ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے رہنماء کا تبادلہ


بیورو رپورٹ

گلگت: حکومت گلگت بلتستان نے ینگ ڈاکٹرز ایسو سی ایشن کے رہنماء ڈاکٹر اعجاز ایوب کا مبینہ سزا کے طور پر ضلع نگر تبادلہ کیا گیا ہے.
محکمہ صحت کے ایک اعلان نامہ کے مطابق، ڈاکٹر اعجاز ایوب کی خدمات فوری طور پر ضلع نگر کے انتظامیہ کے سپرد کیا گیا ہے تاکہ وہ کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں وہاں خدمات انجام دیں.

لیکن سوشل میڈیا پر سماجی اور سیاسی کارکنوں نے اسے انتقامی کاروائی قرار دیا اور اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا.

ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران ڈاکٹر اعجاز ایوب، ڈاکٹر ذوالفقار علی، ڈاکٹر فدا حسین اور دیگر نے گزشتہ دنوں گلگت میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران اور دیگر متاثرہ ممالک سے آنے والے لوگوں کی سکریننگ پر معمور ڈاکٹر اسامہ ریاض کرونا وائرس سے متاثر ہوئے –

ان کا یہ کہنا تھا کہ ڈاکٹر اسامہ بغیر حفاظتی انتظامات کے زائرین کی سکریننگ کرتے رہے.

انھوں نے الزام لگایا تھا کہ حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے وہ خود اس مہلک بیماری کا شکار ہوئے.

وائی ڈی اے کے رہنماوں نے گلگت بلتستان کے دیگر ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی زندگیوں کو لاحق خطرے پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا.کیونکہ ان کو حفاظتی کٹس اور سہولیات میسر نہیں.
ان ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ ان خطرات کے باوجود وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں .

انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ڈاکٹر اسامہ کو فورا اسلام آباد منتقل کیا جائے. اورڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو فوری طور پر حفاظتی کٹس اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جائیں۔
محکمئہ صحت کے حکام کے فیصلے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سیاسی و سماجی کارکن صفی اللہ بیگ نے کہا کہ یہ ایک شرمناک رویہ ہہے. انتظامیہ پہلی صف میں لڑنے والے ڈاکٹروں کو مدد دینے اور ان کی زندی کا تحفظ کو یقینی بنانے کی بجائے ان کو حراساں کر رہا ہے.
ایک اور سوشل میڈیا کارکن اقبال عیسٰی خان کا کہنا ہے کہ یہ حکومت کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کورونا وائرس کے خلاف پہلی صف میں لڑائی لڑ رہے ہیں اور قربانی دے رہیں. لٰہذا حکومت کو چاہئیے کہ ان کے مطالبات کو فلفور تسلیم کرہں.
اس سلسلے میں گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان سے رابطہ کیا گیا تاکہ ان کاموقوف لیا جائے تو انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا.

اپنا تبصرہ بھیجیں