر جا ری ہے ۔ ڈیجیٹل رائیٹس موومینٹ کے نام سے یہ مہم گلگت بلتستان کے کچھ باشعور طلباء جو پاکستان کے مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں اور کورونا وباء کے پھیلنے اور تعلیی اداروں کے بند ہونے کے نتیجے مںک اپنے آبائی علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں ، نے شروع کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے ہدایات کے مطابق یونیورسٹیوں نے آن لائن کلا سز، امتحانات کے شروع ہونے سے دور دراز پہاڑی علاقوں میں رہنے والے طلبا و طالبات کو کئی مشکلات کا سامنا ہے جن میں ناقص انٹرنیٹ اور بجلی کی بحران شامل ہیں۔

گلگت بلتستان، کشمیر اور ٖسابقہ قبائی علاقوں میں اسپیشل کمونیکیشن آرگنائزیشن جو انفارمیشن ٹیکنالوجی منسٹری کا ایک ماتحت ادارہ ہے کی ان علاقوں میں ٹیلی کمونیکیشن سورس پہیا کرتی ہے اور دوسرے ٹیلی کام کمپنیوں کو اجزت نہیں ۔ ایس کام ان علاقوں میں 2 جی انٹرنیٹ سروس مہیا نکرتی بیشتر علاقوں مین سرے سے انٹرنیٹ سروس ہی نہیں ہے جس کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے خاص طور پر ایچ ای سی کے آن لائن کلا سوں کے اجرا کے بعد طلبا روڈوں پر نکل آئے۔

طلباء کے احتجاج کی باز گشت پارلیمینٹ تک پہنچ گئی۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا خصوصی اجلاس اسی مسئلے کے اوپر 3 جولائی کو پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جہاں پسماندہ اور دور دراز کے علاقوں میں رہنے والے طلبا کو آن لائن کلاسسز اور انٹرنیٹ کے درپیش مسائل کا تفصیلی جا ئزہ لیا گیا۔

کمیٹی کی چیئر پرسن روبینہ خالد نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن، وزارت تعلیم اور ہائر ایجوکیشن کمیشن پر زور دیا کہ وہ طلباء کے مسائل کے حل کے لیے جامع حکمت عملی بنائیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ غریب طلباء کی سہولت کے لئے فون اور لیپ ٹاپ پر ڈیوٹی کم کی جائے تاکہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔

اس موقعہ پر سینٹر شہزاد وسیم نے طلباء کے مسائل کے حل کے لئے سیٹزن ڈیجیٹل کونیکٹوٹی ہاٹ سپاٹ بنانے کی تجویز دی تاکہ دور دراز علاقوں میں عام لوگوں کی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی بنائی جا سکے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل پاکستان کے لئے کیے گئے اقدامات کو مزید توسیع دیتے ہوئے عام آدمی تک سمارٹ فونز اور ڈیجیٹل آلات کی فراہمی آسان بنانا ہو گی۔

سینٹر کلثوم پروین نے موقف اختیار کیا کہ اسلام آباد کی حد تک آن لائن کلاسسز کا اجراء ٹھیک ہے لیکن بلوچستان جیسے صوبے میں اس کی منطق سمجھ سے باہر ہے جہاں ایک تو انٹرنیٹ ہی نہیں اور دوسرا غربت اتنی ہے کہ لوگ انٹرنیٹ افورڈ ہی نہیں کر سکتے۔

سینٹر تاج محمد آفریدی نے فاٹا میں انٹرنیٹ کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کمیٹی کو بتایا کہ وہ تمام سسٹم ہونے کے باوجود انٹرنیٹ فراہم نہیں کیا جا رہا ۔ چیئرمین پی ٹی اے نے فاٹا کے حوالے سے کمیٹی کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے چند علاقوں میں ڈیٹا سروس بند ہے۔ ان کے مطابق فاٹا میں فکسڈ انٹرنیٹ کے 9 ہزار کنکشن کام کر رہے تھے اور 4900مزید کنکشن جاری کئے گئے ہیں۔

ایم ڈی ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نادیہ طاہر کے مطابق پاکستان کے 20 لاکھ یونیورسٹی طلباء میں سے پانچ لاکھ طلباء انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ کمیٹی اجلاس میں وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی سید امین الحق نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت نے وزارت تعلیم اور آئی ٹی کو یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ آئی ٹی سسٹم کو سستا کیا جائے اور ملک کے پسماندہ علاقوں میں انٹرنیٹ کے فروغ کے لیے کام جاری ہے۔

چیئرمین پی ٹی اے نے کمیٹی ممبران کو آگاہ کیا کہ پاکستان کی 80فیصد آبادی کے لیے انٹرنیٹ موجود ہے جبکہ صرف 40 سے 45 فیصد آبادی یہ سہولت استعمال کر رہی ہے۔
یاد رہے پاکستان میں کرونا وبا کی وجہ سے آن لائن ایجوکیشن سسٹم پر عمل کیا جا رہا ہے اور انٹرنیٹ کے مسائل کو لیکر پاکستانی طلباء سراپا احتجاج ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں