ہندرپ (ضلع غذر) میں کیا ہو رہا ہے؟

تحریر: عنایت بیگ

کوہستان (خیبر پختونخواہ) سے آئے 30 مسلح دہشت گردوں نے 4 گاوں واسیوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنایا اور اپنے ساتھ لے گئے, 4 لوگ بھاگنے میں کامیاب ہوئے اور گاوں پہنچ کر لوگوں کو اس حادثے کی اطلاع دی. گاوں کے عمائدین نے واقعے کا ایف آئی آر درج کروا لیا ہے.

ایسا کیوں ہوا ہے؟

یرغمالی ٹولے کا کہنا ہے کہ ہندرپ پختونخواہ کا علاقہ ان کا ہے, گلگت بلتستان کا نہیں.

کیا یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے؟

نہیں! اس سے قبل گلگت بلتستان کے جغرافیے کو ریاست پاکستان کی سرپرستی میں کئی بار کاٹا جا چکا ہے. کوہستان خود گلگت بلتستان کا حصہ تھا, جسے کاٹ کر پختونخواہ کو دیا گیا, اور اب دعوی بصری تک کا ہے. چترال ریاست بروشال, دردستان و بلور کا حصہ تھا جسے کاٹ کر پختونخواہ کو دیا گیا. اب شندور سمیت پھنڈر اور لنگر تک کا دعوی ہے. قُرمبر جھیل کے حوالے سے بھی ایسی ہی خبریں ہیں. اسکائی چن کو پاک چین دوستی کی نذر کیا گیا.

کیا یہ اپنی نوعیت کا آخری واقعہ ہوگا؟

ایسا لگتا تو نہیں, مگر یہ خطے کے عوام کی جدوجہد پر منحصر ہے

کیا یہ کام کوہستان کے ممبر قومی اسمبلی ملک آفرین کا ہے؟

نہیں! یہ کام رہاست کی نوآبادیاتی Expansionist پالیسی کا ایک معمولی سا مظہر ہے.

کیا یہ پشتونوں کی بلورستانیوں سے کوئی دیرینہ تعصب اور نفرت کی بھی عکاسی کرتا ہے؟

نہیں! پشتونوں کو ہمارا دشمن بنا کر دکھانے کی کوشش کی جائے گی, مگر اس حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ یہ بالادست ریاستی طبقے کی کارستانیاں ہیں.

کیا کرنا ہوگا؟

خطہ بلور کے طول و عرض پر پھیلے 25 لاکھ انسانوں کو انسان سمجھتے ہوئے ان کا انسانی اور قانونی حق تسلیم کرنا ہوگا. خطے کی سبھی مزاحمتی سیاسی تنظیموں (بالخصوص نوجوانوں) کو تنظیموں اور نظریات کی تفریق سے بالاتر ہو کر اپنے سرحدی حدود کی تحفظ کے لئے مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینے کے لئے سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا, اور جلد ہی مشاورتی لائحہ عمل کے ساتھ عملی جدوجہد اس ضمن میں شروع کرنی ہوگی, جس کے پہلے مرحلے میں عوامی رابطہ مہم شروع کرنی ہوگی جس میں عوام کو یہ بات باور کرانی ہوگی کہ جب تک خطے کی آئینی و قانونی حیثیت (شناخت) کا تعین نہیں کیا جاتا, اور جب تک خطے میں ایک خود مختار آئین ساز اسمبلی کا قیام عمل میں نہیں آتا, یہ واقعات نہ صرف جاری رہیں گے, بلکہ ان کی شدت میں اضافہ بھی ہوتا رہے گا.

ہندرپ (ضلع غذر) میں کیا ہو رہا ہے؟” ایک تبصرہ

  1. Dukh ki baad Yai ha K Handarap naly pr jo dawa ha wo bilkul bebunyat ha pory naly ka geographical position is bad ka sabut ha K ea nala kisi b trah sa kohistan wegera ka nhi likn is bady masly ko sirf Handarap K chand logo K uper chor dia gia ha halan K ea pora K pora govt of Gilgit baltistan ka masla ha ea ghizar K aik naly pr dawa hi nhi balky GB K hudood ki mukamal khilawarzi ki ja rahi ha ur is mamily ma agr dekha jay GB govt is ma khas dilchaspi nhi lee rahi ha ur ghizar handstand K log kahi sallon sa Khorsheet o hirah ma mubtila ha agr waqti tor pr is tanazy ko khatam na Kia kia to mustaqbil ma is K khoofnak nataig hongy ur hm pory GB K awam sa mutaliba krty ha K mushtarika ilaqy K bunyaad pa ghizar walo ka har aik muamily siyasi qanuni ur ikhlaqu saad dy

اپنا تبصرہ بھیجیں