سیاحت 223

گلگت بلتستان اور سیاحت

تحریر: انجینر زاہد نواز عادل


سیاحت اس وقت دنیاں بھر میں معاشی سرگرمی کی دس فیصد کی نمائندگی کرتی ہے۔یو این ڈی ٹی او کے مطابق دنیاں بھر میں ہر گیارہ ملازمتوں میں ایک بالواسطہ یا بلا واسطہ سیاحت سے جُڑی ہوئی ہے۔دنیاں کے بیشتر ممالک مثلاً سوئٹزرلینڈ ،ملائشیا،ناروے،میکسیکو،متحدہ عرب امارات کی معاشی سرگرمیوں میں سیاحت سر فہرست ہے۔ان ممالک کی سیاحتی آمدن پاکستان کی کُل درآمدات سے کئی گُنا زیادہ ہے۔ پاکستان کو قدرت نے بہت سی جگہوں سے نوازا ہے جن پہ اگر تھوڑا سا بھی دھیان دیا جائے تو سیاحتی انقلاب بھرپا کیا جا سکتا ہے۔ساحل سمندر ہو یا بلوچستان کے صحرا ،مری کی پہاڑیاں ہو یا لاہور کی تاریخی عمارتیں(وغیرہ وغیرہ) ان میں ایک ایک جگہ پر حقیقی توجہ دی جائے تو پاکستان اربوں ڈالر کمانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اگر بات قدرتی حسن کی کی جائے تو بالعموم پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کو خدا نے ایسے حسن سے نوازا ہے کہ ایک بار جو یہاں آجائے پھر وہ یہاں کا ہو کے رہ جاتا ہے۔

گلگت بلتستان کو پاکستان کا سیاحتی مرکز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا جہاں دنیا کی دوسری بلند ترین پہاڑی چوٹی کے ٹو سمیت بے شمار بلند چوٹیاں واقع ہیں(آٹھ ہزار میٹر کے کلب میں شامل دنیاں کی چودہ بلند چوٹیوں میں غالباً سات گلگت بلتستاب میں واقع ہیں)۔ قدرتی حسن اور ثقافتی رنگوں سے مالامال گلگت بلتستان میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔،حسین وادیوں؛ سرسبز کہساروں،برف سے لدے آسمان کو چھوتے پہاڑوں،بہتے جھرنوں ،خوبصورت آبشاروں کا مسکن گلگت بلتستان موسم گرما میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ان سیاحتی مقامات میں فیری میڈوز، دیوسائی پلین، راما، خنجراب، بابوسر ٹاپ، عطا آباد، شنگریلا اور خلتی جھیلیں، پھنڈر، شندور، ہنزہ کے بلتیت اورالتیت اور سکردو میں شگر اور گانچھے کے قلعے، خپلو میں ہزار سال قدیم مسجد اور نلتر کے سیاحتی مقامات کے علاوہ درجنوں دیگر خوب صورت علاقے شامل ہیں۔

گلگت بلتستان میں سیاحت کا صحیح معنوں میں آغاز 2017 میں ہوا۔بشکریہ سوشل میڈیا گلگت بلتستان کی تشہیر ہوئی اور سیاحوں نے گلگت بلتستان کا رخ کیا۔اس ظمن میں ہنزہ کے بھائیوں نے بہت اہم کردار ادا کیا بلاشبہ سیاحت کا سب سے زیادہ فائدہ ہنزہ نے اٹھایا(یہ ان کی محنت کے ثمرات ہیں) لیکن بالواسطہ یا بلا واسطہ انہوں نے گلگت بلتستان کے باقی سیاحتی مقامات کو دنیاں تک پہنچنانے میں اہم کردار ادا کیا۔گلگت بلتستان کے باقی اضلاع کے لوگوں کو ہنزہ سے سیکھنا چاہئے کہ کیسے سیاحت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

آخر میں گلگت بلتستان کی عوام اور حکومت سے چند گزارشات ہیں۔سیاحت کی تعریف ہی تفریح اور سکون کی غرض سے اپنے روزمرہ کی معمولات سے وقت نکال کہ کسی علاقے کی سیر کرنا ہے ۔حکومت کو چاہئے کہ سیاحوں پہ سفر پابندیوں سے گریز کریں اور ان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کریں تا کہ وہ کسی تکلیف میں مبتلا ہوئے بغیر سکون سے اپنی چھٹیاں گزار سکیں ۔گلگت بلتستان کے لوگوں کو چاہئے کہ وہ سیاحوں پہ اپنے خیالات، کلچر ،ثقافت ،رسم و رواج مسلط کرنے کی کوشش نہ کریں (سوشل میڈیا پہ ایسی کمپئین نظر آئی) ان کو ان کے مطابق چلنے دیں۔سیاحت سے فائدہ اٹھائیں گلگت بلتستان کا مستقبل سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں ہے۔
انشاءاللّٰہ وہ دن دور نہیں جب گلگت بلتستان اپنے پاؤں پہ کھڑا ہوگا۔

نوٹ: پچھلے دنوں گوجال میں جو پارٹی والا سین ہوا ہے اس کا جواز پیش کرنا مقصود نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں