چترال کی سیاسی وسماجی ترقی میں پاکستان پیپلز پارٹی کا کردار

کریم اللہ
چترال کی جدید سیاسی تاریخ کا آغاز1953ء کے بعد ہوتا ہے جبکہ حکومت پاکستان نے چترال کی ریاستی حیثیت کو ختم کرکے یہاں ایف سی آر نافذ کردیا ۔ 1969ء میں چترال سے ایف سی آر کا خاتمہ کرکے اسے باقاعدہ طور پر ملاکنڈ ڈیژن میں ضم کردیا اور یوں چترال براہ راست سابق صوبہ سرحد اور پاکستان کا آئینی صوبہ بن گیا۔مگر اس وقت بھی چترال میں پارٹی پالیٹکس کا کوئی تصور نہیں تھا 1970ء کے انتخابات اور 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد جب ذوالفقار علی بھٹو کو حکومت سونپی گئی تو انہوں نے دور افتادہ پسماندہ علاقوں کی جانب خاص توجہ دی ۔ اسی سلسلے میں نہ صرف وہ خود چترال تشریف لائے بلکہ انہی آیام میں چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بھی بنیاد ڈالی گئی ۔ یہی نہیں چترال میں لینڈ ریفارمز، سماجی بہبود اور تعلیم و صحت کے شعبوں میں انقلابی کام کئے گئے انفراسٹریکچر کو بہتر بنایا گیا جس کے باعث یہاں کے لوگوں میں ذہنی ارتقاء کا آغاز ہوا چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے پلیٹ فارم سے لوئر کلاس کو بھی سیاست میں حصہ لینے کا موقع ملا ۔ بھٹو دور چترال میں انقلابی سیاسی و سماجی تبدیلی کا زمانہ تھا ۔ یہاں سے جاگیر دارانہ نظام اور شاہی طر ز حکمرانی کا مکمل خاتمہ کردیا گیا اور یوں عوام میں ذہنی ترقی کانیا دور شروع ہوا۔ اسی آیام میں چترال میں تعمیر کردہ سکولوں اور کالجز کے بدولت عام لوگوں کو بھی تعلیم تک رسائی ہوئی اور یوں عام آدمی میں شعور بڑھتاگیا ۔ اس کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے چترال میں شاہی خاندان اور شاہی حکمرانوں کے خلاف سیاسی جدوجہد کی جس کے باعث عوام میں شعور اور اپنے حقوق سے متعلق آگاہی حاصل ہوئی ۔ عشر نامی ظالمانہ ٹیکس کے خاتمے کی بدولت لوگوں کی معاشی صورتحال بہتر ہونے لگیں اور لوگوں کی سوچ پیٹ بھر کے کھانے سے نکل کر تعلیم ، بہتر روزگار اورمعاشی و معاشرتی انصاف کی جانب ہونے لگا، یوں چترال میں پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت میں ایک انقلابی سیاست کا آغاز ہوا۔
پیپلز پارٹی چترال کے ورکرز اور مذاحمتی سیاست:
چترال کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے ہر دور میں مذاحمتی سیاست کے علم بردار رہے ہیں ، یہاں کی حکومت پر قابض شاہی حکمرانوں اور ان کے پیروکاروں اور اسلام کے نام کو سیاست میں استعمال کرنے والوں کے خلا ف ہر دور میں مذاحمت کی ، جس کے باعث انہیں سماجی لحاظ سے سخت مشکلات و مسائل کا سامنا رہا ۔ سوشل بائیکاٹ، ڈرانا دھمکانا اور لڑائی جھگڑے معمول کی بات تھی مگر سخت جان جیالے مذاحمت کرتےر ہے اور ہر الیکشن میں ان کی مذاحمت پہلے سے کہیں سخت ہوتی ۔ تاہم چترال کی سیاسی تاریخ میں پی پی پی کو زیادہ کامیابی نہ ملی اس کی وجہ پی پی پی لیڈر شپ کے غلط فیصلے تھے ۔
پیپلز پارٹی کے جیالوں نے نہ صرف چترال کے اندر سیاسی مخالفین کے خلاف مذاحمت کی بلکہ جب بھی مرکزی و صوبائی قیادت نے الیکشن کے دنوں میں جیالوں سے پوچھے بناٹکٹ دی تو جیالوں نے اس کے خلاف بھی بغاوت کرتے رہے جو کہ ان کے سیاسی شعور کی علامت تھی ۔
بیگم نصرت بھٹو اور چترالی خواتین کا سیاسی شعور:
1988ء کے انتخابات میں بیگم نصرت بھٹو نے چترال جیسے دور افتادہ اور قبائلی معاشرے سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا یہاں کے مذہبی طبقہ اور پدری سری نظام کے پیروکار قبائلی روا ج کے حامی مردوں کی جانب سے بیگم نصرت بھٹو کو شکست دینے کے لئے ہر حربے استعمال کئے ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا لوگوں کے ذہنوں میں صنفی نابرابری کو پروان چڑھانے کی کوشش کی گئی مگر ان انتخابات میں چترال کے لوگ بالخصوص خواتین نے بڑی تعداد میں بیگم نصرت بھٹو کو ووٹ دے کر کامیاب کروایا ، اس کے بعد چترال میں خواتین سیاست میں سرگرم عمل ہوگئی خواتین کو سیاست میں لانے اور بھر پور عملی سیاست کروانے کا حوصلہ دینے میں پی پی پی کے ا س فیصلے کا اہم کردار رہا ہے ۔
بے نظیر بھٹو کی سیاست اور چترالی خواتین :
جب 1988ء کے الیکشن میں کامیابی کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو برسر اقتدار آئی تو اس سے نہ صرف پورے پاکستان کے خواتین سیاست میں ایکٹیو ہوگئی بلکہ اس کے اثرات چترال میں بھی دکھائی دئیے اور چترالی خواتین سیاست میں شرکت کرنے لگیں ۔ محترمہ کے برسر اقتدار آنے کے بعد چترال کے مرد جیالے بھی ذہنی طور پر دوسرے جماعتوں کے سیاسی کارکنوں کی بہ عکس زیادہ اعتدال پسندی کی جانب راغب ہوئے کیونکہ اب انہوں نے ایک خاتون کی حکمرانی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اس حکومت کے دفاع میں بھی پیش پیش رہے اور یوں اس سے چترالی معاشرے میں خواتین کی سیاست کے لئے راہ ہموار ہوگئی کیونکہ اب کم از کم پی پی پی چترال کے مرد جیالے کسی خاتون کی مخالفت نہیں کرسکتے تھے بلکہ ایسے عوامل کی عموما حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ۔
بے نظیر بھٹو کی جشن شندو ر کے موقع پر یہاں آمد اور جیالوں کا احتجاج:
بے نظیر بھٹو اپنے دوسرے دور اقتدار میں جشن شندورکے موقع پر شندور تشریف لائی اس سے قبل پی پی پی اپر چترال کے جیالوں نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا تھا کہ محترمہ کے لئے پیش کی جانے والی سپاس نامے میں اپر چترال کو ضلع کا درجہ دینے کا مطالبہ سرفہرست ہوگا مگر اس وقت کے پی پی پی اپر چترال کی قیادت نے سپاس نامے میں یہ مطالبہ نہیں رکھا جس کے باعث جیالوں نے وہاں بی بی شہید کی موجودگی ہی میں بھر پور احتجاج اور اسٹیج کی جانب مارچ کیا یہ جیالوں کی سیاسی بلوغت اور شعور نیز مذاحمتی سیاست کا سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور چترالی خواتین کی امپاورمنٹ:
جب 2008ء کے انتخابات کے بعد ملک میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو عوام کو امپاور کرنے کی عرض سے مختلف پروگرام شروع کئے ان میں سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سب سے اہم تھاچونکہ اس پروگرام کے تحت خواتین کو ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے اس وظیفے کے حصول کے لئے خواتین دور دور تک سفر کرتے ہیں جس کے باعث ان کو سفر کے دوران نہ صرف سوشل ایکپوژر ملتی ہے بلکہ م ان میں خود اعتمادی او رخود انحصاری پیدا ہوگئی اور ان میں سیاسی شعور بھی پروان چڑھنے لگیں اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ آج بھی چترال میں خواتین کی بڑی تعداد پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرتی ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی چترال کے عام آدمی کو سیاست سے لے کر سماجی معاملات میں ایکٹیو کرنے اور یہاں کے پسے ہوئے طبقے میں مذاحمتی تحریک کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں