گلگت بلتستان خود مختاری کی تحریک امکانات اور خدشات

تحریر: ایڈوکیٹ احسان

سپریم کورٹ کے سات رکنی لارجر بنچ کی طرف سے جی بی آئینی مسلئے پہ 17 جنوری کے متضاد فیصلے کے خلاف حکمران طبقے کی توقعات سے کہیں بڑھ کر عوامی ردعمل نے مقتدر قوتوں کو پریشان کرکے رکھ دیا ھے ایسا نظر آ رہا ھے کہ اب جی بی کے عوام پرانے کالونیل ڈھانچے کے تحت رہنے کیلئے تیار نہیں اور سرمایہ دار حکمران طبقہ اتنی آسانی سے اپنے کالونیل شکنجے کے نٹ بولٹ ڈھیلا کرنے کیلئے تیار نہیں اسلئے اب جی بی عوام کی جبر کے اس شکنجے کے خلاف مزاحمتی جدوجہد آگے بڑھے گی ظاہر ھے اس مزاحمتی جدوجہد کی کامیابی کیلئے بنیادی شرط اس تحریک کی قیادت کی بالغ نظری دور اندیشی اور دباو برداشت کرنے کی استطاعت پہ منحصر ھے نیز اس تحریک کی حکمت عملی اور پروگرام جتنا زیادہ واضع اور ریڈیکل ھو گااسی لحاظ سے تحریک کی کامیابی کی ضمانت دی جا سکتی ھے اگرچہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے مختلف سیاسی حلقوں کو صوبے کے الجھن سے نکال دیا ھے مگر اب بھی سرمایہ دار حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں کی محبت میں گرفتار مقامی مراعات یافتہ طبقہ اسلام آباد کے حکمرانوں سے اپنا سیاسی معاشی و اقتصادی رشتہ توڑنے کیلئے کسی طور تیار نہیں اس بنیادی کمزوری کی وجہ سے یہ بالائی مراعات یافتہ اور اس طبقے سے مستفیض ھونے والے روایتی سیاسی افراد اس مزاحمتی تحریک کی قیادت کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے اسلئے ماضی کی تلخ تجربات کے پیش نظر رکھتے ھوئے اس سیاسی تحریک کی قیادت اسلام آباد نواز کمزور سیاسی و مزہبی لیڈران کے رحم و کرم پہ چھوڑنے کے بجائے ریڈیکل نوجوان کارکنوں کو آگے بڑھ کر سیاسی جدوجہد کی قیادت اپنے ہاتھوں میں لینے کیلئے تیار ھو جائیں تاکہ مقامی کچلے ھوئے عوام اور خاص کر طلبا و نوجوانوں میں تیزی سے پھیلتی ھوئی ریڈیکل ہلچل کو ایک مستحکم اور طویل انقلابی جدوجہد میں بدلتے ھوئے حکمرانوں کو اسلام آباد کی عدالت کے بجائے عوامی عدالت کے فیصلے کے آگے سرنگوں کیا جا سکے اور اس طرح کالونیل شکنجے کو توڑ کر جی بی کے محنت کش عوام کو "اپنے وطن پہ اپنا راج” کرنے کے فطری حق کو چھینا جا سکے۔ اگر ریڈیکل نوجوان کارکنوں نے اب کی بار یہ جرات مندانہ قدم نہ اٹھایا تو ماضی کی طرح اس بار بھی عوامی تحریک درمیانی اسٹیج پہ جا کر کمپرومائز کا شکار ھو گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں