ٓکوئی 317

پکول /کھو/کھوئی


تحریر: زبیر توروالی

یہ مجسمہ برٹش میوزیم لندن میں رکھا ہوا ہے۔ اس کے نیچے لکھا ہے ”مقدونیہ کا لڑکا، جس نے (kausia)کوزیا نامی ٹوپی پہنی ہے اور اسکا تعلق یونان کے قدیم شہر ایتھنز سے ہے اور 300 قبل مسیح کا ہے”

پکول ٹوپی کو آج کل پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں اور ہندوکش، قراقرم اور پامیر کی وادیوں میں کثرت سے دیکھا جاسکتا ہے۔ پکول کے بارے میں علمی و تحقیقی حلقوں میں بحث اس وقت زیادہ شدّت سے ابھری جب مغربی میڈیا نے طالبان اور ان سے پہلے مجاہدین کو اپنے ٹی وی کے پردا اسکرین پر پکول پہنے دیکھا۔

پکول، جسے اب کئی لوگ  چترالی، افغانی یا داردی ٹوپی بھی کہتے ہیں، کافی دلچسپ تاریخ رکھتا ہے۔ یونان کے شہر ایتھنز سے اس کے تعلق کو کئی ماہرین سکندر اعظم سے جڑتے ہیں جنہوں نے موجودہ پاکستان اور افغانستان کے علاقوں کو 326 قبل مسیح کو فتح کیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ سکندر اعظم اور اس کی فوج نے اس ٹوپی کو یہاں سے یونان پہنچا دیا اور یوں وہاں یہ کوزیا/kausia کے نام سے مشہور ہوئی اور ان کے مطابق یونان میں اس کا پہلا تذکرہ 11 قبل مسیح میں ہوا تھا۔

قدیم تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے ان ماہرین کا خیال ہے کہ یونان میں لباس اور دوسری اشیاء کو سکندر اعظم کے مہمات نے بہت متاثر کیا تھا اس لئے ہندوکش کا یہ پکول یونان میں کوزیا بن گیا۔

کئی داردی زبانوں جیسے شینا، توروالی، گاؤری وغیرہ میں پکول کےاصل نام ”کھوئی، کھو، کھہ وغیرہ“ ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا کہ یونانی لفظ کوزیا اور ان الفاظ کا ماخذ ایک ہی ہے۔ (kausia)

محققین کا ایک دوسرا حلقہ کہتا ہے کہ پکول کو اس خطے میں سکندر اعظم اور اس کی افواج نے رائج کیا۔ یعنی پکول اصلاً یونانی ہے تاہم اس سلسلے میں کم شواہد موجود ہیں۔ پکول اصل میں ایسے ہموار ٹوپیوں میں سے ایک ہے جن کے گول پلندہ دار کنارے  (rolled rims)ہوتے تھے اور جو چین، ہندوستان اور وسطی ایشیا کی سرحی علاقوں میں پہنےجاتے تھے۔ یہ علاقے واضح طور پرداردستان (شمالی پاکستان، شمال مشرقی افغانستان ،کشمیر  اور بلتستان کے علاقے) ہیں۔


حوالاجات (References)

— B. M. Kingsley, “The cap that survived Alexander”, AJA 85 (1981), 39-46;

— “The ‘Chitrali’, a Macedonian import to the West”, Afghanistan Journal 8 (1981), 90-93;

— “The Kausia Diadematophoros”, AJA 88 (1984), 66-68;

— “Alexander’s ‘kausia’ and Macedonian tradition”, Classical Antiquity 10, (1991), 59-76;

E. A. Fredricksmeyer, “Alexander the Great and the Macedonian kausia”, TAPhA 116 (1986), 215-227;

— “The kausia: Macedonian or Indian?” in I. Worthington (ed.), Ventures into Greek History (Oxford, 1994), 135-158;

زبیر توروالی کالم نگار، مصنف اور لسانیات بالخصوص داردک زبانوں پر تحقیق سے دلچسپی رکھتےہیں۔ وہ بحرین میں توروالی زبان کی ترقی و ترویج کے لئے ادارہ برائے تعلیم و ترقی کےنام سے ادارہ چلاتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں