بحریہ ٹاؤن کیس، ایک تاریخی فیصلے کی تمنا


عومر درویش

بحریہ ٹاؤن کراچی اپنے قیام کے پہلے ہی دن سے متنازع اور غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ مگر سندھ گورنمنٹ بحریہ ٹاؤن کی پشت پر کھڑی رہی۔ سندھ گورنمنٹ نے اپنی پوری مشنری بحریہ ٹاؤن کراچی کی حفاظت میں لگا دی تھی۔ پولیس، ریونیو، لینڈ ڈپارٹمنٹ سب کے سب جہاں سے اربوں روپوں کی کرپشن ہوئی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ منی لانڈرنگ میں بھی ملک ریاض اور اس کی فیملی بھی شامل ہے اور بحریہ ٹاؤن کراچی کے اکاؤنٹس سے ارب روپے کی جعلی اکاؤنٹس میں منتقلی بھی ہوئی ہے جن کا تعلق آصف علی زرداری سے جوڑا جاتا ہے۔

تو سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک ریاض کی طرف سے اربوں روپے ان جعلی اکاؤنٹس میں کس مد میں منتقل کیے گئے؟۔ کہیں یہ آصف علی زرداری کو ملیر کی زمینوں کے قبضہ کرنے کی مد میں تو نہیں دیے گئے؟۔ ملک ریاض نے ہزاروں ایکڑ قبضہ کیا ہے جو مقامی لوگوں کی اور سرکاری اراضی ہے۔ تو یہ اربوں روپے کی منتقلی کسی اور جگہ کیوں؟۔ غیر قانونی طریقے سے زمینوں کی منتقلی، کراچی اور ضلع جامشورو کے جنگلات کی زمینوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مقامی لوگوں کو پولیس کی طرف سے حراساں کیا گیا اور ان پر دہشت گردی کے کیس بھی لگائے گئے جس میں مشہور پولیس آفسر راؤ انوار سرفہرست ہیں۔ مقامی تنظیموں اور مقامی زمینداروں کے احتجاجوں اور بحریہ کے خلاف زمینوں پر قبضوں کے کیسز بھی داخل ہوئے جن کے بنیاد پر کئی وکلا کو حراساں اور اغوا بھی کیا گیا۔ اس خوف سے مقامی لوگوں کا کیس کوئی لینے کو تیار نہیں تھا۔

اب جب کیس سپریم کورٹ تک پہنچ گیا اور نیب نے مقامی لوگوں اور مقامی تنظیموں تک بحریہ کیس کے لیے رسائی کی، جس کی وجہ سے نیب نے سندھ گورنمنٹ کے کئی اداروں کے دفاتر پر چھاپے مارے اور اربوں روپوں کی کرپشن کیس کھولے۔ نیز بحریہ ٹاؤن کے آفیس پر بھی چھاپا پڑا اور سپریم کورٹ کی جانب سے بحریہ ٹائون کے تمام ترقیاتی کام اور بجلی بند کرنی پڑی۔ جس پر بحریہ ٹاؤن کراچی نے گورنمنٹ اور سپریم کورٹ کو بلیک میل کرنے کے لیے اپنے ملازمین، انویسٹر اور ٹھیکیداروں کے ملازمین کو جمع کر کے موٹر وے کراچی کو بند کر دیا اور کراچی شہر کی مرکزی شارع کو بلاک کر دیا۔

انہوں‌ نے یہ مؤقف رکھا کہ بحریہ ٹاؤن کراچی سے ہزاروں خاندان فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے، اس لیے سپریم کورٹ پاکستان اپنا یہ فیصلہ واپس لے، جس سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بحریہ ٹاؤن نے اپنے ملازمین کی کئی مہینوں سے تنخواہیں روکی ہوئی ہیں اور ٹھیکیداروں کی کئی مہینوں سے ادائیگیاں نہیں ہوئی ہیں۔ یہ انویسٹروں کو سوچنا چاہیے تھا کہ ایک ایسا پروجیکٹ جو پہلے ہی دن سے متنازع ہے تو انہوں نے کیوں اپنا پیسہ یہاں لگایا؟۔ پاکستانی لوگوں کو اپنی یہ نفسیات بدلنا ہوگی کہ پاکستان میں کچھ نہیں ہوتا اور ہر کام پیسے سے قانونی بن جاتا ہے۔

اب سوال یہاں یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایک غیر قانونی اور دہشت کے زور پر قبضہ کی ہوئی زمین کو کیسے قانونی قرار دیا جائے؟ پا پھر اس بنیاد پر ان تمام غیر قانونی کاموں اور ان ہزراوں غیر قانونی کاموں کو قانونی قرادیا دیا جائے جو پاکستان کے آئین میں درج ہیں۔

اس سے پہلے سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے سامنے سندھ گورنمنٹ سے زمین کی نئے سرے سے خرید و فروخت کا آپشن رکھا ہے۔ کیا اس نئی خرید و فروخت سے پھر سے کرپشن ہوگی؟۔ اس سے پہلے بحریہ ہی کے ساتھ اربوں روپے کی کرپشن ہو چکی ہے۔ ان ہزاروں ایکڑ کی خردبرد سے ایک روپیہ بھی سندھ کے خزانے میں جمع نہیں ہوا۔ تو سپریم کورٹ کا یہ انوکھا فیصلہ کیا ثابت کرتا ہے۔؟ یہی کہ دوبارہ سے انہی زمینوں کی لین دین کرو اور نئے سرے سے کرپشن کر لو؟ اس سے کیا ہوگا؟۔ یہی کہ بحریہ ٹاؤن اتھارٹی انویسٹروں سے اور زیادہ پیسے بٹور لے گا۔

سپریم کورٹ کو اس طرح کے فیصلے دینے سے پہلے کئی بار سوچنا ہوگا۔ لازم ہے کہ سپریم کورٹ ایسے بچکانہ فیصلوں سے پرہیز کرے جس سے ہر غیرقانونی کام قانونی ہو جائے۔

یہ ایک تاریخی مقدمہ ہو گا اور عوام ایک تاریخی فیصلے کی تمنا رکھتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا سپریم کورٹ ملک ریاض کی جیب میں ہے یا واقعی قانون سے کوئی بالا تر نہیں۔

بشکریہ حال حوال

اپنا تبصرہ بھیجیں