کویت سے سینئر صحافی جاویداحمد کا بابا جان کے نام خط

تحریر: جاوید احمد

قابل احترام بابا جان،

آپ اپنے خطے ٕگلگت-بلتستان، کے عوام کے مسائل پر آواز اٹھانے کے جرم میں پس زنداں ہیں۔ آپ کے طبقاتی حریف شاید آپ کو سلاخوں کے پیچھے بھیج کر خوش ہوئے تھے کہ ان کے مفادات کے راستے میں مزاحمت کی قوت ختم ہوجائے گی، مگر یہ اس کے برعکس ہوا کہ اب ہر طرف عالمی سطح پر بھی بابا جان کا نام گونج رہا ہے۔

آپ اور آپ کے ساتھی جس عزم و ہمت اور حوصلہ اور جواں مردی سے ناکردہ جرم کی سزا کاٹ رہے ہیں اسے دیکھ کر مجھے نیلسن منڈیلا یاد آگئے۔ میں گزشتہ صدی کے اس بڑے انسان سے 1994ء میں کویت میں مل چکا ہوں .ان کا لہجہ اعتماد اور نظریہ کی پختگی یہ سب میرا سرمایہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس صدی کے منڈیلا آپ ہیں۔ آپ نے تمام تراغیب، لالچ اور دباؤ کے باوجود مشروط طور پر رہا ہونے سے انکار کر کے گلگت-بلتستان و پاکستان کےمحنت کشوں کے بلخصوص اور دنیا بھر کے مظلوم عوام کے بالعموم دل جیت لیے ہیں۔

انسانی زندگی تو صرف مزاحمت سے ہی عبارت ہے اور آپ نے مزاحمتی جدوجہد کی تاریخ کا ایک نیا باب رقم کیا ہے. گو ہماری آپ سے ملاقات تو نہیں ہوئی مگر ایک منصفانہ یا استحصال سے پاک معاشرے کے قیام کا نظریہ ہی ہماری ملاقات کا مظہر ہے۔ آپ کی جدوجہد نے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا میں صرف دو ہی طبقات ہیں ایک ظالم اور دوسرا مظلوم۔ظالموں کی کوئی بھی شکل ہو یہ ایک ہیں اور ایک یکساں طریقے سے محنت کشوں پر حملہ آور ہوتے ہیں. ان کی کوئی بھی سیاسی پارٹی یا حکمرانی کا دور ہو سکتا ہے۔آپ پیپلز پارٹی کے دور میں گرفتار ہوئے ،نواز لیگ کے دور میں سزا ہوئی اور اب عمران خان کی حکومت میں بھی جیل میں ہیں۔

آپ کی جدوجہد اور عظمت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ آپ سے جسمانی طور پر ہزاروں میل دور بیٹھا ہوا ایک ان دیکھا ساتھی بھی آپ سے اسی طرح محبت اور عقیدت رکھتا ہے جس طرح کہ پاکستان کے دوسرے محنت کش ساتھی۔

میں آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی جدوجہد کو سرخ سلام پیش کرتے ہوئے پر امید ہوں کہ ایک دن ہم باہم ہوں گے اور "یہ چار دن کی جدائی تو کوئی بات نہیں۔”

والسلام
آپ کا ساتھی
جاویداحمد

پوٹھوہار سے تعلق رکھنے والے جاوید احمد نے سیاسی زندگی کا آغاز طلبہ کی ترقی پسند سیاست سےکیا. پھر ٹریڈ یونین میں بھرپور کردار ادا کیا اور بھٹو کی مزدور دشمن پالیسیوں کے خلاف جدوجہد کی جس کے نتیجے میں مقدمات کی بھرمار، ڈی پی آر، پھر طویل روپوشی کی صعوبتیں برداشت کیں. وہ گزشتہ 40 سال سے کویت میں انگریزی صحافت سے منسلک ہیں۔ پچاس سے زیادہ ممالک کے متعدد سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم کے انٹرویو کر چکے ہیں جن میں خاص طور پر نیلسن منڈیلا بھی شامل ہیں۔بائیں بازو کے ترقی پسند رہنما رفعت بابا ان کے سیاسی استاد تھے۔برصغیر پاک وہند کی آزادی کے رہنما دادا امیر حیدر کے ساتھ کام کیا۔وہ ماؤزے تنگ،لینن،ہوچی منہ، اورکم ال سنگ میموریل کا دورہ کرکے اپنا خراج عقیدت پیش کر چکے ہیں کے۔انھیں 2017 میں شمالی کوریا کی دوستی کا میڈل بھی مل چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں