شکیلہ نے خوابوں کی کرچیاں سنبھال رکھی ہیں

فخرعالم

17 جون 2019 کی شام ڈھلتے ہی سلسلہِ ہندوکش میں موجود 5800 میٹر بلند میلوِن جونز کی چوٹی پر سرسراتی ہواؤں کی سیٹیوں اور خنکی میں شدت پیدا ہوگئی۔ اس دن صبح پہاڑ کے سینے پر رینگتی کوہ پیماؤں کی ایک چھوٹی سی قطار نظر آ رہی تھی مگر اب ایک تباہ کن برفانی تودہ گرنے کے بعد ان میں سے پانچ کوہ پیما متزلزل حوصلوں اور چوٹی سر کرنے کی شکستہ حسرتوں کے ساتھ واپس لوٹ چکے تھے۔ چوٹی سے صرف 500 میٹر کی دوری پر شمشال کے مقامی گائیڈ امتیاز کی لاش پڑی تھی اور ساتھ ہی زخموں سے چور ان کی چھوٹی بہن شکیلہ نیم دراز تھی۔ حادثے کے بعد اپنی جانیں بچا کر واپس لوٹتے کوہ پیماؤں کو شکیلہ کے بچنے کی کوئی امید نہ تھی چنانچہ اس رات شمشال کی وادی نے اپنے دو باسیوں کا ماتم کیا۔ رات کی سیاہی وادی میں پھیلنے کے بعد چوٹی پر چڑھنا شروع ہوئی تو شکیلہ رستے زخموں اور منجمد ہوتی رگوں کی وجہ سے بے ہوش ہوگئی۔
دوسری صبح دن کی روشنی پھیلنا شروع ہوئی، چوٹی سے ٹکراتی سائیں سائیں کرتی ہوائیں ذرا خاموش ہوئیں اور سورج کی کرنیں مد ہم سی تمازت لیے شکیلہ کیلئے زندگی کی نوید بن کر اُتریں اور اس نے ایک بار پھر آنکھ کھول کر چڑھتے ہوئے سورج کو دیکھا۔

ہر شمشالی کی طرح بلندیوں سے اُنسیت اور چوٹیوں کی رُغبت امتیاز اور اس کی بہن شکیلہ کی گھٹی میں پڑی تھی۔ اپنے شوق کی تسکین کیلئے امتیاز نے شمشال آنے والے کوہ پیماؤں کے ساتھ ان کا سامان پیٹھ پر اٹھائے پورٹر کے طور پر پہاڑوں پر چڑھنا شروع کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 15 سال تھی۔ بھائی کی دیکھا دیکھی شکیلہ کو بھی برف سے ڈھکی اور بادلوں میں چھپی خود سر چوٹیوں کی بلندیوں کو پاؤں تلے محسوس کرنے کا جنون چڑھ گیا۔ یہ روایتی پدرسری معاشروں سے دور شمشال کا سماج ہے جو غیرت اور روایت کے نام پر عورتوں کے خوابوں کے آگے بند باندھنے کا خوگر نہیں۔ امتیاز کی چچازاد بہن نادیہ بھی کوہ پیمائی کرتی اور منگلگ سر کی چوٹی سر کرنے والی پہلی خاتون تھیں۔ نادیہ کے ساتھ ہی شکیلہ بھی خوابوں کی مشعل تھامے شمشال کی آٹھ دوسری لڑکیوں کو لے کر نکلی اور یہی چوٹی سردیوں میں پہلی بار سر کرکے نئی تاریخ رقم کی۔ یہ ٹیم جنوری 2011 میں منفی 30 ڈگری میں 6050 میٹر بلند منگلگ سر کی چوٹی پر اپنے حوصلوں کا علم ایستادہ کر آئی۔

خوابوں کی پیٹھ پر حوصلے کی تھپکی ہو تو وہ حدوں کے اسیر ہونا نہیں جانتے۔ چنانچہ شکیلہ اپنے بھائی کی حوصلہ افزائی سے اگلے سال صرف ایک ہفتے میں دو چھ چھ ہزار اور ایک پانچ ہزار میٹر بلند چوٹیاں سر کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ پچھلے سال اٹلی سے کوہ پیماؤں کی ایک مہم میلوِن جونز سر کرنے غذر پہنچی۔ امتیاز گائیڈ کی حیثیت سے ٹیم کا حصہ بنا اور شکیلہ بھائی کے ساتھ مہم میں شامل ہوگئی۔ ان کے خاندان کی ندیمہ بھی ان کے ہمراہ تھی۔ 7 افراد پر مشتمل یہ ٹیم 5300 میٹر کی بلندی سر کرکے 19 جون کی صبح چوٹی سے صرف 500 میٹر کے فاصلے پر تھی کہ ایک تباہ کن برفانی تودے نے انہیں آن لیا۔ خطرے کی اس گھڑی میں امتیاز کا آخری جملہ جو شکیلہ نے سُنا یہ تھا "ڈرو نہیں! کچھ نہیں ہوگا۔” امتیاز نے آخری سانس تک اپنی بہن کا حوصلہ بلند رکھا۔

برفانی تودے نے امتیاز کی جان لے لی اور شکیلہ وہیں 24 گھنٹے زخمی حالت میں پڑی رہی۔ ان کی ٹیم تتر بتر ہوکر واپس لوٹی۔ فوج کے ہیلی کاپٹر بارہا کوششوں کے باوجود خراب موسم کی وجہ سے ان تک نہ پہنچ سکے۔ آخرکار شمشال کے نوجوانوں نے مشہور کوہ پیماوں قدرت علی اور شاہین بیگ کی قیادت میں ایک ریسکیو ٹیم تشکیل دے کر بھیجا جس نے شکیلہ اور امتیاز کی لاش کو نیچے وادی میں پہنچایا۔
میلوِن جونز سر کرنے کے بعد ان بہن بھائیوں کا ایک خواب 8611 میٹر بلند K2 سر کرنے کا تھا مگر امتیاز کی موت کے بعد شکیلہ کی آنکھوں میں اب شکستہ خوابوں کی کرچیاں تھیں مگر شکیلہ کا تعلق اس واسیب سے ہے جہاں کے لوگ نہ صرف خواب دیکھنا جانتے ہیں بلکہ خواب ٹوٹنے کی صورت میں ان کی کرچیاں سنبھال کر رکھنے اور انہیں دوبارہ جوڑنے کا ملکہ بھی انہیں حاصل ہے۔

شکیلہ اور ان کے دیگر کو پیماہ شمشالی خواتین کی بہاری اور جرات کی کہانی کو ایک ڈاکومینٹری کی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے جسے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ریلز کیا گیا.

یہ بھی دیکھیں:https://youtu.be/KrfG_rbO6WQ

مستنصر حسین تارڑ جب شمشال گئے تھے تو اس وقت وہاں تک سڑک نہیں جاتی تھی۔ وادی میں ایک ٹریکٹر تھا جسے کسی فوجی جنرل نے پرزے کھول کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے وہاں پہنچوا دیا تھا۔ وادی پوری دنیا سے کٹی ہوئی تھی۔ پھر وہاں کے مکینوں نے خواب دیکھا۔ شمشال سے پسو پہاڑوں کو چیرتی 45 میل لمبی سڑک کا خواب۔ گلگت-بلتستان میں اس وقت آغاخان دیہی ترقیاتی پروگرام کام کر رہا تھا۔ شمشال کے عوام کو امید بندھی اور انہوں نے اس ادارے کے چئیرمین شعیب سلطان سے سڑک بنانے کی درخواست کی مگر شعیب سلطان کے پاس اتنے بڑے منصوبے کیلئے وسائل نہ تھے سو انہوں نے معذرت کی۔ شمشال کے جفا کش لوگوں نے اس شکستہ خواب کی کرچیاں بکھرنے نہ دیا اور خود ہی خاموشی سے پہاڑوں پر پھاؤڑا چلانے لگے۔ کچھ عرصے بعد شعیب سلطان نے دیکھا تو 30 میں سے 10 میل تک سڑک تیار ہوچکی تھی۔ وہ ان کے حوصلوں کے سامنے پسیج گیا اور انکی معاؤنت شروع کی۔ سرکار کو بھی ہوش آگیا اور پسو سے شمشال تک سڑک بننے سے 2003 میں دنیا سے ان کا رابطہ قائم ہوا۔

اسی وادی کی شکیلہ بھی ٹوٹے خوابوں کو جوڑنے میں مصروف ہے۔ لڑکیوں کے ہاسٹل میں کھانا پکا کر 8 ہزار روپے ماہانہ کی قلیل تنخواہ پاتی ہے۔ امتیاز کے بعد گھر کا چولہا جلانے کی ذمہ داری بھی شکیلہ پر آن پڑی ہے۔ پچھلے دنوں کسی نے کیا خوب لکھا تھا کہ شکیلہ کی کہانی دو آٹھ ہزار کے ہندسوں کی کہانی ہے۔ ایک آٹھ ہزار وہ جو شکیلہ تنخواہ پاتی ہے اور دوسرا آٹھ ہزار K2 کی بلندی جسے وہ سر کرنا چاہتی ہے۔ میلوِن جونز کی 5800 میٹر بلندی سر کرنے کیلئے چلنے والی شکیلہ کو 5500 میٹر کی بلندی پر سفید برف کو اپنے اور اپنے بھائی کے لہو سے سُرخ کرکے واپس لوٹنا پڑی تھی۔ اب وہ 8611 میٹر بلند K2 کی چوٹی پر اپنے قدموں کے نشان ثبت کرکے ثابت کرنا چاہتی ہے کہ حالات نے اس کے خواب تو توڑ دیے تھے مگر اس کے حوصلے نہ توڑ سکے اور اگر حوصلے ثابت و سالم ہو تو پھر ٹوٹے ہوئے خواب دوبارہ جوڑنا ناممکن نہیں۔
#Shakila_Shimshal

فخر عالم کا تعلق بونی چترال سے ہے.نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگیویجز اسلام آباد میں صحافت کا طالبعلم ہونے کے ساتھ ساتھ ادب سے بھی خصوصی شغف رکھتے ہیں اور مختلیف سماجی و معاشرتی مسائل پر مضامین اور کالم لکھتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں