سیاسی تنظیموں کی جانب سے اسلام آباد میں سرکاری ملازمین پر پولیس تشدد اورگرفتاریوں کی مذمت

جمعرات کو ملک بھر میں گرفتار رہنماوں کی رہائی اور مطالبات کے حق میں قلم چھوڑ، تالا بند ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کا اعلان

بام جہان رپورٹ

اسلام آباد

سیاسی جماعتوں اور ٹریڈ یونین رہنماوں نے بدھ کے روز وفاقی دارالحکومت میں سرکاری ملازمین اور ہیلتھ ورکرز کو پولیس کی جانب سے بد ترین تشدد کا نشانہ بنانے اور 100 سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرنے کی مزمت کیں ہے۔

بدھ کے روز آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے زیر اہتمام ملک بھر سے آنیوالے ہزاروں سرکاری ملازمین، جن میں اساتذہ اور ہیلتھ ورکرز بھی شامل تھے، نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے تنخواہوں میں اضافے اور دیگر مطالبات کے حق میں پر امن احتجاج اوردھرنا دینے کی کوشش کیں، جن کومنتشر کرنے کیلئے وفاقی پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے پھینکنا شروع کیا اور بے تحاشا لاٹھی چارج کئے۔

پولیس کاروائی کے بعد احتجاجی مظاہرین مختلف شاہراوں پر منتشر ہوگئے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان پتھراؤ اور آنسو گیس کی شیلنگ شام تک جاری رہے۔ جس کی وجہ سے وفاقی سیکرٹریٹ اور پارلیمنٹ ہاؤس، شاہراہ دستور، سرینگر ہائی وے اور دیگر شاہراہوں پر مشتمل علاقہ میدان جنگ بن گیا۔

گرفتاریاں، تشدد اور آنسو گیس کی شیلنگ مظاہرین کو پسپا کرنے میں ناکام ہو گئے۔ شاہراہ دستور پر مظاہرین نے پتھراؤ کرتے ہوئے پولیس کو پیچھے دھکیل دیا، سری نگر ہائی وے کو بھی مظاہرین نے بند کر دی۔

اس بد ترین تشدد کے باوجود ہزاروں مظاہرین پاک سیکرٹریٹ کے اندر دھرنا دیئے، جبکہ ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نیشنل پریس کلب کے سامنے جمع ہوئے جہاں مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

مطالبات میں وفاقی وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو عہدے سے ہٹانے، آئی۔ایم-ایف کے عوام دشمن اور مزدور دشمن پالیسیوں، نجکاری، بیروزگاری اور مہنگائی کا خاتمہ بھی شامل ہیں۔

آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز اینڈ لیبر تحریک اور عوامی متحدہ موومینٹ نے بھی مظاہرین پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے جمعرات کے روز ملک بھر کے تمام اداروں میں قلم چھوڑ، تالا بند ہڑتال اور احتجاج کی کال دی ہے۔

ملک بھر کی 60 سے زائد ٹریڈ یونینوں، سرکاری ملازمین اور ریٹائرڈ ملازمین کی تنظیموں پر مشتمل آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرز اینڈ لیبر تحریک کے قائد حاجی اسلم خان اور دیگر رہنماوں نے ملازمین پر تشدد اور گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے تمام اداروں میں 11 فروری کوقلم چھوڑ مکمل ہڑتال اور یوم سیاہ منانے کی کال دی ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت ملک بھر میں ملازمین، مزدور، اور پینشنرز مہنگائی کے طوفان، بیروزگاری، اور اداروں کی نجکاری، کنٹریکٹ اور دھاڑی دار ملازمین کو مستقل نہ کرنے، اور تنخوا ہوں میں اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے شدید اضطراب کے شکار ہیں۔

آئی-ایم ۔ایف اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کے ایماء پر اداروں کو تباہ کرنے ان کی نجکاری اور محنت کش اور عوام دشمن پالیسیاں جاری ہیں۔ جس کی وجہ سے ملازمین سراپا احتجاج ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک نے مرکزی آرگنائزر رحمان باجوہ کی قیادت میں وفاقی حکومت سے بارہا مذاکرات کئے جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے تنخواہوں میں 40 فیصد تک اضافے کی یقین دہانی کروائی تھی لیکن بعد ازاں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں صرف وفاقی محکمہ جات کے گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 24 فیصد اضافے کی منظوری دی گئی اور صوبائی حکومتوں کو اپنے اپنے صوبے میں تنخواہوں میں اضافے کے لئے فیصلہ کرنے کی ہدایت کی گئی۔

حکومت کے غیر سنجیدہ روئے اور وعدہ خلافیوں سے تنگ آکر تحریک نے حکومت کو 15 فروری 2021 تک مطالبات کو تسلیم کرنے کے لئے آخری موقع دیا تھا۔

دریں اثنا ملازمین کی گرینڈ الائنس کی قیادت نے حکومت کے حالیہ فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے 10 فروری کو اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے غیر معینہ مدت تک احتجاجی دھرنا دینے کا اعلان کر رکھا تھا۔
الائینس کے چیف آرگنائزر رحمان باجوہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج مختصر یا ایک روزہ نہیں بلکہ جب تک حکومت ان کے مطالبات منظور نہیں کرتی تب تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔

انہوں نے ایک تحریری بیان کے ذریعے دہمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات 15 فروری تک تسلیم نہیں کئے توملک بھر میں ملازمین دفاتر میں قلم چھوڑ ہڑتال شروع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ”حکومت کے مالی مسائل کے باعث ہم نے 40 فیصد اضافے کا فیصلہ قبول کر لیا تھا لیکن حکومت نے وعدے کے باوجود 24 فیصد اضافے کا ادہورا فیصلہ کیا۔“

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ دو سالوں سے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا تھا۔ 30 لاکھ سے زائد سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کیلئے حکومت کو تقریباً 100 ارب روپے تک کی رقم درکار ہے جبکہ آئی ایم ایف کی جانب سے عائد کردہ شرائط کی وجہ سے وفاقی حکومت ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کرنے سے کترا رہی ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کے مرکزی صدر یوسف مستی خان، جنرل سیکریٹری اختر حسین، پینجاب کے سیکریٹری عابدہ چوہدری، پنجاب کے سابق صدر ڈاکٹرعاصم سجاد اور بلوچستان کلرکس ایسو سی ایشن کے رہنما عبداللہ صافی نے سرماری ملازمین کے پر امن احتجاج پر بدترین ریستی جبر اور تشدد کی مذمت کی ہے۔

انہوں نے سرکاری ملازمین اور دیگر محنت کشوں سے اظہار یکجہتی کیا ہے اور یقین دہانی کی ہے کہ ان کی پارٹی محنت کشوں کے جائز مطالبات کی بھر پور حمایت کرتی ہے اور سامراجی ادروں کے مزدور دشمن پالیسوں کے خلاف جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام گرفتار لوگوں کو فورا رہا کیا جائے اور ان کے مطالبات کو بلا تاخیر منظور کیا جائے ۔

ڈاکٹر عاصم نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں پولیس کی جانب سے انسو گیس کے گولے پھینکنے کی ایک تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ ایک ملٹرائزڈ ریاست کی بہترین عکاسی کرتی ہے۔ یہ اسلام آباد ہے، جہاں دشمن کوئی اور نہیں بلکہ سرکار کے اپنے ملازمین ہیں۔

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ نیا پاکستان میں صرف تشدد اور جبر میں اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ مغلوب حکومت چاہے جتنا بھی بیان بازیوں کے پیچھے چھپنے کی کوشیش کرے ، یہ اب آہستہ اآہستہ اپنی قبر خود کھود رہی ہے۔
عوامی ورکرز پارٹی کراچی سرکاری ملازمین کے پرامن احتجاج پر ریاست کی جانب سے ہونے والے تشدد اور ان کے قائدین کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
عوامی ورکرز پارٹی کراچی کے صدر شفیع شیخ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک طرف حکومت نے عوام پر مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے اور دوسری جانب اگر کوئی تنخواہوں کا مطالبہ کرتا ہے تو ان کے جائز مطالبات کو سننے کے بجائے ان پر واٹر کینن اور آنسو گیس کے حملے کئے جاتے ہیں۔

عوامی ورکرز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری خرم علی کا کہنا تھا کہ ایک طرف کو رونا وباء کے دوران سرمایہ داروں اور مافیا کو ریلیف دیا گیا ہے اور دوسری جانب محنت کشوں کی تنخواہوں میں کٹوتیاں کی گئی ہیں۔ اسی طرح بحران کے دوران بین الاقوامی سرمائے کو ہونے والے نقصان کے دوران سہارا دینے کے لئے پاکستان کے گماشتہ حکمرانوں نے نجکاری کی مہم کو تیز کر کے اپنے ملک کے محنت کشوں کو فاقوں میں جھونک کر بین الاقوامی کمپنیوں کو فائدہ پہنچایا ہے۔

عوامی ورکرز پارٹی کراچی سمجھتی ہے کہ ایک طرف مہنگائی بڑھانا اور دوسری جانب برطرفیوں کے ساتھ ساتھ کٹوتیوں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ حکومت طبقاتی لڑائی میں سرمایہ داروں اور سامراجی کمپنیوں کے مفادات کے لئے مزدوروں کسانوں تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین کا بدترین استحصال کر رہی ہے اور یہ استحصال بڑھتا جائے گا۔

ہم سرکاری ملازمین کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس لڑائی میں تمام مظلوم طبقات کو اکھٹے ہو کر بین الاقوامی سرمائے کے مفاد میں قائم اس گماشتہ نظام کے خلاف اکھٹا ہونے کی ضرورت ہے کیونکہ اس گماشتہ نظام کے خاتمے کے بغیر اس استحصال سے نجات ممکن نہیں۔

ریلوے، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، واپڈا، سٹیل ملز، یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن سمیت دیگر اداروں کی یونینوں کے قائدین نے بھی ملازمین پر تشدد کی مذمت کی ہے اور وفاقی وزیر خزانہ کو عہدے سے ہٹانے سمیت تشدد کے ذمہ داران کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متحدہ عوامی موومنٹ میں شامل تنظیموں کی طرف ڈاکٹر بشیر ایچ شاہ نے اسلام آباد میں سرکاری ملازمین کے دھرنے کے شرکاء پر لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ اس حکومت کے دور میں ہوشربا مہنگائی ہوئی ہے اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں گزشتہ دو سالوں سے کوئ اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ملازمین احتجاج کا جمہوری آئینی حق استعمال کر رہے ہیں ان کے خلاف آنسو گیس کا استعمال، لاٹھی چارج اورگرفتاریاں افسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے پولیس کی جانب سے خواتین ہیلتھ ورکرز کے خلاف بھی تشدد کا استعمال کیا جس سے اس حکومت کا فسطائی چہرہ نمایاں ہو گیا ہے۔
متحدہ عوامی موومنٹ میں شامل تنظیموں جن میں عوامی ورکرز پارٹی، مزدور کسان پارٹی، نیشنل پارٹی، محنت کش تحریک، کمیونسٹ پارٹی، پاکستان مزدور محاذ، پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپئن، لیڈی ہیلتھ ورکرز یونین ، وومن ڈیموکریٹک فرنٹ، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس، نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن، پروگریسیو اسٹوڈنٹس فیڈریشن، اور انقلابی طلباء محاذ شامل ہیں، نے حال ہی میں ایک آل پاکستان مزدور طلبہ کانفرنس کا انعقاد کیا تھا تا کہ محنت کش طبقات خاص طور پر سرکاری ملازمین کے مسائل کو اجاگر کیا جا سکے۔

صادق حسنی، یوتھ سیکریٹری عوامی ورکر پارٹی بلوچستان نے بھی تمام گرفتار سرکاری ملازمین کی رہائی اور ان کے مطالبات جلد از جلد منظور کرنے اورگرفتارشدگان کی رہائی کا حکم دیں. اور تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف ایکشن لیں۔ ورنہ پورے پاکستان میں مظاہرے کیے جائیں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں