145

عبوری فیصلوں کے نا قابل عبور نتائج

ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکرؔ


ان دِنوں سوشل میڈیاپر گلگت بلتستان کوعبوری صوبہ، کشمیر کی طرز کا ریاستی سیٹ اپ، متنازعہ حیثیت کو آئینی طور پر تسلیم اور اقرارکرنے، بفر سٹیٹ بنانے سمیت کئی عنوانات کے تحت ان موضوعات پر عبور رکھنے والوں اور عبور نہ رکھنے والوں سب یکساں طور پر خوب تبصرے فرمارہے ہیں۔ میں کسی بھی عنوان پر عبور نہیں رکھتا، ہم جو تہتر سالوں سے نہ پاکستان کے آئینی شہری بننے کی رکاوٹیں عبور کر سکے، نہ پارلیمنٹ کی گیٹ اور کسی بھی آئینی ادارے کی دروازے عبور کر سکے نہ ہی چند کلو میٹر پر مشتمل وہ منحوس لکیر عبور کر پائے جس نے بوڑھے والدین کو اپنی اولاد سے، خون کے رشتوں کو ایک دوسرے سے صدیوں کے فاصلے پرالگ کر رکھا ہے۔ نہیں معلوم اب کیا عبور کرنے جا رہے ہیں۔
جب ہم ُعبوری‘ کہتے ہیں تو کئی دیگر الفاظ ہمارے ذہنوں میں وارد ہوتے ہیں جیسے عارضی، غیر مستقل، فوری حل، کسی بھی معاملے کی قانونی حل تک تھونپی گئی عارضی حل جسے عارضی سمجھ کر لوگ قبول کرتے ہیں اوراکثراوقات وقت گزرنے کے ساتھ اس قبولیت کو جو در اصل عدم مزاحمت ہے، بنیاد بناکر خود قانونی اور آئینی بنے براجمان ہوتے ہیں ،جیسے ہمارے اداروں میں ہوتےآرہے ہیں۔ پھر اس مستقل شدہ عبوری کو عبور کرنا ایک اور مسٔلہ ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں بہتر یہی لگتا ہے کہ، قانونی، آئینی اور بنیادی اخلاقی تقاضوں پر مبنی حل کی تاخیر پر صبر کرے لیکن عبوری پر اکتفا نہ کرے۔
گلگت بلتستان کی آئینی صورت حال پر عرصہ پندرہ بیس سالوں سے گاہے بگاہے لکھتا رہا ہوں۔ ایک مرتبہ جب معاملات مستقل حل کی طرف کافی آگے پہنچ چکا تھا، قسط وار تین کالم لکھ چکا ہوں۔ یہاں صرف ان کا خلاصہ عرض کروں گا، کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے، جس کا فیصلہ کشمیر کے ساتھ حق رائے دہی کے ذریعے طے ہونا ہے لیکن پاکستان کی آئین میں کشمیر کا متنازعہ ہونا مذکور ہے۔ تاہم کم از کم میری معلومات کے مطابق گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا تذکرہ کہیں موجود نہیں۔ اگر چہ پاکستان کے ذمہ دار ارباب ِ اختیار و اقتدار بارہا یہ کہتے چلے آرہے ہیں کہ یہ خطہ متنازعہ ہے لہٰذا ریاست کے آئینی اداروں میں ان کی نمائندگی ممکن نہیں۔
لہٰذامودبانہ تجویز ہے کہ پہلا آئینی ترمیم یہ کریں کہ جس طرح وہ ذبانی بیانات دیتے ہیں، انہیں بیانات کے مطابق گلگت بلتستان کو بھی کشمیر جیسا متنازعہ خطہ تسلیم کریں۔ اس ترمیم کے ساتھ بقول وزیر اعظم اس بہت ہی خوبصورت اور بقول ہمارے دوست مملکت پاکستان کے سَر کی خوبصورتی کو مزید دوبالا کرنے اور اس کی تعمیر و ترقی کے لیے تمام حقوقِ متنازعہ عنایت فرمائیں جس میں کشمیر کی طرح سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی؛ اسی متنازعہ حیثیت کے حامل چین کی انتظامی تحویل میں دی ہوئی بلتستان اور شمشال کے متصلہ آٹھ ہزار مربع کلومیٹرعلاقےشق سکم اور را سکم تک سیاحت اور تجارتی مقاصد کے لیےکھلی رسائی ؛ نرم سرحدی پابندیاں؛ ملکی و بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے حوصلہ افزا سہولیات اور قوانین؛ماحولیاتی بہتری اور ترقیاتی لیبارٹری بنانے کے لیے اقدامات، ریاستی سپریم کورٹ کی قیام وغیرہ شامل ہیں۔ کچھ متنازعہ حقوق تو شوربے میں بھی آئے گا، جن کا تذکرہ ضروری نہیں۔
حکومتی عہدیداروں کے نام جو بھی رکھیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے، صدر، گورنر، وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ ، چیف ایکزیکٹیو، خادم ِاعلیٰ یا منتظم اعلیٰ، جرمنی کی طرح چانسلر یا معذرت کے ساتھ اس سے چھوٹا وائس چانسلرکوئی بھی نام رکھدیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ صدر آزاد کشمیر اور وزیر اعظم آزاد کشمیر، ایک کانا وزیر کے مقابلے میں کس حیثیت کا حامل ہے۔ اسی طرح اسمبلی کا نام کچھ بھی رکھ لیں، ایوان، کونسل، پارلیمنٹ، مجلس شوریٰ کچھ بھی کچھ بھی چلے گا۔
ایک اور تجویز اُس وقت دیا تھا جب صدر پرویز مشرف نے متنازعہ خطوں کو ساتھ جغرافیائی خطوں میں تقسیم کرنے کی بات کی تھی۔ اس تجویز کے مطابق وہ خطے جو یکم نومبر کو آزاد ہوئے اور عرف ِعام میں ایک مہینے سے کم عرصے میں پاکستان کے ساتھ الحاق ہوگیا، اور گلگت ایجنسی کے طور پر کافی عرصہ لاآئینی دھارے میں شامل رہے، ان کو آئینی دھارے میں شامل کیا جائے اور ان کی مرضی کے مطابق وفاق یا ہمسایہ صوبے کا حصہ بنایا جائے۔ ہماری معلومات کے مطابق یکم نومبر کی آزادی کے بعد وفاق پاکستان کو الحاق کی درخواست بھیجی تھی، جس پر جائزے کے لیے تحصیلدار رینک کے ایک بیوروکریٹ کو بھیجا تھا جسے نوزائدہ صدرِ جمہوریہ کی پروٹوکول اور انگریز دماغ کی کار کردگی نے منتظم اعلیٰ بنا دیا اورعملی طور پرانتظامی حوالے سے ریاستِ پاکستان کا حصہ بن گیا۔
الحاق کی درخواست پر اُس وقت کے وزیر اعظم یا گورنر جنرل یا اسمبلی نے کیا جواب دیا، ہم ان دستاویزات کی حقیقت (اگر کوئی ہوتو) جاننا چاہتے ہیں تاکہ کسی بھی فیصلے کے لیے کوئی مضبوط بنیاد فراہم ہو۔ان تمام دستاویزات کو پبلک کیا جائے تو مفید ہوگا۔ اس الحاقی پیش رفت کے نو ماہ بعد بلتستان اور استور کے علاقے ڈوگروں سے آزادکرا لیے۔ ان نو آزاد شدہ خطوں کی طرف سے کسی قسم کی الحاقی درخواست کی کوئی تاریخی ریکارڈ ہمیں نہیں معلوم۔اتنا پتہ ہے کہ بلتستان اور استور انتظامی اعتبار سےگلگت ایجنسی کے ساتھ الحاق ہوگیا اور یوں بلا واسطہ پاکستان کے ساتھ ملحق قرار پایا۔ لہٰذا مناسب ہے کہ استور اور بلتستان کو فی الحال متنازعہ ہی رہنے دیں کیونکہ اس سے ایک طرف سی پیک کی روانی کے لیے کوئی دشواری پیش نہیں آئے گی، دوسری طرف تین سو کلومیٹر کے لگ بھگ لائن آف کنٹرول ،لائن آف کنٹرول ہی رہے گا، سرحد میں تبدیل نہیں ہوگا، تیسری طرف مسئلہ کشمیر پر ممکنہ حق رائے دہی کے وقت اپنے پلڑے کو بھاری کرنے کے لیے ایک اہم خطہ موجود ہوگا جس سے کشمیری بھی خوش ہوں گے، کیونکہ ہمارا تو دو سو فیصد ووٹ مملکتِ خداداد کے رہے گا۔ متنازعہ حقوق اور مراعات دیکھ کرامید ہے بلتستان اور استور والے بھی خفا نہیں ہوں گے اورفی الحال ریاست پاکستان کی سر پرستی میں، سبز ہلالی پرچم کے سایے اور قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تصویر کے ساتھ خوش و خرم بین الاقوامی برادری کا حصہ بن کر تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے معاشی تعلقات قائم کریں گے۔ ہم ہمسایوں سمیت دنیا بھر کی سیاحوں کی میزبانی کرکے نہ صرف دھائیوں سے بچھڑے انسانی رشتوں کو ملائیں گے بلکہ ہمسایوں کے آپس کی تعلقات کی بحالی اور بہتری میں بھی کردار ادا کریں گے۔
تاریخ کی اس اہم موڑ پر ہم شوکت عزیز کمیٹی کی تجاویز، اور عبوری صوبہ بننے کی صورت میں لائن آف کنٹرول کی حیثیت سے متعلق متعقلہ ریاستی اداروں کی رائے بھی جاننا ضروری سمجھتے ہیں، تاکہ جی بی عوام کوٹافیاں دیتے دیتے کہیں قومی امور پر کسی مسئلے میں اونچ نیچ نہ ہو کیونکہ ہمارا ہمسایہ دس دوربینیں لگا کر معمولی اونچ نیچ کوکئی سو گنا بڑھا کرڈھول بجانے میں ہم سے پیچھے نہیں۔
ابھی 23مارچ تک وقت موجود ہے، فیصلوں میں ترمیم و اضافے کی۔ مزید تجاویز درکار ہوں تو اس خطے کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کی شعبہ منصوبہ بندی و ترقی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات کے لیے بھی حاضر ہے کیونکہ ایسے تاریخی چوراہے کبھی کبھار آیا کرتا ہے اور ایسے میں نوکری والی خاموشی شعوری فرض منصبی سے کوتاہی ہوگی۔ میرے پاس دستاویزی ثبوتوں اور دلائل کی کمی ہے، آپ اس ضمن میں ہماری مدد فرما سکتے ہیں۔ تاکہ معاملے کی بہتراور پائیدار حل کی ضمن میں ہم بھی اپنی رائے میں ترمیم و اضافہ اور تبدیلی لا سکیں۔

ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر کا تعلق ضلع گنچھے سے ہے ۔ آپ نے آغاخان ایجوکیشن سروس میں کافی دیر خدمات سرانجام دیا،اس کے بعد قراقرم یونیورسٹی کے شعبہ تعلیم میں اسسٹنٹ پروفیسر متعین ہوئے بعدازاں آغاخان یونیورسٹی کراچی سے پی ایچ ڈی کیا۔ڈاکٹر بننے کے کچھ ہی دیر بعد آپ کا تبادلہ قراقرم یونیورسٹی سے بلتستان یونیورسٹی سکردو ہو گیا اس وقت آپ بلتستان یونیورسٹی میں بحثیت ڈائریکٹر اکیڈمک خدمات سرانجام دے رہے ہیں ۔آپ کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وقتا فوقتا گلگت بلتستان کے مختلف اخبارات جیسے کے ٹو اور بادشمال وغیرہ میں آپ کے مضامین چھپتے رہتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں