کے۔این۔ایم کا افتخار کربلائی، بابا جان اور دیگر ضمیر کے قیدیوں سے ناروا سلوک پر تشویش

"کے۔این۔ایم اور کے. ایس. او کے رہنمائوں اور رشتہ داروں کو ضلع غذر کے دماس جیل میں عمر قید کی سزا کاٹنے والے افتخار کربلائی، بابا جان اور دیگر قیدیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور انہیں مناسب غذا بھی نہیں دیا جا رہا ہے”

بیور رپورٹ

کراچی: قراقرم نیشنل موومنٹ (کے.این.ایم) اور قراقرم اسٹو ڈینٹس آرگنائزیشن (کے. ایس. او) کے رہنماوں نے کامریڈ افتخار حسین کربلائی اور دیگر ضمیر کے قیدیوں کے ساتھ جیل میں مبینہ طور پر غیر انسانی سلوک کر نے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ان اسیروں کو غذر کے دماس جیل میں رشہ داروں اور سیاسی کارکنوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے اور انھیں مناسب طبی معائینہ اور غذاء بھی نہیں دیا جا رہا ہے جو قیدیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔

کے۔این۔ایم کے رہنماء شیر بابو اور دیگر کا کہنا ہے کہ قیدیوں سے جیل میں ملاقات کے لئے ہفتہ اور جمعرات کے دن سرکاری طور پر مختص ہیں۔ لہٰذا کے.این.ایم اور کے.ایس.او کے قائدین و کارکنان اور ہمدرد مختلف اضلاع سے کامریڈ افتخار حسین کربلائی اور دیگر قیدیوں سے ملنے جاتے ہیں۔

مگر گزشتہ چند مہنوں سے جیل حکام اسیروں کے رشتہ داروں اور سیاسی کارکنوں کو بِلا جواز اور نا معلوم وجوہات کی بنا پر افتخار، اور عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماٰ بابا جان اور دیگر اسیروں سے ملنے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں-

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے اسیر ساتھیوں کو ڈاکٹروں سے چیک اپ نہیں کروایا جارہا ہے اور نہ ہی دوائیاں دی جارہی ہے۔

"جیل میں مناسب کھانے کا انتظام نہ ہونے کے سبب ان قیدیوں کو غیر صحت بخش کھانے پر مجبور کیاجارہاہے ۔”

ان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اپنے قائدین کی صحت کے بارے میں تشویش میں مبتلا ہیں۔ لہٰذا یہ حکومت اور جیل حکام کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کی صحت اور زندگی کا تحفظ کریں، ان کا ٹیسٹ کرائے اور انہیں کورونا وائرس سے بچاو کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔

کے.این.ایم کے رہنماء نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ تمام ملاقاتیوں اور جیل عملہ کی اسکریننگ کرائے اور کامریڈ افتخار، بابا جان اور دیگر قیدیوں کو مناسب ادویات اور خوراک کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے حکومت گلگت بلتستان سے یہ بھی مطالبہ کیاکہ افتخار، بابا جان اور ضمیر کے دیگر قیدیوں کے ساتھ ہونے والے ظالمانہ سلوک کا نوٹس لیں اور ان کے ساتھ انسانی وقار اور احترام کے ساتھ برتاؤ کریں کیونکہ سیاسی کارکن ہونے کے ناطے وہ اس کے مستحق ہیں۔

خیال رہے بابا جان ، افتخار کربلائی، علیم اور دیگر 11 نوجوان کارکن گزشتہ نو سالوں سے جیل میں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔

انہیں گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2011ء کو علی آباد ہنزہ میں پولیس کے ہاتھوں عطاء آباد سانحہ کے متاثرین باپ بیٹے کو گولی مارنے کے نتیجے میں ھنگامہ آرائی اور جلائو گھرائو میں حصہ لینے کے الزام میں سزا سنائی تھی، جسے گلگت بلتستان کے چیف کورٹ نے معطل کیا تھا اور انہں ضمانت پر رہا کروایا تھا.

مگر بعد میں گلگت بلتستان کی اعلی ترین عدالت سپریم اپیلٹ کورٹ نے نہ صرف سزا کو برقرار رکھا بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی کیا اور اس بنیاد پر بابا جان کو نااہل قرار دے کر انتخابی عمل سے باہر کیا تھا۔

اس فیصلے کے خلاف ریویو اپیل اسی عدالت میں گذشتہ تین سالوں سے زیر التواء ہے اور سیاسی قیدی انصاف کے منتظر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں