benazir muبے نظیر کا قتلrder 175

بینظیر کا قتل جس سے بی بی کے سوا سب آگاہ تھے

اظہر سید


محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل سے چار روز قبل زیرو پوائنٹ پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل میں نذیر ڈھوکی کے کمرہ میں محترمہ بینظیر بھٹو کی اخبار میں شائع تصویر پر نجانے کس سوچ کے تحت ہم نے اپنا بال پوائنٹ پھیرا اور بی بی کا چہرہ غائب کر دیا ۔نذیر ڈھوکی کسی وقت ہمارے پیچھے ان کھڑے ہوئے ۔نذیر ڈھوکی ہمیشہ سے جیالے ہیں ۔انہوں نے غصے سے پوچھا یہ کیا کیا ہے ؟ڈھوکی کو شائد یاد ہو ہم نے کہا تھا "بی بی کو یہ مار دیں گے "۔
اسی روز صبح دس گیارہ بجے کے قریب ہمیں پارٹی کے ایک مرکزی راہنما نے آف دی ریکارڈ بتایا تھا کہ عرب امارت کے ایک ملک سے بی بی کو ایک خط پہنچایا گیا ہے جس میں انکی زندگی کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا گیا ہے ۔بی بی نے اس خط کے متعلق پارٹی راہنماؤں سے مشاورت کی تھی ۔اس راہنما جو آصف علی زرداری کی صدارت میں پیپلز پارٹی کا چوہدری نثار تھا نے بی بی کو مشورہ دیا کہ یہ صرف دھمکیاں ہیں ۔یہ راہنما اب پیپلز پارٹی میں نہیں بی بی نے اس کے مشورہ کی تائید کی اور خط کو سنجیدہ نہیں لیا ۔
بی بی کا پختہ خیال تھا کہ اگر کوئی سازش ہوئی فوج انکے قتل کی سازش ناکام بنا دے گی لیکن بی بی کو یہ نہیں پتہ تھا کہ ان کے قتل کے چند گھنٹے بعد جائے وقوعہ کو دھو دیا جائے گا اور پبلک پراسیکیوٹر دن دیہاڑے قتل کر دیا جائے گا ۔بی بی یہ نہیں جانتی تھی ان کے قتل والے روز لیاقت باغ جلسے میں انکے پیچھے کھڑے ہو کر پراسرار اشارے کرنے والے خالد شہنشاہ کو نامعلوم ہاتھ غائب کر دیں گے ۔
بی بی قلندر تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ ان کے قاتلوں کے نقش پا تک پہنچانے والے تمام کردار ایک کے بعد ایک کر کے قبائلی علاقہ جات، افغانستان اور خیبر پختونخوا میں قتل ہو جائیں گے ۔
افغان صدر حامد کرزی سی آئی اے کے پروردہ تھے ۔اچھے اور برے طالبان کے ساتھ کرزی کے اچھے تعلقات کا یہ عالم تھا وہ اشرف غنی حکومت میں بھی کابل میں تھے اور طالبعلموں کی کامیابی کے بعد بھی انہیں زندگی کی ایسی ضمانتیں حاصل تھیں وہ کابل سے فرار نہیں ہوئے اب بھی وہیں پر ہیں۔افغان صدر نے محترمہ بینظیر بھٹو کو خط نہیں لکھا وہ ایک غیر شیڈول دورہ بنا کر اسلام آباد پہنچ گئے ۔کرزی نے بی بی کو فرحت اللہ بابر کے زریعے انتہائی ضروری ملاقات کا پیغام بھیجا اور ملاقات کیلئے بی بی سرینا ہوٹل پہنچ گئیں ۔
صبح ہونے والی ملاقات "جس کے دس گھنٹے بعد بی بی کو قتل کر دیا گیا” میں حامد کرزی نے بی بی کو انکے قتل کی سازش سے آگاہ کر دیا اور محتاط رہنے کا مشورہ دیا ۔حامد کرزی نے اپنا فرض پورا کر دیا ۔
حامد کرزی کی ملاقات سے چند گھنٹے قبل یعنی 26 اور 27 دسمبر کی درمیانی شب صدر مشرف کی فوج کے ایک اعلی عہدیدار نے بی بی سے ملاقات کی ۔اس ملاقات میں کس چیز سے بی بی کو خبردار کیا گیا اسکی تصدیق کبھی نہیں ہو سکے گی کہ سولہ سترہ گھنٹے بعد بی بی لیاقت باغ میں قتل ہو گئیں ۔
ہم ایک بڑے میڈیا گروپ میں پیپلز پارٹی کی بیٹ کرتے تھے ۔لیاقت باغ جلسے میں ہماری ڈیوٹی تھی ۔اس دن ہمارے ساتھ خاتون رپورٹر فائزہ کی ڈیوٹی بھی تھی ۔گروپ کے انگریزی اخبار کے بیٹ رپورٹر عاصم یاسین بھی ہمارے ساتھ تھے ۔جلسہ سے قبل وہاں قائم عارضی چائے خانہ میں چائے پیتے ہوئے ہم تینوں کی گفتگو کا مرکزی نکتہ بی بی کی زندگی کو لاحق خطرات تھے۔
پورے شہر کو پتہ تھا بی بی کی زندگی خطرے میں ہے۔ لیاقت باغ جلسہ سے قبل کوئٹہ جلسہ گاہ کے باہر دھماکے اور اس سے قبل پاکستان آمد پر کراچی میں انکے قتل کی کوشش کے باوجود بی بی کو یقین تھا کہ ریاست انکے قتل کی سازش کو ناکام بنا دے گی۔
دوسری صورت یہ ہے ذوالفقار علی بھٹو اور اکبر بگٹی کی طرح بی بی بھی جان بچا کر زندہ رہنے کی بجائے دلیر اور جرات مند انسانوں کی طرح مرنا چاہتی تھی اور سمجھوتہ کرنے کی بجائے اس نے جان بوجھ کر موت کو گلے لگایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں