شندور پولو میلہ 1,004

شندور میلہ …کس قیمت پر؟


تحریر: بشارت عیٰسی




شندور میلے پر ملک بھر میں بہت زیادہ جوش دیکھا جاتا ہے اور ایک حد تک فخر بھی کیا جاتا ہے ۔ لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ راقم اپنی تحریر میں چند ایسی تلخ حقائق کی نشاندہی کرنا چاہتا ہے جو اس میلے کی تیاریوں کو بدمزہ بھی کر سکتی ہیں ۔ لیکن ان نکات پر سوچنا اور انہیں سمجھنا بھی ضروری ہے۔ میں اس تحریرمیں اپنے خیالات کا اظہار اس فیسٹیول میں ہونے والے ذاتی تجربے اور مشاہدات کے نتیجے میں کر رہا ہوں اور میرا  خیال  ہے کہ  شاید میں کبھی اس فیسٹیول میں دوبارہ نہیں جانا چاہوں گا۔.

دو ٹیموں کے درمیاں کھیل جاری جب کہ عام شائقین کھلے آسمان تلے مقابلہ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ فوٹو بشارت عیٰسی

یوں تو شندور میلے کی تاریخ برطانوی نو آبادیاتی دور تک جاتی ہے، جب شندور کے مقام پر دنیا کے بلند ترین پولوگراونڈ میں برطانوی کرنل ایولن پورے چاند کی راتوں میں اس کھیل سے لطف اندوز ہوتے تھے. اس کے علاوہ یاسین اور مستوج کے ریاستوں کے بارے میں بھی تاریخی روایات پائی جاتی ہیں کہ ان کی ٹیمیں بھی یہاں پولو کھیلا کرتی تھیں۔

  1982شندور میں پہلی بار حکومتی سطح پرچترال انتظامیہ کے تحت گرمیوں کے موسم میں فری اسٹائل پولوٹورنامنٹ کا آغاز ہوا جو آہستہ آہستہ ملکی و غیر ملکی شہرت کا حامل ہوا.  تب سے لے کر اب تک جنرل ضیاء الحق، بینظیر بھٹو، اور بالخصوص سنہ ٢٠٠٦ میں سابقہ  صدر جنرل پرویز مشرف نے بذات خود اس میلے کا افتتاح کیا تاکہ غیر ملکی سطح پر اس میلے کو دہشت گردی کے خلاف مہم کے طور پر استعمال کیا جا سکے ۔

بنیادی اور تاریخی حوالے سے اس میلے کا اصل مقصد گلگت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کے مابین کھیلے جانے والے ٹورنامنٹ کے ذریعے عام افراد کو تفریح مہیا کرنا اور قریب لانا تھا…..لیکن وقت کے ساتھ یہ میلہ عوام کے بجائے حکمرانوں اور اشرافیہ کی تفریح کا میلہ بنتا جارہا ہے۔.

کھلاڈی وی وی آئی پی انکلوزر کے سامنے۔ فوٹو بشارت عیسی

ایک اندازے کے مطابق اس میلے میں چالیس ہزار کے قریب شائقین شرکت کرتے ہیں اور گلگت ،بلتستان ، چترال کے دیگر عوامی میلوں کی طرح اس میلے میں بھی مردوں کی اکثریت ہوتی ہے. موجودہ حالات میں شندورمیلے  کو لے کر چند اہم پہلوؤں پر باریک بینی اور تنقیدی نظرئیے سے سوچنا انتہائی  اہم اور وقت کی ضرورت ہے۔ اس وقت  شندور کے علاقے پر گلگت بلتستان اور چترال کے بیچ حد بندی کا تاریخی تنازعہ بھی چل رہا ہے جسے نظر انداز کرنا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوگا۔ اس لیئے کہ اس ضمن میں چترال اسکاؤٹس کی جانب سے جاری حالیہ غیر قانونی اور ماحول دشمن تعمیرات کی گلگت بلتستان  اور چترال میں سخت مذمت جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تعمیرات شندور میلے کے دوران اشرافیہ کے قیام کے سلسلے میں کی جا رہی ہیں۔  شندور میلے کے انتظامات اور میزبانی کے سلسلے میں چترال اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے بیچ ہونے والے تنازعات بھی کوئی نئی بات نہیں۔     

پہلا اور سب سے اہم نکتہ اس میلے کے انعقاد کے ساتھ  ماحولیاتی آلودگی کا ہے۔


  1200فٹ کی اونچائی پر واقع اس میدان میں ہزاروں لوگوں کا مجمع، چترال اور گلگت کے دونوں اطراف سے ہزاروں گاڑیوں کی آمد و رفت اور اس کے نتیجے میں ہونے والی آلودگی، شندور کے خوش گوارماحول کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ تین سے چار دنوں کے دوران اس میلے کے مقام پر جمع ہونے والے کوڑ ے کرکٹ اور انسانی آمد و رفت سے زمین پر پڑنے والے قدموں کے نشانات قدرتی ماحول پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات چھوڑ تے ہیں جس کا خمیازہ  نہ صرف موجودہ بلکہ مستقبل کی نسلوں کو بھی بھگتنا پڑے گا۔. 

میلے کے دوران جمع ہونے والا منوں کوڑا کرکٹ ، پلاسٹک کی ہزاروں  بوتلیں، کھلے آسمان تلے انسانی فضلہ اور گندگی بھی ماحول کو خراب کرتی ہے ۔اس کے علاوہ ان دنوں کے دوران یہاں عارضی قیام کرنے والے افراد پینے کے پانی کے ذرائع  بھی آلودہ کر دیتے ہیں ،بنا سوچے کہ نشیبی علاقوں میں رہنے والے مقامی افراد اس پانی کو پینے اور پکانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں ۔

اس میلے کے دوران پانی کی آلودگی کا یہ سلسلہ  پھنڈر ،یہاں تک کہ خلتی تک پہنچ جاتا ہے ۔ راستوں میں ہزاروں لوگ بہتے صاف پانی اور دریاؤں میں گاڑیاں، برتن اور کپڑے وغیرہ دھوتے ہیں اور انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ یہ پانی ان علاقوں کے لوگ پینے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ دن رات گاڑیوں کا شور اور ہارن  کا  بے جااستعمال بھی ان خاموش وادیوں میں شور کی آلودگی کا باعث بنتا ہے۔

آپ کو شاید یہ محسوس ہو کہ یہ تمام مصیبتیں صرف  اس علاقے کے انسان اٹھا رہے ہوں گے ، مگر سچ تو یہ ہے کہ اس شور شرابے اور ماحولیاتی آلودگی سے جانوروں ، پرندوں اور دریائی مخلوق کے زندگیوں کو بھی خطرے سے دوچار کیا ہے ۔

اس فیسٹیول کے دوران اس علاقے کے جانوروں کی قدرتی چراگاہیں اور فطری مسکن بھی متاثر ہوتے ہیں ۔ اکثر جانور کیمپوں کے آس پاس پلاسٹک اور دیگر کچرہ کھاتے نظر آتے ہیں جو ان کی بیماری یا موت کا باعث بنتا ہے۔ یہ علاقہ بنیادی طور پر ایک چراگاہ ہے جس پر خیمے، گاڑیاں ، اورانجان انسان چند روز کے لئے قابض ہوجاتے ہیں۔ 

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آلودگی  اور موسمیاتی تبدیلوں کے نتیجے میں گلشئیرز کے پگھلنے اور جھیلوں کے پھٹنے سے  اس قسم کے علاقے میں حد درجہ ماحولیاتی تباہی وہ بھی محض انسانی تفرِیح کے لئے کسی المیے سے کم نہیں۔

دوسرا اہم نکتہ اس میلے کی بدلتی ہوئی نوعیت سے متعلق ہے۔

تاریخی اعتبارسے اس میلے کو ہمیشہ عوامی میلے کے طور پر منعقد کیا جاتا رہا  ہےجس میں عوام  کو مہیا کی جانے والی تفریح کو مرکز ی حیثیت حاصل رہی ہے، جہاں عوام کا داخلہ بلا خوف اور کسی رکاوٹ کے رہا  ہے،تاکہ وہ اس سے لطف اندوز ہوسکیں۔ لیکن بدلتے وقت اور حالات کے ساتھ اب شندور میلہ عوامی کم ،عسکری اور افسری میلہ زیادہ لگتا ہے۔

۔


اب شندور میلے کی  شروعات اس جگہ کو خاردار تاروں سے گھیر کرہوتی ہیں۔ جس کے بعد آپ مخصوص داخلی راستوں پر جامع تلاشی کے بعد گراونڈ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ یہاں تک تو چلیں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ سب کچھ  ہماری حفاظت اور دہشت گردی کے پیش نظر کیا گیا ہے …….لیکن حفاظت کا عالم یہ ہے کہ آپ اپنا کیمرہ تک ساتھ نہیں لے جا سکتے ۔ بھلا بتائیں میلہ اور بنا کیمرے کے؟ 

حفاظتی اقدامات  کا حال یہ ہے کہ اگر آپ ایک عام تماشائی ہیں اور کسی ڈھلان یا دیوار پر بیٹھ کر یا میدان میں بھی بیٹھ کر پولو میچ دیکھ رہے ہوں تو پورے فیسٹیول کے دوران آپ گھوڑوں، کھلاڑیوں اور کھیل سے زیادہ حفاظت پر معمور اہلکاروں کی تشریف آوری کا انداز دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ کچھ خوش قسمت  ان کے بیچ میں سے  میچ کی چند جھلکیاں بھی دیکھ لیتے ہیں جو اس بات کی ذہنی سند ہوتی ہے کہ آپ نے  بھی میلے میں شرکت کی تھی۔ مہمانِ خصوصی کے انتظار میں گھنٹوں تپتی دھوپ میں بیٹھے رہنا اب اس فیسٹیول کے نئے حفاظتی اقدام  میں شامل ہے ۔ جس کے خلاف شائقین اورحاضرین گراونڈ میں خالی بوتلیں پھینک کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔

   خاردار تاروں کے علاوہ دوسرا اہم کام میلے کی تیاری میں گراؤنڈ کے قریب سٹریٹیجک جگہوں پر قبضے کا ہوتا ہے۔ گراؤنڈ سے قریب تر، پانی تک رسائی اور اچھے نظاروں کے ساتھ تمام جگہوں پر سرکاری اور عسکری خیمے لگے ہوتے ہیں جو بجلی، پانی اور میلے کی نایاب ترین سہولت  اور ٹوائیلٹ  سے آراستہ ہوتے ہیں۔ مجال ہے کہ کسی سویلین کو ان جگہوں تک رسائی حاصل ہو۔ بمشکل دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے کیمپوں کے لئے جگہ میسر ہوتی ہے.

ایک عام شہری جو رفع حاجت کھلے آسمان تلے پوری کرنے کا عادی ہوتا ہے اکثر پولو ٹیم کے کیمپ میں موجود ایک ٹوائیلٹ میں اپنی کبھی نہ آنے والی باری کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ اور یہ سہولت بھی یاسین اور مستوج جیسی چھوٹی سویلین ٹیم کے کیمپ کی مہربانی سے ہوتی ہے۔ بڑی سرکاری ٹیم کے تو قریب  تک جانا خود  کوا خطرے میں ڈالنے کی بات ہوتی ہے۔

میں اپنے پڑھنے والوں کا شکر گزار ہوں جو میرے تیسرے نکتے تک میرا ساتھ دے رہے ہیں. تیسرا اور اس تحریر کا آخری نکتہ شندور میلے میں ہونے والے طبقاتی تفریق کا ہے۔

اگر آپ چنیدہ شخصیات (عسکری یا سرکاری) ہیں تو شندور میلے کی ساری رونقیں آپ کے لئے ہیں۔ ایسے ممتاز شرکاء اس میلے میں سرکاری، عسکری، سیاسی اور سیاحتی طور پر اونچے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے لئے شندور میلے کی تمام آسائشیں مخصوص ہوتی ہیں .اس طبقے میں ایک خاص مقام انگریزوں کو بھی حسب قومی عادت برائے انگریزی تلوے چاٹنے کے بن چکا ہے۔ اگر آپ ان شخصیات میں سے کسی سے  بھی تعلق ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آپ بھی ان کے ساتھ شریک ہو کر ان آسائشوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ ان آسائشوں میں گراؤنڈ کے پاس خیمے کے لئے بہتر جگہ یا تیارشدہ خیمہ، ٹوائیلٹ کی سہولت، بجلی، پانی اور سب سے بڑھ کر گراؤنڈ میں موجود وہ مخصوص بیٹھنے کی جگہ ہے جس کا خواب مٹی اور پتھریلے ڈھلانوں پر خوار ہونے والا ہر تماشائی دیکھتا ہے۔

یہ  تصویر ایک وی آئی پی اینکلوژر کی ہے جس تک رسائی صرف خاص خاص لوگ ہی کر سکتے ہیں ۔ اس اینکلوژر میں داخل ہونے کے لئے ایک مخصوص اجازت نامہ کے ذریعے ہوتی ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے کئی لوگ رشوت تک دیتے ہیں۔ یہ اینکلوژر دیگر اینکلوژرز کی نسبت جو کہ سب گراونڈ کے اطراف ٹیلے ہیں، کہیں بہتر، صاف، اور آرام دہ ہوتا ہے کیوںکہ یہ ہموار ہے اور کرسیاں لگانے کی جگہ بھی موجود ہوتی ہے۔ اگرچہ کرسی نہ بھی ملے تو آپ آرام سے بیٹھ کر پولو میچ دیکھ سکتے ہیں، ورنہ باقی جگہوں پرسارا میچ دھینگا مشتی اور بچ بچاؤ میں گزر جاتا ہے۔ ہجوم اتنا ہوتا ہے کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں ملتی اور کچھ میچ تو سانس لینے کے لیئے جگہ بنانے میں ہی نکل جاتے ہیں۔

ایک عام انسان کے لئے اس میلے کے دوران رفع حاجت کرنا ہی ایک طرح کا جہاد ہے۔ انسانوں اور جانوروں کے نظروں سے بچ کر دور کہیں جگہ ڈھونڈ لینا مشکل ہی نہیں بلکہ حفظان صحت کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ الغرض اگر آپ ایک عام انسان ہیں اور کسی خاص انسان سے کوئی تعلق نہیں ہے تو آپ کا شندور میلے کا تجربہ اور زیادہ ایڈونچرس ہوگا۔ (اس ایڈونچر میں احتیاط نہ برتنے پر پریشر ککر کے پھٹنے کے واقعات بھی شامل ہو سکتے ہیں)۔.

چلتے چلتے ایک اہم  نکتے  کاذکر کرتا چلوں ،موسیقی شندورمیلے کا ایک اہم جز ہے اور اس دوران شراب نوشی اور دیگر منشیات کا استعمال بھی کثرت سے ہوتا ہے۔ جس طرح کی سہولیات، مشکلات اور ماحول اس میلے کا ہوتا ہے وہ خواتین، بچوں اور بوڑھوں کے لئے بلکل بھی مو زوں نہیں ہے بشرطیکہ آپ کا تعلق اونچے طبقے سے نہ ہو۔  حکومت وقت  اور دیگر حلقے چاہیں اور سنجیدگی سے اس میلے اور اس علاقے سے جڑے مسائل پہ کام کریں تویقیناً یہ ایک ماحول دوست میلہ ہو سکتا ہے. جس سے محض انسانی تفریح ہی نہیں بلکہ دیگر صحت مند اور دیرپا اقدامات کئے جا سکتے ہیں جو ہمارے ملک، ماحول اور مستقبل پر مثبت طور پر اثر انداز ہوں گے۔۔۔ لیکن میری سادگی دیکھ  کیا چاہتا ہوں۔۔۔


بشارت عیٰسی  لندن اسکول آف اکنامکس کے گریجویٹ ہیں اور حبیب یونیورسٹی کراچی میں پڑھاتے ہیں۔  وہ مختلیف موضوعات   بالخصوص سماجی، سیاسی، اور ثقافتی    مسائل  سمیت   گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر لکھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں