تحریک آزادی کے ہیرو دادا امیر حیدر…کچھ یادیں کچھ باتیں

دادا امیر حیدر زندگی بھر عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

تحریر۔جاوید احمد

3 مارچ 1900ء کو راولپنڈی کے گاؤں کالیاں سیالیاں تحصیل گوجرخان کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ جس کا نام امیر حیدر رکھا گیا، آگے چل کر دادا امیرحیدر کے نام سے انقلابی رہنما کے طور پر مقبول ہوا۔

دادا امیر حیدر ابھی پانچ سال کے تھے کہ باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور تنگ دستی کے ماحول میں بھی اس بچے کا ذہن کچھ کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے بہت بے تاب تھا۔
ابھی عمر بارہ سال کی تھی کہ گھر سے نکل کھڑا ہوا اور بغیر ٹکٹ سفر کرتا ہوا بمبئی پہنچ گیا۔یہ وہ زمانہ تھا جب جنگ عظیم اوّل شروع ہو چکی تھی اور بحری جہازوں میں جنگی اور دوسرا سامان دنیا کے مختلف حصوں میں لے جایا جا رہا تھا۔وہ بھی ایک بحری جہاز میں کوئلہ دھونکنے کی ملازمت کرنے لگے۔انھیں کئی ممالک میں جانے کا موقع ملا۔ یہاں تک کہ 1918ء میں ان کا جہاز امریکا پہنچا تو انھوں نے اس کی نوکری چھوڑ کر ایک امریکی جہاز میں ملازمت کر لی۔ انھیں امریکی شہریت بھی مل گئی۔انھوں نے امریکا میں کمیونسٹ پارٹی کی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور پھر تعلیم و تربیت کے لیے ماسکو چلے گئے۔1928ء میں وہ امریکا واپس جانے کے بجائے ایک جرمن جہاز میں ملازمت کر کے واپس ہندوستان آ گئے۔یہاں اپنی سرگرمیوں کی وجہ سے کئی بار قید وبند کی مصیبتیں بھی جھیلیں۔یہ سلسلہ قیام پاکستان کے بعد بھی جاری رہا۔

پرہفیسر یوسف حسن دادا پروفیسر یوسف حسن دادا امیر حیدر کی یاد میں راولپنڈی پریس کلب میں نیشنل ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام تقریب سے خطاب کر رہے ہیں.(فائل فوٹو)

میرا دادا کے ساتھ کام کرنے کا دورانیہ 1968ء سے 1978ء تک رہا۔ جب وہ گاؤں میں سکول قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ ہماری اکثر ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ شاید اپنی زمین پر سکول قائم کرنا ان کے خون میں شامل تھا۔اس سے قبل 1958ء میں دو کمروں پر مشتمل ایک سکول قائم کیا تھا اور خود انتہائی گہرے برساتی نالے سے پتھر اُٹھا کر لاتے رہے۔ سکول کی تعمیر کے بعد انھوں نے کمیونسٹ پارٹی سے درخواست کی کہ پارٹی کے ایک استاد کو یہاں بجھوایا جائے، جو باقاعدگی سے تعلیم دے سکے۔

پاکستان کے بائیں بازو کے ممتاز رہنما عابد حسن منٹو کے بڑے بھائی خالد منٹو جو کہ راولپنڈی میں رہتے تھے،وہ اکثر محنت کشوں کے لیے مالی امداد بھی فراہم کرتے تھے اور ان کے بقول اس وقت پارٹی کا آفس نشاط سینما راولپنڈی کے قریب ہوتا تھا۔ اور عابد حسن منٹو سائیکل پر گھر گھر پارٹی کا اخبار پہنچاتے تھے۔ میری خالد منٹو صاحب سے صدر میں واقع ان کی دکان کوسموس پر اکثر ملاقاتیں رہیں۔

ایک دفعہ میں نے ڈپٹی سیکرٹری غالب سے ان کا تعارف کرواتے ہوئے ان کے بارے میں کہا کہ یہ عابد حسن منٹو کے بھائی ہیں۔ تو انھوں نے فوراً مجھے ٹوکتے ہوئے کہا: ” نہیں عابد میرا بھائی ہے۔” ایوب خان کا مارشل لاء لگنے کے بعد کالیاں میں ایک دن فوجی جیپ آئی،جس کے سوار سکول گرانا چاہتے تھے۔ایوب کے دور میں مکمل طور پر پاکستان امریکی کیمپ میں جا چکا تھا۔ دادا کی بہن بخت بی بی جو کہ بکریاں چراتے ہوئے پوٹھوار میں ایک کلھاڑی اپنے پاس رکھتے ہیں، اس کو لہراتے ہوئے فوجی کیپٹن کے سامنے آ گئی کہ ” یہ میرے بھائی کا سکول ہے، جسے کوئی نہیں گرا سکتا۔جو آگے آیا اس کی گردن اُڑا دوں گی۔” فوجی یہ دیکھ کر چلے گئے اور چند دنوں کے بعد ایک تاریک رات کو کمانڈو ایکشن کرتے ہوئے اس سکول کی اینٹیں بھی اُٹھا کر لے گئے۔
دادا اکثر ہمارے ٹریڈ یونین کی تنظیم متحدہ مزدور محاذ کے دفتر واقع مری روڈ راولپنڈی میں آتے تھے۔

غالباً یکم مئی 1975ء کو راولپنڈی پریس کلب میں جلسہ منعقد کیا گیا تھا اس کی صدارت دادا امیر حیدر نے کی جب کہ مجھے نظامت کے فرائض ادا کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔اس موقع پر دادا امیر حیدر نے اپنی تقریر میں بے شمار باتیں کیں مگر مجھے جہاں تک یاد ہے انھوں نے بیسویں صدی کے حوالے سے کہا کہ اس کے دو بڑے واقعات ہیں جو 1917ء کا سوویت انقلاب اور اس کے بعد ویت نام میں امریکیوں کی شکست فاش۔

پروفیسر خواجہ مسعود

راولپنڈی کے ممتاز ماہر تعلیم گارڈون کالج کے پرنسپل پروفیسر خواجہ مسعود اوربایاں بازو کے رہنماء جس طریقے سے دادا کی تکریم کرتے تھے، اس پر رشک آتا تھا۔

دادا اکثر مری روڈ پر پیدل جاتے نظر آتے۔ ڈاکٹر ایوب مرزا وہاں سے گزرتے تو انھیں انتہائی احترام کے ساتھ اپنی گاڑی میں چھوڑ آتے۔

80 کی دہائی میں کویت آنے کے بعد ایک طویل عرصے کے بعد ایک اچھی خبر ملی کہ پاک چین فرینڈ شپ ایسوسی ایشن کے سربراہ ممتاز دانش ور ڈاکٹر ایوب مرزا نے دادا کے بارے میں ایک سوانحی ناول لکھا جس کا نام ” دامِ موج” ہے.

فیض صاحب کے راولپنڈی میں قیام کے دوران ایوب مرزا ہی ان کے ڈرائیور و غم گسار ہوتے تھے۔ انھوں نے بعد میں دو اور مشہور کتابیں "فیض نامہ” اور” ہم کہ ٹھہرے اجنبی” بھی لکھیں۔
1989ء میں جب دادا کا انتقال ہوا تو اس وقت ہم کویت میں تھے ۔دو اگست 1990ء کو کویت پر عراق کے قبضے کے بعد جب ہمیں یہاں سے نکلنا پڑا تو ہم سترہ روز گاڑی چلاتے ہوئے کویت سے عراق، ترکی، ایران ہوتے ہوئے پاکستان پہنچے۔

پاکستان میں اپنے قیام کے ایک سال کے دوران دو قبروں پر حاضری دی جن میں پوٹھوہار کے عظیم فرزند دادا امیر حیدر کی قبر پر جہانگیر اختر کے ہم راہ پھولوں کا نذرانہ پیش کیا اور دوسرا اپنی والدہ ماجدہ کی قبر پر اسلام آباد کے قبرستان میں حاضری دی۔اسی دوران معلوم ہوا کہ آخری دنوں میں انھیں اس بات کا بہت قلق تھا کہ انھوں نے بڑی جدوجہد کے بعد ایک نوجوان کو ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے ماسکو بھیجا کہ وہ واپس آ کر ان کے علاقے میں خدمات انجام دے گا مگر وہ نوجوان ڈاکٹر شہر کی رنگینیوں سے پیچھا نہ چھڑا سکا۔

وفات سے قبل وہ اپنی قبر کا کتبہ یا وصیت تحریر کرواچکے تھے۔ اسلام آباد کے ساتھیوں کی اطلاع کے مطابق دادا کی وفات کے دن سخت بارش تھی۔اس شدید بارش کے باوجود کئی غیرملکی رفقا ان کی تدفین میں شامل ہوئے اور انھیں انھی کے قائم کردہ سکول کے احاطے میں ہی دفن کیا گیا۔اسی دوران کمیونسٹ پارٹی کے اخبار "پیٹریاٹ” نے ان کے بارے میں پہلی کتاب شائع کی۔
اسی دوران ہمارے ایک دوست نسیم احمد کے بھائی دہلی جا رہے تھے تو خواجہ مسعود کے رقعہ کے ذریعے ان سے یہ کتاب منگوائی گئی۔

1991ء میں دادا کی برسی منائی گئی۔ میں نے کویت کے ساتھی نعیم مرزا کے ہم راہ اس میں شرکت کی۔ جہاں ایک طویل عرصے کے بعد پرانے ساتھیوں نظیر مسیح اور ظہیر رضوی سے بھی ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام ترقی پسند کارکنوں کے علاوہ پوٹھوہار کی تاریخ پر اتھارٹی رکھنے والے دانش ور افضل پرویز اور مہمان خصوصی عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل اجمل خٹک تھے۔ ان سے شاید آخری ملاقات تھی۔ جنھوں نے دادا کے بارے میں انگریزی کتاب کا ترجمہ کرنے کا وعدہ کیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ” اگر صحت نے اجازت نہ دی تو میرا بیٹا یہ کام کرے گا۔”

اسی دوران پروفیسر حسن گردیزی (کینیڈا والے) سے بھی ملاقات ہوئی۔ وہ کویت میں کام کرنے والے افتادگان خاک کے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اور بعد میں کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر جعفر احمد نے دادا امیر حیدر کے بارے میں انگریزی میں دو جلدیں شائع کیں تو دل باغ باغ ہو گیا۔ کامریڈ اعزیزی کی کتاب پاکستان میں کمیونسٹ تحریک کے ابتدائی جانثار ۔۔ ۔۔”رفیقان صدق وصفا” جو کہ تقریبا 33 ترقی پسند شخصیات کے خاکوں پر مشتمل ہے اس کے حصہ دوم کا پہلا خاکہ کامریڈ دادا امیرحیدر کے عنوان سے شامل ہے 184 صفات پر مشتمل یہ کتاب سانجھ پبلی کیشن نے 2016 میں شائع کی۔کامریڈ اعز عزیزی کے بیٹے سید احمر عزیزی نے خلوص دل کے ساتھ پاکستان کے ممتاز خاکہ نگار شاہد حنائی کے ذریعے کتاب ہمیں کراچی سے کویت بھجوائی جس کے لئے ہم انکے شکر گزار ہیں۔

دادا پر جو چند کالم لکھے گئے ان میں سب سے پہلےلکھنے والوں میں مولانا کوثر نیازی، احمد ندیم قاسمی، نذیرناجی، منو بھائی، اور محترمہ زاہدہ حنا شامل ہیں۔
پروفیسر جعفر احمد سے ایک دفعہ فون پر بات بھی ہوئی تھی۔ مذکورہ کتاب کے اردو کے ترجمے کا انتظار ہے۔

بیسویں صدی کے عوامی شاعر حبیب جالب اپنی ” کتاب جالب بیتی” کے صفحہ 66 پر رقم طراز ہیں۔

” دادا امیر حیدر جو بہت بڑے کمیونسٹ لیڈر تھے انھوں نے کچھ دن امریکا میں بھی کام کیا تھا۔ دلی اور بمبئی میں بھی رہے۔ بمبئی میں تو ایک جگہ” امیر حیدر ہال” ان کے نام سے موسوم ہے۔ وہ میرے بڑے سرپرست تھے، مجھے بہت پیار کرتے تھے۔ انھوں نے اپنی زمین ایک سکول کے لیے وقف کر دی تھی اور خود تمام زندگی اپنے نظریات کے ساتھ گزاری۔ انھوں نے کبھی کوئی وظیفہ گورنمنٹ سے نہیں لیا ۔فیض صاحب اور ایوب مرزا نے ان کو وظیفہ دلانے کی کوشش کی تھی لیکن انھوں نے انکار کر دیا”۔

پاکستان کے ہر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے والے اور ہر حکمران کے دور میں جیل جانے والے سب سے بڑے مزاحمتی شاعر حبیب جالب نے دادا امیر حیدر کے بارے میں یہ کہا۔

دادا امیر حیدر۔
نہیں ہیں کوئی بھی داغ سجدہ تری جبیں پر
ڈٹا رہا عرصہ وفا میں تو زندگی بھر
کھڑے ہیں ساحل پہ ہم سمندر کا تو شناور
میں اپنی عزت بڑھا رہا ہوں تیرے لیے چند شعر کَہ کر
عظیم دادا امیر حیدر عظیم دادا امیر حیدر
عذاب ہے اپنی سادہ لوحی
لبوں پہ رہتی ہے بات دل کی
زمانہ کہتا ہے اُس کو مانوں
منافقوں میں گھرا ہوا ہوں
کدھر سے نکلوں میں ان سے بچ کر
عظیم دادا امیر حیدر عظیم دادا امیر حیدر
زبان و دل مختلف نہیں ہیں
کہاجو تُو نے وہی کیا ہے
کہاں کوئی اس طرح جیاہے
کہاں کوئی باضمیر تجھ سا
تُو وہ نَوا ہے دبا نہ پایا
جسے جہاں میں ستمگر کوئی
عظیم دادا امیر حیدر عظیم دادا امیر حیدر

اپنا تبصرہ بھیجیں