حسن صباح اور الموت کا پراسرار گوشہ

حسن صباح اور الموت کا پراسرار گوشہ
کریم اللہ
ایران کے شہر قم میں پیدا ہونے والا حسن صباح (حسن بن صباح ) شاید تاریخ کا سب سے متنازعہ اور طلسماتی کردار ہے۔ مختلف تاریخی حوالوں میں اس اسماعیلی داعی اور سردار کو ایک انتہا پسند، دہشتگرد اور سازشی آدمی کے طورپر پیش کیا گیا ہے جو مخالفین کی سرکوبی کے لئے جائز و ناجائز طریقوں کو بروئےکار لاتا تھا۔ حسن کے متعلق یہ افسانہ مشہور ہے کہ وہ وادی الموت کے دشوار گزار پہاڑوں پر موجود اپنے قلعہ میں ایک مصنوعی جنت بنا رکھا تھا اور اپنی فدائیوں کو حشیش پلاکر اس جنت میں لے جاتا۔ وہاں خوبرو لڑکیاں موجود ہوتی تھیں۔ باغ کے اندر دودھ، شہد اور شراب کی نہریں بھی بہہ رہی ہوتی۔ ان تمام آلائشوں میں ان فدائیوں کو ٹھہرا کر یقین دلایا جاتا تھا کہ یہی اصل جنت ہے۔ پھر انہیں حشیش پلا کر دوبارہ مدہوشی کے عالم میں باہر لایا جاتا تھا اور ان سے کہا جاتا کہ اگر وہ فلاں شخص کوقتل کرے تو مستقل طور پر اس جنت کو اپنا مسکن بنا سکتے ہیں۔ یوں جنت کا خواب دکھا کر اور حشیش پلا کر سیاسی اور مذہبی مخالفین کو خفیہ مگر انتہائی سفاک طریقے سے راستے سے ہٹایا جاتا تھا۔ حسن صباح کے متعلق ایسی داستانیں صدیوں سے مشہور ہیں جنکی وجہ سے انہیں اساسین/ حشیشین کا سردار اور خودکش حملہ آوروں کا بانی کہا جاتا ہے۔

ان افسانوں سے قطع نظر کوئی بھی تاریخی روایت نقل کرتے ہوئے ہمیں یہ ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس کا تعلق ارضی حقائق سے ہو نہ کہ افسانوی داستانوں سے۔ حسن صباح کے متعلق ان تمام باتوں کی جڑیں یا تو انکے مخالفین کی بیان کردہ روایات میں ہیں یا پھر ناولوں اور داستانوں میں۔ اردو میں عبدالحلیم شرر کا ناول "فردوسِ بریں” اسکی اہم مثال ہے جس میں ریاستِ الموت کا نقشہ اس طرح کھینچا گیا ہے۔ موجودہ دور میں اس حوالے سے کئی اہم اور مستند ریسرچ سامنے آئی ہیں جن کی وجہ سے تاریخ کے اس طلسماتی کردار کی شخصیت پر سے پردے اٹھ گئے ہیں۔ حسن کے متعلق زیادہ تر مغالطے تاریخی حوالوں کے بغیر بھی صرف عقلی استدلال سے دور کیے جاسکتے ہیں۔ ”حشیش ایک مسکن اعصاب ہے وہ ایسی چیز نہیں جو کسی کو فداکاری اور جان بازی پر مائل کر سکے بلکہ اس کے برعکس وہ آدمی کو کمزور کرتی ہے اور آہستہ آہستہ اس کی قوت ارادی کو سلب کر لیتی ہے۔“(حسن بن صباح، کریم کشاور صفحہ 170,171،حسن بن صباح از جواد مسقطی، مترجم جون ایلیا، صفحہ 30)۔
یہ بات بھی بعید از قیاس ہے کہ الموت کی خشک وادی اور سنگلاخ پہاڑوں میں کوئی جنت نما باغ بناکر وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی جاسکتی ہیں۔ قلعہ الموت سطح زمین سے 200 میٹر بلند پہاڑی پر واقع خالص دفاعی نوعیت کا قلعہ ہے جس میں کسی بہشت کی موجودگی مخالفین کی معتصب ذہنی اًختراع ہوسکتی ہے حقیقت نہیں۔

حشیش اورجنت کے متعلق ان افسانوی داستانوں کا اولین راوی مارکوپولو ہے۔ انہوں نے اپنا سفر نامہ 1298ء یعنی الموت کی تباہی کے 42 برس بعد لکھا۔ البتہ جدید محققین نے اس سفرنامے میں الموت کے بارے میں بیان اور بعض نے تو اس سے بھی آگے بڑھ کر مارکوپولو کے سفرِچین کو بھی مختلف حوالوں سے چیلنج کیے ہیں۔ مشہور برطانوی محقق پیٹر ویلی نے 1959ء سے لیکر 2005ء یعنی 46سال تک ایران، شام، ہنزہ اور بدخشان کے اسماعیلی بالخصوص وہاں کے قلعوں پر ریسرچ کی ہے۔ ان ساڑھے چاردھائیوں کے دوران ماہرین کی ٹیم کے ہمراہ آٹھ مرتبہ ایران، پانچ مرتبہ شام اور ایک مرتبہ ہنزہ اور بدخشان کا دورہ بھی کیا۔
اپنی کتاب ”ایگل نیسٹ ،اسماعیلی کیسٹل ان ایران اینڈ سیریا” میں لکھتے ہیں؛
”دراصل مارکوپولو چین نہیں گیا تھا بلکہ انہوں نے قسطنطنیہ اوربحیرۂ اسود سے آگے مزید مشرق کا سفر نہیں کیا۔ مارکوپولو کے خیالی افسانوں کا اصل ماخذ ان کے والد اور چچا کی روایات ہیں جنہوں نے شاید چین کا سفر کیا ہو۔”
(ایگل نیسٹ ، پیٹر ویلی صفحہ 36)
بالفرض اگر مارکو پولو کا اس علاقے سے گزرنا درست بھی ہو تو یہ واقعہ حسن صباح کی وفات کے 152 اور سقوطِ الموت کے بیالیس برس بعد کا ہے۔ چونکہ 1256ء میں تاتاریوں کے حملوں کے بعد اس علاقے سے اسماعیلیوں کا نام و نشان مٹ گیا تھا چناچہ حسن اور الموت کے متعلق انکا مآخذ مخالفین ہونگے۔

پیٹر مزید لکھتے ہیں کہ؛
”حسن ناقابل فراموش شخصیت ہے۔ سیاست اور ملٹری اسٹریٹجی میں ان کو کمال مہارت حاصل تھا۔ اپنی کرشماتی شخصیت کی وجہ سے اپنے پیروکاروں کی غیر مشروط حمایت اور محبت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ سلجوقوں کے مقابلے میں زندگی اور موت کی جنگ میں (اپنے پیروکاروں) کو متحرک کیا اور انہیں نئی زندگی دی۔”( پیٹر ویلی ، ایگل نیسٹ، 35)

”اس نے انہیں شراب نوشی اور دوسرے غیر شرعی کاموں کا مرتکب ہونے سے منع کر رکھا تھا”۔
”اس نے اپنے ایک بیٹے محمد کو شراب نوشی اور دوسرے بیٹے حسین کو قتل کے الزام میں موت کی سزا دی تھی۔“ (تاریخ جہان کشا جلد سوم 209,210، جامع التوریخ 42، روضتہ الصفا جلد 4 صفحہ 76، تاریخ گزیدہ صفحہ521میں لکھا گیا ہے کہ حسین کو یہ سزا زنا کے الزام میں دی گئی تھی۔ (حسن بن صباح، مسقطی /جون ایلیاصفحہ 8)

، ”انہوں نے اپنی بیوی اور بیٹی کوالموت سے دور ’گردکوہ‘ کے قلعے میں بھیج دیا جہاں وہ اپنے ہاتھوں سے کام کرکے روزی کماتی رہیں“۔
(ایگل نیسٹ35،تاریخ جہانکشاجلدسوم 211، جامع التواریخ 43، حسن بن صباح،مسقطی /جون 8)۔

”مارکوپولو نے یہ داستان دوسروں سے سن رکھی تھی کوئی شبہ نہیں کہ ہلاکو خان، اسکے سرکردہ لوگ، لشکری، خدمت گار اور عامل مثلاََ عطا ملک جوینی اورخواجہ نصیر الدین طوسی بھی اس قصے سے باخبر تھے لیکن انہوں نے قلعہ الموت، لمسر، میمون دز اور درہ رودبار کے دوسرے قلعوں کی تسخیر کے بعد اس باغِ جنت کی تلاش کرنے کی کوئی معمولی سی کوشش بھی نہیں کی۔ عطاملک جوینی جس نے باطینیوں (نزاری اسماعیلیوں کو باطینی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) کی عداوت کے باب میں ہمیشہ لغو سے کام لیا ہے اور ان کے بارے میں ضرر رساں باتین ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی تاریخ جہان گشائی میں جمع کی ہیں، وہ بھی اس باغ جنت اور حشیش کا اشارتاً بھی کہیں ذکر نہیں کرتا۔ سقوطِ الموت کے بعد جوینی منگولوں کے ساتھ قلعے میں داخل ہوئے۔ انہیں وہاں عالی شان کتب خانہ ملتا ہے مگر جنت کی موجودگی کے بارے میں وہ خاموش ہیں۔ سلجوقی دور کے نامور مورخین جیسے ظہیر الدین نیشاپوری صاحب سلجوق نامہ، راوندی مولف راحتہ الصدور اور دوسرے اہلِ قلم جنہوں نے فدائیوں کو ملاغنہ کہہ کر یاد کیا ہے، انہوں نے بھی اس باغ جنت وغیرہ کے سلسلے میں ایک حرف تک نہیں لکھا ہے اور فدائیوں پر ایسی کوئی تہمت نہیں لگائی۔ ابن جوزی جو باطینیوں کا شدید ترین دشمن تھا اس کی تحریروں میں بھی حشیش سے متعلق ایک حرف تک نہیں لکھا گیا ہے۔“(حسن صباح،کریم کشاورصفحہ 170، حسن بن صباح مسقطی /جون ایلیا صفحہ 29,30)۔
ایک اور تاریخی مغالطہ جس پر جدید دور کے دانشور یقین رکھتے ہیں یہ ہے کہ حسن صباح، نظام الملک اور عمر خیام ہم جماعت تھے اور امام موافق کے شاگرد رہے ہیں۔ درحقیقت نظام الملک کی پیدائش 1017ء یا 1019ء کے درمیان ہوئی تھی۔ اسکے مقابلے میں حسن صباح کی پیدائش 1037ء سے 1047ء کے درمیان کی ہے۔(ویکی پیڈیا فری انساکلوپیڈیا، حسن بن صباح ،پروفیسر مسقطی/ جون ایلیا، صفحہ48) ۔ جبکہ پیٹر ویلی نے حسن کی تاریخ پیدائش 1055ء لکھا ہے۔ عمروں کے اتنے فرق کے ساتھ ان تینوں کا ہم جماعت ہونا ممکن نہیں۔ ”اس من گھڑت کہانی پر بحث کرنا بھی فضول ہے کیونکہ دورِ جدید کے اسکالرز نے تحقیق کے بعد اس کہانی کو انتہائی سادہ وجوہ کے باعث غلط ثابت کیا ہے کہ حسن نظام الملک سے تیس سال بڑا تھا۔ عمروں کے اس فرق کے باؤجود ان دونوں کا ہم جماعت ہونا ممکن ہی نہیں نہ ہی اس بات کا کوئی ثبوت ملا ہے کہ حسن نے کبھی نشاپور میں وقت گزارا ہو یا ان کا عمر خیام سے کبھی رابطہ رہا ہو۔” (ایگل نیسٹ ، ویلی)

نظام الملک طوسی اپنے شہرہ آفاق تصنیف ”سیاست نامہ ” میں باطنیوں کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے مگر کہیں بھی حسن صباح کا تذکرہ تک نہیں کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ نظام الملک طوسی حسن صباح کو جانتے ہیں نہیں تھے۔
کیا حسن صباح نے فدائین کے ذریعے بڑے پیمارے پر قل عام کیا؟ اسکا جواب یہ ہے کہ حسن بن صباح کا رویہ جارحانہ نہیں بلکہ دفاعی تھا۔ انہوں نے مخالفین کیساتھ خوفناک جنگیں لڑنے سے ہمیشہ احتراز کیا اور مذاکرات کی راہ اختیار کی۔ منگولوں کے خطرے کو سب سے پہلے بھانپنے والے الموت کے نزاری حکمران تھے جنہوں نے اس کی پیشگی حل کیلئے عیسائی سلاطین کو منگولوں کیخلاف فوجی اتحاد بنانے کی پیشکش کی جسے ٹھکرا دیا گیا۔ اسکے بعد جو تباہی منگولوں نے مچادی وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ حسن پر مخالفین کو راستے سے ہٹانے کیلئے خودکش حملہ آوروں کے استعمال کا الزام بھی مورخین اور راویوں کے تعصب کی نشانی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بڑی جنگوں سے احتراز کرنے کیلئے حسن نے اس قسم کی کوئی کاروائی کی ہو مگر جو ہزاروں علما اور کئی سرداروں کی قتل کی کہانی سنائی جاتی ہے وہ یقیناً مبالغے کا پلندہ ہے۔ حسن صباح نے سُنی اکثریتی علاقوں کے بیچ ایک کامیاب نزاری ریاست تشکیل دی تھی جسکی وجہ سے یہ ریاست ہمیشہ مخالفین کی آنکھوں میں کھٹکتی رہی اور اس کو بدنام بنانے کیلئے من گھڑت کہانیاں عوام میں مشہور کی گئیں۔ ان کہانیوں کا حسن کے دور کے تاریخی متون میں کوئی حوالہ نہیں ملتا۔ یہ سب بعد میں ایک خاص تعصب کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے۔

الموت کا لفظی معنی ”کاشانہِ عقاب” کے ہیں جو کہ
یہاں کی مقامی زبان میں اس قلعہ کا نام تھا۔ حسن صباح نے 1092ء میں بغیر کسی جنگ و جدل اور خون خرابے کے ایک سلجوقی امیر ‘مہدی’ سے قلعہ الموت حاصل کیا۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ملازم کی حیثیت سے قلعے میں داخل ہوئے اور جلد ہی لوگوں کو اپنے ساتھ ملا کر قلعے پر قابض ہوا۔ حسن نے الموت میں جو ریاست قائم کی اسکا انتظامی، سیاسی اور دفاعی بندوبست قابلِ رشک تھا۔ پہاڑ کی چوٹی پر موجود قلعے تک پانی پہنچانے کیلئے جو طریقے استعمال کیے گئے وہ ریاست کی سائنسی ترقی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مواصلات اور پیغام رسانی کے جدید طریقے رائج کیے گئے۔ زراعت میں خاطرخواہ کامیابیاں حاصل کیں۔ انکے مورچے اور قلعوں کو ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ اہلِ الموت کو ہروقت مخالفین کی چڑھائی کا خطرہ رہتا تھا مگر اسکے باوجود قلعے میں علم کے پنپنے کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا گیا۔ عالموں کی سرپرستی کی گئی۔ قلعے کی لائبریری میں کتابوں کی ضخیم تعداد موجود تھی جنہیں منگولوں نے تباہ کردیا۔ نامور سائنس دان ، فلسفی اور ماہر فلکیات نصیر الدین طوسی تیس سال تک قلعہ الموت میں فلسفہ اور فلکیات پر تحقیق کرتے رہے اور اسماعیلیت پر کئی کتابیں لکھی۔

”سیاسی اور دفاعی پالیسی مرتب کرنے میں حسن صباح کو ناقابل فراموش صلاحیتیں حاصل تھی“(فرہاد دفتری، دی اسماعیلیز 366، ایگل نیسٹ 36)
”حسن بالکل ہی مختلف انداز کے مالک انسان تھے جو زبردست محب وطن اور انتہائی قوم پرست تھے جنہوں نے اپنے مادری وطن فارس پر بیرونی قابض قوتوں (سلجوقی ترک تھے) کے خلاف لڑا”۔
(Minasian, Shah Diz of Ismaili Fame, P13,62)

قلعہ الموت پر نزاری اسماعیلیوں نے تقریباً َ170 سال (1090ء سے لیکر1256) تک کامیاب حکومت کی لیکن اس دوران کبھی بھی الموت کے حکمرانوں کے درمیان منصب و عہدے پر چپقلش دیکھنے کو نہیں ملی بلکہ انتقال اقتدار انتہائی پرامن انداز سے اور اہلیت کی بنیاد پر ہوتی رہی۔ حسن نے اپنے بعد اپنے کسی بیٹے یا رشتہ دار کو اپنا جانشین نہیں بنایا بلکہ الموت سے بہت دور قلعہ لمسر کے سربراہ "کیا بزرگ امید” نامی اسماعیلی سردار کو بلا کر اقتدار ان کے حوالے کر دیا۔ ایسی مثالیں قرون وسطی کی تاریخ میں خال خال ہی ملتی ہیں۔ قابلیت و صلاحیت کی قدر اور اصولوں پسندی کی یہ مثال ہمیں الموت کے اس طلسماتی شخصیت سے ملتی ہے جسکے کردار، انتظام اور جدوجہد کو من گھڑت کہانیوں اور مافوق الفطرت افسانوں سے دھندلا دیا گیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تاریخ کے اس طلسماتی کردار پر ازسرنو تحقیق کریں اور الموت کے پراسرار باب پر صدیوں کی دھول جھاڑ کر تاریخ کے ایک اہم گوشے کو سامنے لائے۔
قلعہ الموت کے حوالے سے چند وڈیو لنک
(https://www.youtube.com/watch?v=oYHSFSqcrkI&list=PLBSuIFe4jXWYd9oWb_s3bsFTDew43qes2

اپنا تبصرہ بھیجیں