کارل مارکس کے دو سو سالہ جنم دن پر سہ ماہی ’تاریخ‘ کا خصوصی شمارہ

لیاقت علی ایڈووکیٹ

سوشل سائنس سے متعلق مختلف النوعٓ مضامین ریاست اور اس کے مختلف اداروں، سماجی و سیاسی تحریکوں،سماج و ثقافت اور معیشت کے باہمی تعلق کامطالعہ اور احاطہ کرتے ہیں اور ان کا یہی وہ فوکس ہے جس کی بنا پر پاکستانی ریاست پر قابض اشرافیہ کے مختلف گرو ہ سوشل سائنس کے مضامین کو ناپسند کرتے اور ان کی ترقی و نشوو نما سے لا تعلق رہتے ہیں۔ اشرافیہ اس حقیقت کا ادراک رکھتی ہے کہ سماج اور ریاست کا معروضی مطالعہ عوامی شعور میں اضافے کا باعث بنتا اور عوام کو سیاسی و سماجی حقوق کے حصول کے لئے جد وجہد پر اکساتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سب سے کم توجہ سوشل سائنس سے متعلق مضامین پر دی جاتی ہے۔ سوشل سائنس کی یہ ابتر صورت حال ہی ہے جس کی بدولت معیار ی اور قابل ذکر علمی اور فکری میں رسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جن رسائل کو ہمارے ہاں تحقیقی رسائل کا نام دیا جاتا ہے ان میں شایع ہونے والا مواد پاکستانی ریاست کے منظور شدہ سیاسی اور سماجی بیانیے کی جگالی ہوتی ہے۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پروفیسر حضرات پہلے سے تحقیق شدہ مواد کو کٹ پیسٹ کرکے ایک نیا ’تحقیقی‘ مضمون تیار کرکے ان رسائل میں چھپوا دیتے ہیں۔ ان حالات میں ڈاکٹر مبارک علی کے زیر سرپرستی شایع ہونے والا سہ ماہی ’تاریخ‘ کا دم غنیمت ہے۔’تاریخ‘ کا اکسٹھ واں شمارہ زیر نظر ہے۔ یہ شمارہ کارل مارکس ((1819-1883کے دو سو سالہ جنم دن سے منسوب ہے۔
مارکس کے نظریات نے تاریخ نویسی پر اہم اور دور رس اثرات مرتب کئے ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ مارکس کے بعد تاریخ نویسی کے دو نکتہ ہائے نظر وجود میں آئے۔ ایک نکتہ نظر وہ ہے جسے مارکس کے نظریات کی روشنی میں آج ہم تاریخ کا مادی تصور کہتے ہیں۔ تاریخ کے مادی تصور کے مطابق انسانی سماج ہو یا سماجی اور سیاسی ادارے وہ سب اپنے عہد کے نظام پیداوار اور ذرایع پیداوار پر قابض طبقات کے مفادات کے عکاس ہوتے ہیں۔ مارکس کے نزدیک انسانی تاریخ طبقاتی جدوجہد کی تاریخ ہے اور حقیقی تاریخ نویسی وہی ہے جو مختلف ادوار میں سماج کے محروم طبقات کی حکمران طبقات کے خلاف طبقاتی جدوجہد اور مزاحمت کو بیان کرتی ہے۔ اس کے برعکس تاریخ کا دوسرا تصور وہ ہے جس کے مطابق انسانی سماج اور سماجی اداروں کا ارتقا اور نشوو نما سازش، شخصیا ت کی چپقلش اور چنیدہ افراد کی فہم و فراست کی بدولت ممکن ہوتی ہے۔ ڈاکٹر مبارک علی’مارکس کے تاریخ نویسی پر اثرات‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں ’مارکس کی تاریخ نویسی اور تاریخی عمل کے بارے میں جو خیالات تھے اُس سے مورخین متاثر ہوئے اور اور مارکسی نظریات کے زیر اثر جو اہم تبدیلی آئی وہ تاریخ کی تشکیل میں عوام کا کردار تھا۔مارکس کے نظریات کے زیر اثر تاریخ نویسی میں اُن لوگوں کا ذکر کیا جانے لگا جنھیں اب تک تاریخی عمل سے خارج رکھا گیا تھا۔ہندوستان میں بھی مارکسی فلسفے کا اثر ہوا اور یہاں بھی مورخوں نے تاریخ کی تشکیل نو کرتے ہوئے مارکسی نکتہ نظر اخیتار کیا۔ کوسمبی اور رومیلا تھاپر نے قدیم ہندوستان کی تاریخ عوامی نکتہ نظرسے لکھ کر ہندوستان کی تاریخ کو ا ایک نئی جہت اور شکل دی۔ تاریخ کے مارکسی تصور کے تحت عہد وسطی کے ہندوستان کی تاریخ پر کام کرنے والوں میں کے۔ایم اشرف، محمد حبیب، عرفان حبیب، ہر بنس مکھیا شامل ہیں۔دنیا بھر میں مارکسی مورخوں نے غلاموں،کسانوں،مزدوروں اور محنت کشوں کی بغاوتوں،تحریکوں اور مزاحمتوں کے بارے میں تحقیق کی اور ان کو گمشدگی کے اندھیروں سے نکال کر تاریخ کی روشنی میں لا کر کھڑا کیا۔موجودہ دور میں عوامی تاریخ کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا ہے اور تقریبا ہر ملک میں مارکسی مورخ اپنی تاریخ کو عوام کے نکتہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر جعفر احمد کے مضمون کا عنوان ہے ’کارل مارکس کے ادبی نظریات‘۔ڈاکٹر جعفر احمد لکھتے ہیں کہ ’کارل مارکس نے ادب اور آرٹ سے متعلق کوئی جداگانہ کتاب نہیں لکھی مگر اُس کی سائنسی سوشلزم سے متعلق انتہائی وقیع تصانیف میں جو نظریاتی اور فکری مواد موجود ہے اس سے کارل مارکس کا نظریہ ادب اور نظریہ جمالیات مرتب کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ اردو زبان میں مارکس کے نظریہ ادب کی تشکیل و تشریح کے ضمن میں جن میں اہل علم نے نمایاں کردار ادا کیا اُن میں اختر حسین رائے پوری، مجنوں گورکھپوری،احتشام حسین،ممتاز حسین، سبط حسن، ڈاکٹر محمد حسن اور اصغر علی انجینئر کے نام سرفہرست ہیں۔
تاریخ کے اس شمارے کا اہم ترین مضمون اشفاق سلیم مرزا نے لکھا ہے جس کا عنوان ہے ’مارکسی سیاسی معیشت اور عصر حاضر‘ ہے۔ انھوں نے تین معروف مارکسی دانشوروں۔۔Alex callinicos،Ernesto LaclanاورTerry Egleton کی لکھی کتابوں کی روشنی میں مارکس نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے۔اشفاق سلیم مرز ا لکھتے ہیں ’مارکسی فلسفے کو جدلیاتی مادیت کا نام روسی فلسفی پلیخانوف((1856-1918 نے دیاتھا اور جدید جدلیات کا بانی جرمن فلسفی ہیگل(1770-1831)تھا اور مادیت کا نظریہ مارکس نے فیورباخ سے لیا تھاجو مارکس کا تقریبا ہم عصر تھا۔فیورباخ(1804-1872)کی کتاب The Essence of Christianity شایع ہونے کے بعد مارکس (1818-1883)اور اینگلز(1820-1895)اس کے شیدائی ہوگئے تھے۔مرزا صاحب کہتے ہیں کہ ’سوویت یونین کے انہدام سے پہلے خصوصا برزنیف کے دور تک جو سوال مارکسی سیاسی معیشت پر اُٹھائے جاتے تھے وہ مارکسی کیمپ میں مغربی پروپیگنڈا کے طورپر مسترد کردیئے جاتے تھے لیکن دیوار برلن گرنے کے بعد جو نظریاتی سانحہ گذرا اُ س نے نہ صرف اُن سوالوں کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کردیا بلکہ نئے مباحث کو بھی جنم دیا۔ہمارے ہاں المیہ ہے کہ ہم کسی تعقل کا جائزہ لیتے ہوئے تاریخیت اور تاریخی فرمان کو نظر انداز کردیتے ہیں۔اشفاق سلیم مرزا نے اپنے مضمون میں پرولتاری آمریت، غیر طبقاتی سماج اور غیرریاستی سماج بارے کارل مارکس کے نظریات کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ مرزا صاحب کے نزدیک اب بالشویک انقلاب کے طرز کے کسی انقلاب کی گنجایش موجود نہیں ہے اور نہ ہی اب سوویت طرز کی کسی ریاست کے قیام کا کوئی امکان موجود ہے۔
ایوب ملک نے ’کارل مارکس پر تنقید کا تجزیاتی مطالعہ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’مارکس سے منسوب ’پرولتاری آمریت‘ کے نظریہ پر دنیا بھر کے دانشوروں نے بہت بحث کی ہے۔ہاوڈزن اس سلسلے میں بہت اہم بات کہتے ہیں کہ مارکس کے اس نظریہ کی تاویلات 1871 کے پیرس کمیون کو پیش نظر رکھ کر کرنی چاہیں جہاں گلی کوچوں میں سماجی مسائل پر بحثیں ہوتی تھیں جس کی وجہ سے ایسی بنیادی جمہوریت پروان چڑھ رہی تھی کہ جہاں ایک مزدور اور سرکاری افسر کی تنخواہ میں کوئی فرق نہ ہونے کے ساتھ ساتھ کسی بھی سرکاری افسر کو عوامی رائے شماری کے ساتھ کبھی بھی ملازمت سے نکالا جاسکتا تھا۔پیرس کمیون کے ادوار میں فرانسیسی انقلاب کی بدنام زمانہ سرقلم کرنے والی میشن گلوٹین کا مکمل خاتمہ کردیا گیا تھا ہاوڈزن لکھتے ہیں کہ مارکس اگر انقلاب روس کے زمانے میں زندہ ہوتے تو روسی سوشلزم سے کبھی متفق نہ ہوتے اور وہ ماسکو میں انقلا ب کے باغی کے طور پر جانے جاتے‘۔
مارکسی نظریات میں ریاست کے تصور کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ سہ ماہی’تاریخ‘ میں رالف ملی بینڈ کا ایک مضمون مارکس اور ریاست شامل ہے جس کا ترجمہ لطیف چوہدری نے کیا ہے۔ مارکس نے ریاست کے بارے میں خود کوئی مربوط نظریہ پیش کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی تھی۔ ریاست کے بارے میں مارکس کے خیالات اس کی تاریخی کتب’فرانس میں طبقاتی کشمکش‘،لوئی بونا پارٹ کی اٹھاوریں برومیئر‘، اور ’فرانس میں خانہ جنگی‘ سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔
سہ ماہی’تاریخ‘ میں شامل مضامین مارکس ازم کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرتے ہیں۔ مارکس ازم میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ’تاریخ‘ کا یہ شمارہ بہت زیادہ اہم ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں