گلگت-بلتستان کے وزیر اعلی کے نام کھلا خط


تحریر: عنائت ابدالی


کرونا وائرس نے دنیا بھر میں جہاں خوف، بےروزگاری اور معاشی و سماجی عدم استحکام پیدا کی ہے وہاں ، مذاہب، عقیدوں ، لسانی،نسلی، طبقاتی اور جغرافیائی تعصبات کی بنیاد پر انسانوں کی تقسیم اور سرحدوں کو تہس نہس کرکے ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا ہے اور انہیں اس وبا ءکے خلاف متحد ہوکر لڑنے پر مجبور کیا ہے۔

کرونا وائرس کی وجہ سے گلگت بلتستان کافی متاثر ہوگیا ہے لیکن آپ کی حکومت کی محنت اور کاوشوں کی وجہ سے اس وقت گلگت بلتستان خطرے سے باہر ہے۔
میں یہاں جس مسئلے کی جانب آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ ضلع غذر یاسین کا ایک شخص کافی عرصے سے استور میں رہائش پذیر تھے چند دن پہلے استور میں اس کے ساتھ رہنے والے افراد کا کرونا وائرس ٹیسٹ کیا گیا تھا جس میں ایک شخص کا رپورٹ مثبت آنے پہ اس کو قرنطینہ کیا گیا ہے۔ ہمارے ذرائع کے مطابق یاسین سے تعلق رکھنے والا اس شخص کا بھی ٹیسٹ کیا گیا تھا مگر آج تک ان کا رپورٹ نہیں آیا ہے ۔ وہ شخص یاسین واپس آچکے تھے جن کو ضلعی انتظامیہ اور محکمہ ہیلتھ نے گلگت منتقل کرلیا ہے جبکہ اس کے خاندان کے افراد کو بھی از خود قرنطینہ کیا گیا ہے۔

یاسین کے ایک مقامی صحافی کے مطابق جس شخص کو یاسین سے گلگت منتقل کیا گیا ہے اس نے استور سے یاسین پہنچ کر محلے کے افراد کو جمع کرکے ایک دن اپنے گھر کا کام کیا ہے اور دوسرے دن اپنے دوسرے بھائی کے ساتھ کام کیا ہے جبکہ اس دوران گاؤں میں فوتگی کے جگہ پہ بھی موصوف موجود رہا ہے اس بات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ موصوف اپنے خاندان،محلے والوں، رشتہ داروں ، دوستوں سمیت اپنے علاقے کے لوگوں سے ملتا رہا ہے۔
یہاں پہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آج تین،چار دنوں کے بعد بھی اس شخص کا ٹیسٹ رپورٹ نہیں دیا گیا ہے۔

اس بات کا ہم سب کو بخوبی اندازہ ہے کہ محکمئہ صحت کے اہلکار و دیگر افراد دن رات کام کرتے ہیں جن کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جا سکتا اور ہم ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں مگر یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غذر ابھی تک کرونا سے فری ضلع تصور کیا جاتا ہے موجودہ شخص کے استور سے غذر آنے کے بعد یہاں کے لوگ کافی پریشان اور فکر مند ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ اس کا ٹیسٹ رپورٹ مذید تاخیر کا شکار ہو اور کئی دن گزارنے کے بعد خدا نہ کریں کہ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ والے یہ اعلان کریں کہ اس میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اگر اس شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی تو یاسین سمیت غذر بھر میں حالات ابتر ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ استور سے سفر کرکے یاسین پہنچ چکا ہے۔ وہاں سے یاسین تک وہ بہت سارے لوگوں سے مل چکا ہے۔

متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ اس شخص کا ٹیسٹ رپورٹ فوری طور پر دیا جائے۔

محکمئہ صحت کے ذمہ داران کا کہنا ہے کافی نمونےموجود ہیں جن کا پروسیس ہونا باقی ہے۔ لیکن اس شخص کا نمونہ فوری طور پہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر اس ایک شخص میں کرونا تشخیص ہوئی تو اس کے بعد غذر سے بہت زیادہ نمونے لینے ہونگے۔

اس حوالے سے یاسین کے ایک مقامی صحافی معراج عباسی نے واٹس ایپ کے ایک گروپ میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان سے سوال پوچھا تھا کہ مذکورہ شخص کا استور میں رہائش کے دوران ان کے ساتھی کے اندر کورونا کی تصدیق ہونے پر اسے تنہائی میں رکھا گیا ہے لیکن مذکورہ شخص وہاں سے کسی طرح گھر پہنچا ہے ؟ ائسولیشن میں موجود اس کے ساتھی نے بتایا کہ استور میں اس کا اور اس کے ساتھی کا بھی نمونہ لیا گیا ہے ۔رپورٹ آنے سے پہلے مذکورہ شخص گھر آیا ہے اس لے قوی امکان ہے کہ اس میں کورونا موجود ہو۔

اس واقعہ نے بہت سے سوالات کھڑا کیئے ہیں۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ استور میں کرونا وائرس ٹیسٹ ہونے کے بعد اس شخص کو سفر کرنے کی اجازت کس نے دی ؟ کیا استور میں ٹیسٹ لینے کے بعد ان افراد کو قرنطینہ نہیں کیا جاتا ہے؟ استور میں ٹیسٹ کیا تھا تو اس کے نتائج کہاں ہیں؟ کیا دیگر کرونا وائرس زدہ علاقوں سے آنے والے افراد کو غذر آنے پہ قرنطینہ نہیں کی جاتی ہے؟

ابتحریر کا مقصد کسی کی دل آزاری بالکل بھی نہیں ہے صرف اتنا کہنا مقصود ہے کہ معمولی غفلت کی وجہ سے ان علاقوں میں بھی کرونا وائرس پھیلنے کے امکانات موجود ہے جو ابھی تک کرونا کے وباء سے محفوظ سمجھے جاتے ہیں ہے۔

اس تحریر کی وساطت سے وزیر اعلیٰ, سیکرٹری ہیلتھ، فوکل پرسن برائے انسداد کرونا وائرس و دیگر متعلقہ اداروں اور افراد سے گزارش ہے کہ پہلی فرصت میں یاسین سے تعلق رکھنے والا اس شخص کا رپورٹ مرتب کرکے نتائج سے فوری آگاہ کریں ۔ اگر وہ متاثر ہوگیا ہے تو اس کو قرنطینہ کرکے ضلع غذر میں ایمرجنسی نافذ کرکے وسی پیمانے پر لوگوں کا ٹیسٹ ہونا چاہئے۔ اگر وہ شخص کرونا سے متاثر نہیں ہو تو یہ خوشی کی بات ہوگی اس لیے علاقے کے لوگوں کی پریشانی کو کم کرنے اور فوری طور پر اس معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے اگر جنگی بنیادوں پہ اس کا ٹیسٹ رزلٹ دی جائے تو ضلع غذر بالخصوص یاسین کے عوام پریشانی سے نجات حاصل کرینگے۔

یہاں اس بات سے آگاہ ہونا بھی لازمی ہے کہ گلگت بلتستان میں محکمہ ہیلتھ کے افسران، ورکرز اور دیگر اداروں کی شب و روز محنت کی وجہ سے یہاں کرونا وائرس سے متاثرہ لوگ تندرست ہوکر گھروں کو جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہاں کے عوام مطمئن ہے۔ اس فضا کو قائم رکھنے کےلیے ٹیسٹ کی رفتار میں تیزی لانے کی ضرورت ہے کیونکہ زیادہ ٹیسٹ ہونگے تو پھر ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ اس وائرس سے کتنے لوگ متاثر ہیں جب تک ٹیسٹ کا عمل زیادہ تیز نہیں کرینگے تو اس وبا سے چھٹکارا ناممکن نہیں مشکل ضرور لگتا ہے۔

آخر میں گلگت بلتستان بھر کے عوام سے گزارش ہے کہ غیر ضروری سفر سے پرہیز کیجے گا۔ حکومت کی جانب سے دیئے گئے کرونا وائرس سے متعلق احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کو یقین بنائیں۔اپنے اور دیگر کی حفاظت کےلیے حفاظتی انتظامات کرکے روزمرہ کے ضروری معاملات کےلیے گھروں سے نکلے غیر ضروری طور پہ گھروں سے نکلنے سے پرہیز کریں۔

عنائیت ابدالی سیاسی و سماجی کارکن اور گلگت بلتستان میں ہائی ایشیاء میڈیا گروپ کے بیورو چیف ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں