Baam-e-Jahan

گریٹ گیم اور وادی درکوت میں جارج ہیؤرڈ کا قتل

تحریر : اشفاق احمد ایڈوکیٹ

گریٹ گیم یا ‘بازی بزرگ’ ایک سیاسی اور سفارتی محاذ آرائی تھی جو برطانوی راج اور روسی سلطنت کے درمیان افغانستان اور سینٹرل و ہائی ایشیاء سمیت جنوبی ایشیاء میں بالادستی کے لئے انیسویں صدی کے بیشتر وقت جاری رہی-

گریٹ گیم 1870 میں شروع ہوئی اور اس کے آغاز سے ہی برطانوی راج کو روسی سلطنت سے خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے اس خطے پر مفصل تحقیق کے لئے مختلف افراد کو مہم جوئی پر روانہ کیا-

لیکن ایک اور مشہور روسی اسکالر ایو جینی سرجیف (Evgeny Sergeev ‘The Great Game 1856-1907 Russo-British Relations in Central Asia and East Asia)
اور دیگر مشہور اسکالرز جیسے ٰانگرام، مورگن، ایڈورڈز، میئر، برائساک اور چاودہ نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ بازی بزرگ اٹھارویں صدی کے دوسرے نصف یعنی 1757ء سے شروع ہو گیا تھا.

گریٹ گیم کے دوران گلگت میں تعینات برطانوی نو آبادیاتی ایجنٹ جان بڈلف Tribes of the Hindoo Koosh
نامی اپنی مشہور کتاب میں لکھتے ہیں کہ "یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلوں کے مشرقی اطراف کے دونوں حصوں میں واقع بہت سارے ممالک کا دورہ کیا. چونکہ اس سے قبل ان ممالک کے بارے میں معلومات دستیاب نہ ہونے کے برابر تھی, جبکہ ان میں سے بعض ممالک کا اس سے قبل کسی بھی یورپی باشندے نے دورہ نہیں کیا تھا-

البتہ اس سے قبل 18 جولائی 1870ء میں یاسین آنے والے ایک آزاد انگریز مہم جو George Whitaker Hayward کا سفاکانہ قتل کیاگیا تھا. وہ "درکوت پاس” پار کر کے پامیر کے خطے میں داخل ہونا چاہتے تھے. چنانچہ اس قتل کی وجہ سے وادی درکوت قابل ذکر ہے.”

بقول لیفٹینٹ کرنل بڈلف جب آپ وادئ "درکوت پاس” تک پہنچتے ہیں تو سنٹرل ایشیاء کے مشہور دریا "Oxus River” جسے امو دریا بھی کہا جاتا ہے کا مشرقی کنارہ صرف دو دن کے سفر کی دوری پر واقع ہے- جبکہ ہندو کش کے دامن میں آباد ورشگوم کے لوگ اور کوہ قراقرم کے دامن میں آباد ہنزہ اور نگر کے لوگ بروشو قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں. ورشگوم کے لوگ وہی زبان بولتے ہیں جو ہنزہ اور نگر میں بولی جاتی ہے. البتہ لہجے میں تھوڑا سا فرق ہے-”

جارج ہیورڈ کے قتل کے وقت یاسین کا حکمران راجہ میر ولی تھا جو گلگت بلتستان کے نامور حکمران گوہر آمان کا بیٹا تھا –

مہاراجہ ریاست جموں و کشمیر نے مسٹر ہیورڈ کے قتل کا الزام راجہ میر ولی پر عائد کیا اور انگریز سرکار نے راجہ میر ولی کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا-

نتیجتاً اس کا بھائی غلام محی الدین یاسین کا حکمران بنا جو عام طور پر پہلوان بہادر کے نام سے مشہور ہے-

"گریت گیم” کے مصنف صحافی Peter Hopkirk کا کہنا ہے کہ جارج ہیؤرڈ کے قتل کا معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا, مگر اس قتل کے متعلق دو مختلیف آرا پائی جاتی ہیں-
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ورشگوم کے لوگوں نے راجا میر ولی کے کہنے پر جارج ہیؤرڈ کا قتل کردیا تھا , کیونکہ راجا گوہر آمان اس خطے میں بیرونی تسلط کے سخت خلاف تھا اور اس نے مہاراجہ کی افواج کو شکست فاش دے کر اس خطے سے نکال باہر کیا تھا-

لہذا راجہ میر ولی نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چل کر جارج ہیؤرڈ کا قتل کرایا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ گوہر آمان کی وفات کے بعد ڈوگرہ افواج نے گلگت پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا اور اس کو خطرہ لاحق ہوا تھا کہ مہاراجہ کشمیر انگریزوں کے ساتھ ملکر اس کے علاقے یاسین کو فتح کرنے کے درپے ہے-

جب کہ دوسرے مکتبہ فکر کا ماننا ہے کہ جارج ہیؤرڈ کے قتل میں مہا راجہ کشمیر کا ہاتھ تھا تاکہ وہ راجہ میر ولی سے اس کے باپ راجہ گوہر آمان کے ہاتھوں شکست کا بدلہ لے سکے کیونکہ دردستان میں بھوپ سنگھ پڑی کے مقام پر راجہ گوہر امان نے سکھوں کا قتل عام کیا تھا-

لہذا مہاراجہ نے ہیؤرڈ کے قتل کا الزام راجہ میر ولی پر لگایا اور اس کو برٹش انڈیا کے غیض و غضب کا نشانہ بنا کر تخت و تاج سے محروم کردیا-

مگر اس قتل میں مہاراجہ کشمیر کےملوث ہونے کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا-

راجہ گوہر آمان کا پڑ پوتا راجہ ضیاالرحمن ایڈووکیٹ نے جارج ہیؤڈ کے قتل کے حوالے سے راجہ میر ولی پر لگائے گئے الزامات کی بابت بات کرتے ہوئے کہا کہ "حقیقت یہ ہے کہ جارج ہیؤرڈ کے قتل میں مہاراجہ کشمیر کا بنیادی کردار تھا جس کی ایما پر مہتر چترال نے اپنے بھانجے میر ولی جو راجہ ورشگوم و مستوج تھے کے ذریعے جارج ہیؤرڈ کا قتل کروایا-

مہتر چترال نے راجہ میر ولی کو پیغام پہنچایا کہ جارج ہیؤرڈ تمہاری سلطنت کے لئے خطرہ ہے. یہ مہاراجہ اور انگریز سرکار کے ساتھ مل کر اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے. لہذا اس سے ہر قیمت پر درکوت پاس پار کرنے نہیں دینا ہے-

اس قتل میں مہاراجہ کشمیر کے کردار کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ جارج ہیؤرڈ سانحہ مڈوری کے قتل عام کے بابت تحقیقات کر کے حقائق سامنے لا رہا تھا جس سے اس خطے پر مہاراجہ جموں و کشمیر کے جنگی جرائم کا پول کھلنے کا اندیشہ تھا-”
Peter Hopkirk اپنے مشہور زمانہ کتاب
THE GREAT GAME ”
On Secret Service in High Asia
میں جارج ہیؤرڈ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "وہ ایک جوان سابق برطانوی فوجی افسر تھا- انہیں اس مشن پر رائل جیوگرافیک سوسائٹی لندن نے مالی مدد فراہم کرکے بھیجا تھا اور اس مہم جوئی میں وہ اکیلا ہی نکلا تھا اور گریٹ گیم کا شکار ہو گیا-

جارج ہیؤرڈ کا مقصد ان علاقوں کا کھوج لگانا, تحقیق کرنا اور ان دروں کے نقشے بنانا تھا چنانچہ وہ یاسین سے بذریعہ درکوت پاس پامیر ریجن میں داخل ہونا چاہتا تھا-
لیکن سفر میں درپیش خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے آخری لمحے برٹش انڈین وائسرائےلارڑ مایو Lord Mayo نے اس پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس سفر کو ترک کرے مگر اس نے اپنے رسک پر یہ سفر کرنے کی ٹھان لی اور 1870ء کے موسم گرما میں سری نگر سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور 13 جولائی 1870 کو وہ بحفاظت یاسین پہنچ گیا اور سترہ جولائی کو وہ درکوت پہنچ گیا مگر اٹھارہ جولائی کو پانچ ملازمین کے ساتھ اس کا بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا”-

دنیا کی ویران ترین جگہ میں اس کی المناک موت کی خبر تین ماہ بعد ہندوستان سے بذریعہ ٹیلی گراف لندن پہنچ گئی مگر برطانوی اخبارات میں اس کی المناک موت کے متعلق کوئی خبر تک شائع نہیں کی گئی البتہ بعد ازیں مشہور شاعر Poet Sir Henry Newbolt نے ایک نظم لکھ کر جارج ہیورڈ کی المناک موت کی منظر کشی ان الفاظ میں کی ہے:
He Fell Among Thieves ‘-
And now it was dawn.
He rose strong to his feet,
And strode to his ruined camp below the wood:
He drank the breath of the morning cool and sweet,
His murderers round him stood.
Light on the Laspur hills was broadening fast,
The blood -red snow -peaks chilled to a dazzling white ,
He turned, and saw the golden circle at last,
Cut by the Eastern height .
O glorious Life, Who dwellest in earth and sun,
I have lived, I praise and adore Thee.
A sword swept.
Over the pass the voices one by one
Feded ,and the hill slept.”
واصخ رہے اس نظم کو پیٹر ہوپ کرک نے اپنی کتاب گریٹ گیم کے صفحہ نمبر 344 میں درج کیا ہے.

جارج ہیؤرڈ کی لاش برآمد کرنے کے لئے اس کے دوست برٹش جیالوجسٹ فیڈرک ڈریو نے کوششیں کیں جو مہاراجہ کشمیر کے دربار میں ملازمت کررہا تھا وہ اپنی جان کی حفاظت کے خوف سے خود تو یاسین اور درکوت جانے سے قاصر تھے. مگر اس نے ایک قابل اعتماد برٹش انڈین سپاہی کو جارج ہیؤرڈ کی موت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اس کی لاش کو تلاش کر کے واپس لانے کے لئے یاسین درکوت روانہ کیا. جس نے پتھروں کے ایک چھوٹے سے ڈھیر کے نیچے سے اس کی لاش برآمد کرنے کے بعد اسے فیڈرک ڈریو کے پاس گلگت پہنچا دیا. لاش کے ساتھ مہم جو کا کچھ سامان بھی اس فوجی نے وہاں سے برآمد کیا جس میں اس کی کتابیں, نقشے اور کاغذات شامل تھے. ان چیزوں کو اس کے قاتلوں نے بےقیمت سمجھ کر چھوڑ دیا تھا-
21 دسمبر کو جارج ہاؤڑ کے دوست فیڈرک ڈریو نے رائل جیوگرافیکل سوسائٹی لندن کو رپورٹ کیا کہ اس نے اپنے گولڈ میڈلسٹ دوست کو گلگت فورٹ کے پاس ایک باغیچے میں دفنا دیا ہے جو بعد میں Gilgit’s Christain Cemetery بن گئی-

گریٹ گیم میں پیٹر ہوپ کرک مزید لکھتا ہے کہ اس باغ کے مخالف سمت واقع ایک موچی کی دکان سے چابی حاصل کرکے اس وقت کوئی بھی شخص جارج ہیورڈ کی قبر دیکھ سکتا ہے-
جارج ہیؤرڈ کو دفناتے وقت اس کی قبر کے ساتھ ایک خوبانی کا درخت اُگ آیا, مگر کہا جاتا ہے کہ اس درخت نے کبھی پھل نہیں دیا.”

اس طرح جارج ہیورڈ کے قاتلوں کا آج تک پتہ نہیں چل سکا اور اسے گلگت پرانے پولو گراونڈ کے پاس واقع ریسٹ ہاوس سے ملحقہ ایک چھوٹےسے باغیچے میں دفنایا گیا جہاں آج بھی وہ ابدی نیند سو رہا ہے اور اس کی مقبرے کے اوپر لگے کتبہ میں واضع الفاظ میں یہ لکھا گیا ہے کہ
His tombstone, paid for by the Maharaja of Kashmir, reads:
"To the memory of G.W. Hayward, Gold Medalist of the Royal Geographical Society of London, who was cruelly murdered at Darkot, 18 July 1870, on his journey to explore the Pamir steppe. This monument is erected to a gallant officer and accomplished traveler at the instance of the Royal Geographical Society.”

مصنف اور سیاح ٹم ہنیگن نے اپنی تازہ ترین کتاب ہندوکش میں قتل جارج ہیورڈ اور بازئی بزرگ (Murder in the Hindu Kush – George Hayward and the Great Game by Tim Hannigan) میں اس واقعہ کے اوپر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے.

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 18 جولائی 1870 کی ایک روشن صبح کوہ ہندو کش کے دامن میں واقع وادی ورشگوم میں انگریز مہم جو جارج ہیورڈ کا بے دردی سے قتل ہونے کے افسوسناک واقعے کو آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد 18 جولائی 2020 کو پورے ایک سو پچاس سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہوگا ,مگر وادی درکوت کے لوگوں کے حافظے میں جارج ہیؤڑ آج بھی زندہ ہے-
اس سے بھی بڑھ کر حیرت کی بات یہ ہے کہ گریٹ گیم کی بازگشت آج اکیسویں صدی میں بھی گلگت بلتستان کے بلند وبالا پہاڑوں اور سنٹرل ایشیاء کے اس پار اپنی پوری شدت سے سنائی دے رہی ہے. فرق صرف اتنا ہے کہ آج گریٹ گیم برٹش راج اور سلطنت روس کے درمیان نہیں بلکہ چین اور امریکہ کے درمیان کھیلا جارہا ہے-


اشفاق احمد ایڈووکیٹ گلگت بلتستان چیف کورٹ کے وکیل ہیں اور ایک مقامی کالج میں بین الاقوامی قوانین پڑھاتے ہیں.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے