54

غذر ایکسپریس وے: عوامی امنگوں کا قتل نقصان دہ ہوگا

عنایت بیگ


غذر ایکسپریس وے سے متعلق جائز عوامی تحفظات کو پونیال کے نمبرداران، عمائدین اور نوجوانوں کی مشترکہ قرارداد کی شکل میں رواں سال فروری میں (گاہکوچ ریسٹ ہاؤس میں ایک اہم اجلاس کے بعد) متعلقہ اداروں اور زمہ دار افراد تک پہنچا دی گئی تھی، جس پر بغیر کسی شنوائی کے محکمے کے ملازمین ہماری زمینیں ناپنے اور اونے پونے معاوضوں کے ریکارڈ بنانے بالآخر 6 مہینے بعد پونیال کے مختلف گاؤں میں پہنچ رہے ہیں۔
عوام بارہا کہہ چکی ہے کہ ہم اس شاہراہ کی تعمیر کو ضلع میں ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کا سبب بھی سمجھتے ہیں، مگر ہماری جائز تحفظات کا ازالہ نہ ہونے کی صورت پرامن احتجاج کا حق بھی محفوظ رکھتے ہیں۔
عوامی قرارداد کے چند چیدہ چیدہ نکات مندرجہ ذیل تھے(ہیں):
1۔ گاؤں کے اندر روڑ کی چوڑائی 50 فٹ اور گاؤں سے باہر 90 فٹ سے زیادہ نہ ہو۔
2۔ پونیال کی زمین (پونیال کی تحریر شدہ دستور 1935) کے مطابق لبِ دریا سے پہاڑ کی چوٹی تک یہاں کے پشتنی عوام کی زر خرید ملکیت ہے، لہذا ایکسپریس وے کی زد میں آنے والے ایک ایک انچ زمین، جنگل، ندی نالے و پہاڑ وغیرہ کا معاوضہ عوامی حق ہے۔
3۔ معاوضوں کی الاٹمنٹ کلکٹر آفس کی طرف سے زمین کی ماضی میں ہوئی لین دین کی رجسٹری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پونیال میں اکثریتی گاؤں میں خرید و فروخت کے لئے زمین دستیاب ہی نہیں ہےاور نہ کوئی ایسی لین دین ہوئی ہے۔ پنجاب و سندھ کی طرح یہاں زمین ایکڑوں میں نہیں کنال میں ہوتی ہے اور ایک ایک مرکہ بیش قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ لوگوں کو مکمل دارومدار انہی زمینوں و چراگاہوں پر ہے۔ لہذا معاوضے کی طے شدہ رقم کا کم از کم چار گنا عوامی زمینوں کی کمپنسیشن کی مد میں کام شروع ہونے سے قبل ادا کیا جائے۔
علاؤہ ازیں، یہ پشتنی آبادیاں ہیں، یہاں کمرشل اور نان کمرشل جیسے الفاظ کا استعمال ہی استحصال کی علامت ہے۔ یہاں ساری زمین ریزیڈینشیل ہے، اور لوگ اپنی ریزیڈینشیل زمین پر چھوٹی کاروباری سرگرمیاں سرانجام دے رہے ہیں۔
محکمے کے لوگ ہمیں بتا رہے ہیں کہ نقشہ ایک بار بن گیا تو پھر بدل نہیں سکتا، اس لیے پیسوں پر بات کریں باقی کسی مسلے کو نہ اٹھائیں۔ ہم کہتے ہیں آپ کے کاغذ کے نقشے کی اگر اتنی اہمیت ہے تو ہمیں اپنی دھرتی اور اپنی مٹی کے نقشے کا کس قدر پاس ہوگا، اس کا اندازہ آپ خود لگائیں۔
سڑک بنے گی تو عوامی امنگوں کے مطابق! یہی عوام کا حتمی فیصلہ ہے، باقی جبر اور دھونس کے ذریعے ایک شاہراہ تو ممکن بنائی جا سکتی ہے، مگر جن شاہراہوں میں پشتنی جذبات دفن ہوں، وہ شاہراہیں، ترقی نہیں تباہی لاتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں