awp gb 114

عوامی ورکرز پارٹی کی گلگت بلتستان کے گندم سبسڈی کو ختم کرنے اور کوٹہ میں کٹوتی پر تشویش

ویب ڈیسک


عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان نے موجودہ حکومت کی جانب سے عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے، وسائل اور زمینوں پر قبضہ کرنے اور عوام کا معاشی قتل عام کرنے اور مہنگائی میں بے تحاشہ اضافہ پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو پارٹی دیگر ترقی پسند، قوم پرست اور جمہوری قوتوں کے ساتھ مل کرپورے خطے میں احتجاجی تحریک چلائے گی۔
ان خیالات کا اظہار عوامی ورکرز پارٹی ہنزہ کے مرکزی رہنماوں نے گزشتہ روز ایک اہم اجلاس میں کیا جو پارٹی کے مرکزی دفتر علی آباد میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت پارٹی کے رہنما بابا جان نے کی۔ اجلاس میں اکرام جمال، آخون بائے، فرہاد خان، امین اللہ بیگ، ظہورِ الہی، کریم اللہ بیگ، اختر امین اور سلطان عاجز رحیم جان شریک ہوئے۔
اجلاس کے بعد پارٹی نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے حکومت کی طرف سے علاقے میں اٹھائے گئ عوام دشمن اقدامات اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں عدم توجہی پر غم و غصّے کا اظہار کیا۔
پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ ہائبرڈ حکومت ایک طرف گلگت بلتستان کے لئے اربوں روپے کی ترقیاتی پیکج کا ڈھونگ رچاتی ہے تو دوسری طرف گندم کی سبسڈی ختم کرنے، اورکوٹہ کم کرنے کی باتیں کر کے علاقے کے عوم کے ساتھ مزاق کرتی ہے اور ۷۴ سالوں سے تمام بنیادی حقوق سے محروم رکھت جانے والے ۲۰ لاکھ عوام کے ذخموں پر نمک چڑکاتی ہے ۔
پارٹی کے رہنماوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے کسی بھی قسم کے فیصلے کو نہ صرف واپس لیا جائے بلکہ آئندہ عوام کو اس طرح چھیڑنے کی کوشش نہ کریں ۔ انہوں نے کہا کہ گندم کی مقدار میں کمی کی بجائے آبادی میں اضافے کے تناسب سے کوٹہ میں اضافہ کیا جائے۔
عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں نے دیامر ڈیم پر کام کرنے والے محنت کشوں کے لیے صحت کے سہولیات کی عدم موجودگی پر بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔اگر کوئی ملازم بیمار ہو جائے تو اسے قریب ترین ہسپتال پہنچا نے میں بھی کئی گھنٹے لگ جاتے ہیں۔
دوسری طرف کام کی جگہ پر آئے روز حادثات ہوتے رہتے ہیں۔ اس بینالقوامی شاہراہ پر ابتدائی طبی امداد اور ایمبولینس کے نہ ہونے سے کئی لوگ موت کے شکار ہوئے ۔
پارٹی رہنماوں نے مطالبہ کیاکہ مذکورہ جگہ پر موبائل میڈیکل یونٹ کو یقینی بنایا جائے اور ایک میڈیکل آفیسر اور دیگر سٹاف بھی تعینات کی جائے۔
پارٹی نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عطاء آباد جھیل کے کنارے تعمیرات پر پابندی کے فیصلے کو رد کیااور مطالبہ کیاکہ اس فیصلے کو فوراً واپس لیا جائے۔
جب ملک کے دیگر علاقوں سے سرمایہ دار آکر متنازع علاقے میں زمین خرید ے اور ہوٹلیں تعمیر کر کے جھیل اور اس کے اطراف کے ماحول کو خراب کئے تو انتظامیہ نے کوئی اقدام نہیں اٹھائے۔ اب مقامی لوگوں کی تعمیرات پر پابندی لگا کر ان کے معاشی قتل کیے جا رہے ہیں۔
پارٹی ہنزہ کے مرکزی تجارتی شہر علی آباد اور دیگر علاقوں میں نوکر شاہی کی جانب سے رات کے اندھیرے میں لوگوں کی نجی زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش پر بھی تشویش کا اظہاراور اس عمل کی سخت مذمت کی ۔ پارٹی خبردار کرتی ہے کہ اس ریاستی قبضہ گیری کو بند کیا جائے ورنہ اس کے خلاف عوام کو احتجاج کے لئے متحرک کریں گے۔
عوامی ورکرز پارٹی کے رہنماوں نے نیشنل ہائی وے اٹھارٹی کی جانب سے قراقرم ہائی وے میں استعمال ہونے والی زمینوں کے معاوضے کی عدم ادائیگی؛ آئین آباد تا حسینی ری الائنمنٹ کے معاوضے کی ادائیگی کے بعد ان علاقوں کے عوام پہ اس کی واپسی کے لیے مقدمہ قائم کرنے اور علاقے کے عوام بلخصوص بزرگوں کو عدالت میں گھسیٹنے کے عمل کو شرمناک قرار دیا اور مطالبہ کیاکہ ان مقدمات کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور پھسو تا سوست متاثرین کو منافع سمیت معاوضہ ادا کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں