نلترسانحہ فرقہ واریت نہیں سرمایہ دارانہ قبضہ گیری کا شاخسانہ ہے

تحریر: عنایت ابدالی

نلتر سانحہ کو فرقہ واریت کا رنگ دینا اتنا ہی بڑا جرم ہے جتنا خود یہ واقعہ ہے۔کیونکہ اس واقعہ کوفرقہ واریت کا رنگ دینے سے جو عناصر اس میں ملوث ہیں ان کے چہرے پہ نقاب پڑا رہے گا۔ نتیجتا سیدھے سادھے لوگوں کے مذہبی جذبات کو ابھار کر یہی عناصر ان کو نفرت کی آگ میں جھونک دیں گے اور اپنے مقاصد کو حاصیل کریں گے۔

اس واقعہ کے بارے میں حسب معمول سماجی رابطہ کے صفحات اور مین اسٹریم میڈیا پر طرح طرح کی افواہیں اور مسخ شدہ معلومات پہنچائی جا رہی ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ ہے، وہ اس کو گزشتہ سال نلتر میں عید کے روز ہونے والے دو نوجوانوں کے قتل کا انتقام سمجھتے ہیں۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہ خاندانی دشمنی کا نتیجہ ہے اور نہ کوئی انتقام۔ یہ گلگت بلتستان بالخصوص نلتر کے عوام کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے اور اس سازش میں وہ سرمایہ دار طبقہ ملوث ہے جو گزشتہ چند سالوں سے اونے پونے داموں نلتر کی زمینوں کو ہتھیانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

گلگت بلتستان کے ایک نوجوان نے اپنے فیس بک پیج پہ لکھا ہے کہ ایک سال پہلے بھی ہمارے ایک قیمتی نوجوان فرجاد حسین اور ان کے ماموں زاد بھائی کا بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔ فرجاد جو فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا سفیر تھا لاہور میں ہنزہ ممتو کے نام سے ایک ریسٹورینٹ چلاتا تھا۔ جس کے دروازے گلگت بلتستان کے تمام لوگوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہتے تھے، جو اپنے ہاتھوں سے ممتو بناتا تھا اور انتہائی خوش مزاجی کے ساتھ لوگوں کو پیش کرتا تھا. گلگت بلتستان کا کوئی ثقافتی پروگرام ہو یا کوئی سیاسی مسئلے پہ احتجاج، وہ صف اول میں کھڑا ہوتا تھا. اس کے اندر انسانیت تھی اسلئے ہر فرقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ نہ صرف مل کے رہتا تھ بلکہ ان کے درمیان اتحاد و اتفاق کی بات بھی کرتا تھا اور عملی طور پر اُس کے لیے کام بھی کرتا تھا۔

مجھےنلتر واقعے میں مرنے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی ہے ۔ میں ریستی اداروں سے توقوع کرتا ہوں بلکہ پرزور اپیل کرتا ہوں کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔

ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت نلتر کے پرامن باسیوں کو آپس میں لڑانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
یہ بات خارج از امکان نہیں ہے کہ غیر مقامی سرمایہ دار اور ان کے مقامی سہولتکار سیاحت کے لئے دنیا بھر میں مشہور نلتر کے زمینوں پہ قابض ہونے کے لیے نلتر کے لوگوں کو اس آگ میں دھکینے کی کوششیں کر رہے ہوں جیسا کہ 2005 اور 1988 میں کیا گیا تھا۔

اس حوالے سے نوجوانوں کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی اشد ضرورت ہے۔ گلگت بلتستان بالخصوص نلتر کےباسیوں کو ہوش کا ناخن لینے کی ضرورت ہے وہ آپس میں اتحاد و اتفاق قائم کرکے غیر مقامی با اثر اسرمایہ داروں اور اداروں کی ان کے زمینوں پہ قابض ہونے کی سازشوں کو بے نقاب اور ان کے مذموم مقاصد کو ناکام بنانے کے لئے متحد ہو کر مقابلہ کرنا چاہئے ، ورنہ نلتر کے مقدر میں نعشیں اٹھانے کے اور کچھ نہیں ہوگا۔
یہ بات قابل غور ہے کہ جب گلگت شہر جل رہا تھا اس وقت نلتر میں کوئی فرقہ وارنہ فسادات نہیں ہوئے اب گلگت شہر میں امن و آشتی ہے تو اچانک نلتر والے کیسے فرقہ پرست ہوگئے؟

شنید ہے کہ سرمایہ دار طبقہ نلتر کو مکمل اپنے قبضے میں لے لیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ مقامی لوگ ان کے خلاف مزاحمت نہ کریں۔ آپس میں لڑتے رہں اور وہ آسانی سے نلتر کی بیش بہا زمینیں ہتھیانے میں کامیاب ہوں۔ وہ قیمت دینگے مگر وہی قیمت نہیں دینگے جو نلتر کے عوام کے آپس میں اتحاد و اتفاق سے ممکن ہے. وہ چند پیسوں کے عوض نلتر کو خرید لیں گے اور جب نلتر پر سرمایہ دار قابض ہونگے تو گلگت کی طرح نلتر میں بھی آمن و آشتی قائم ہوگا اور غیر مقامی سرمایہ دار نلتر کے افراد کو اقلیت میں تبدیل کرکے اپنے لیے مزے اڑائیں گے۔
نلتر کے نوجوانوں سے درخواست ہے کہ وہ آگے آئیں اور نلتر کو سرمایہ داروں کے شر سے محفوظ رکھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں