سیاسی قیادت کا انتخاب منشور کو مدنظر رکھ کر کریں

تحریر: محبوب حسین

ووٹ دینا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ایک جمہوری ملک میں نمائندے کا چناو ووٹ کے زریعے کیا جاتا ہے، جس کے لیے باقاعدہ الیکشن کا انعقاد ہر پانچ سال بعد عمل میں آتا ہے جس میں مختلف سیاسی پارٹیاں الیکشن میں حصہ لیتے ہیں اور باقاعدہ مہم کا آغاز کیا جاتا ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں سے منسلک امیدوار اپنی اپنی الیکشن منشور لے کر عوام سے ووٹ مانگنتے ہیں۔ اس سال 8 اگست کو گلگت بلتستان میں بھی الیکشن متوقع ہے. اگر لوگ چاہتے ہیں کہ صحیح امیدوار کا انتخاب کریں تو مندرجہ ذیل نکات کا خیال رکھنا ہو گا۔

امیدوار گلگت بلتستان میں اسلامی طرز حیات کو فروغ دینے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہتی ہو اور پاکستان سمیت گلگت بلتستان میں عادلانہ معاشرے کا قیام اس کا مقصد ہو۔ ایسا عادلانہ معاشرہ جس میں ہر شخص کو ترقی کرنے کا پورا موقع میسر ہو؛ اور وہ سیاسی خودمختاری پر یقین رکھتی ہو اور عوام کے درمیان ہم آہنگی، قومی یکجہتی اور اتحاد کا جذبہ پیدا کرنا چاہتی ہو؛ اس کے منشور میں دیہی ترقی کو خصوصی اہمیت حاصل ہو، اور دیہی آبادی سے غربت اور جہالت ختم کرنے کا مصمم ارادہ رکھتا ہو؛ بے زمین کاشت کاروں کو متروکہ اراضی دینے کا ارادہ رکھتا ہو؛ نوے فیصد سے زیادہ دیہاتوں کو بجلی اور سڑکیں بنانے کا وعدہ کرتا یا کرتی ہو؛ دیہی آبادی کے لئے صاف پانی اور ہر یونین کونسل میں ابتدائی صحت مرکز بھی پروگرام میں شامل ہو؛گلگت بلتستان کو جدید صنعتی صوبہ بنانے کے لیے جدید صنعتی سرمایہ کاری کے لئے جامع منصوبہ بندی رکھتا ہو اور روزگار کے موقع نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پہدا کرنے کا منصوبہ رکھتا ہو؛ توانائی کی فراہمی، بہتر ذرائع مواصلات، نقل و حمل کی سہولتیں، صنعتی قرضوں کی فراہمی بھی ان کے منشور کا حصہ ہو۔

اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے بحران پر قابو پا کر لوڈشیڈنگ کا خاتمہ بھی ان کے منشور میں شامل ہو. خواندگی کو فروغ کے لیے پروگرام بھی دیا گیا ہو۔

منشور میں رشوت، سفارش کی لعنت کو ختم کرنے اور بہترین نظام عدل کی تشکیل کا وعدہ کرتا ہو؛ مزدوروں کو اجتماعی سودا کاری اور قانونی ہڑتال کے حق کے علاوہ ایک اجتماعی قومی لیبر ویلفیئر فنڈ کے قیام کا وعدہ کرتا ہو اور مزدوروں کو سرکاری کارپوریشنوں کے مالکانہ حصص دینے کا اعلان بھی منشور کا حصہ ہو۔ خواتین اور نوجوانوں کی بہبودی کا پروگرام اسی منشور کا اہم حصہ ہو اور آئینی حقوق کی بات بھی انکے منشور کا حصہ ہو۔

اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ طبقاتی امتیاز، بلادستی، استحصال، غربت ، ناخواندگی اور سماجی بے انصافی کا خاتمہ چاہتی ہو۔صوبائی خود مختاری اور جمہوری عمل کی حامی ہو اور اختیارات کا نچلی سطح تک منتقلی کرنے کا حامی ہو اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے طلبہ و طالبات کے لیے پاکستان کے دوسرے صوبوں میں کوٹہ بڑھانے کا حامی ہو، مقابلے کے امتحان میں بھی گلگت بلتستان کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے مخصوص سیٹیں بڑھانے کا حامی ہو۔گلگت بلتستان میں تعلیم کی اہمیت کو اور یہاں کے بسنے والے باسیوں کی تعلیمی ضرورت اور اہمیت کو مدنظر رکھتےہوئے گلگت بلتستان میں میڈیکل، انجینئرنگ، ایگریکلچر یونیورسٹیوں کا قیام انکے منشور کا حصہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں