انسانی حقوق کا عالمی دن اور ہنزہ کے 14 اسیران

سانحہ علی آباد کی عدالتی انکوائری رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائےاور ماورائے عدالت قتل کے مرتکب اہلکاروں کو سزا دی جائے: اسیران کے رشہ داروں کا مطالبہ

بام جہا ن رپورٹ

ایک طرف تو حکومت پاکستان انسانی حقوق کا عالمی دن منا رہی ہے اور دوسری طرف گلگت بلتستان میں 14 بے گناہ افراد کو ناکردہ گناہوں کی سزائیںدے کر آٹھ سالوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بد ترین ذہنی و جسمانی اذیت دی جا رہی ہے جو سراسر عالمی انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے۔
ان خیالات کا اظہار ہنزہ کے 14 اسیران کے رشتہ داروں اور سیاسی کارکنوں نے علی اباد ہنزہ میںایک اجلاس میں کیا جس کی صدارت انعام کریم، صدر اسیران رہائی کمیٹی، نے کیں۔
میٹنگ کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ علی آباد کی عدالتی انکوائری کو منظر عام پر لایا جائےاور ماورائے عدالت قتل کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
یاد رہے ک2011 کو عطاء آباد سانحہ کے متاثریں نے اپنے جائز حقوق کے لئے علی اباد میں ایک پرامن مظاہرہ کیا تھا جس پر پولیس نے فائرنگ کیں اور باپ بیٹے کا خون کیا تھا۔ ان پولیس اہلکاروں کو سزا دینے کے بجائے ترقیاں دے کر نوازا گیا تھا۔

شرکاء میٹنگ نے کہا کہ مجرم پولیس اہلکاروں کو نوازنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کا منصوبہ اس وقت کی حکومت نے بنایا تھا تاکہ پُرامن ہنزہ کو انتشار میں مبتلا کیا جائے۔
اجلاس میں کہا گیا کہ اسیران میں سے تین کی صحت انتہائی تشویشناک ہے لیکن حکومت ان کے علاج معالجے کے لئے کوئی قدم نہیں اُٹھا رہی ہے۔
ایک اسیر راشد منہاس اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے ۔ لیکن حکومت اور جیل انظامیہ مجرمانہ غفلت سے کام لے رہے ہیں اور راشد کے خاندان والوں کو بہ امر مجبوری انہںاسلام آباد علاج کے لئے لے جانا پڑا اور پولیس کے سفری اخراجات، رہائش کے خرچے، حتیٰ کہ موبائل فون تک کے اخراجات دینے پڑے۔ اب وہ مالی مشکلات کی وجہ سے ان کا علاج جاری نہیں رکھ سکے۔ ،حالانکہ اسیران کے علاج معالجے کی ذمہ داری حکومت کی ہوتی ہے۔

اجلاس کے شرکاء نے دنیا بھر میں عموماً اور مقبوضہ کشمیر میں خصوصاً انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور بین القوامی انسانی حقوق کے تنظیموں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے اور ان کو کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
اسیران ہنزہ کی جیل میں ناگفتہ بہ حالت اور اس سلسلے میں پاکستان میں موجود انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی پر بھی شرکاء اجلاس نے سوال اُٹھایا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ دو مرتبہ تمام رپورٹس اُن تنظیموں تک پہنچائے جانے کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی ہے اور اسیران کے خاندانوں میں بےچینی روز بروز بڑھ رہی ہے۔
سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے تنظیموں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پچھلے 73 سالوں سے جاری ہیں سیاسی کارکنوں کو ہراسان کیا جاتا ہے، انہیں اپنے بنیادی حقوق کے لئے آواز بلند کرنے پر نہ صرف مقدمات درج کئے جاتے ہیں بلکہ جھوٹے مقدمات میں 90 سال تک کی طویل سزائیں بھی دیئے جاتے ہیں..
ان جھوٹے مقدمات، سزائیں اور شیڈول فور جیسے کالے قوانین کے پیچھے ریاست پاکستان اور اس کے ادارے ہیں..
ایک سیاسی کارکن کا کہنا تھا کہ "گلگت بلتستان میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم اور جبر پر بات کرنا ثواب اور وہ بھی سال میں کچھ مخصوص دنوں میں اور ریاست پاکستان کے ظلم اور جبر گناہ سمجھا جاتا ہے.”


گلگت بلتستان میں ریاست پاکستان کے ادارے زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں جس کے خلاف عوام روزانہ کی بنیاد پر سراپا احتجاج ہیں
انھوں نے کہا کہ ہم گلگت بلتستان میں پاکستان کی جانب سے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں..
اسیران کمیٹی کے اراکین نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ گلگت بلتستان کا دورہ کریں اور اپنے دفاتر کو متحرک کریں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف اقدامات کرے..

سوشل میڈیا پر کارکنوں نے علیم خان کی ماں کی تصویر اور ویڈیو پیغام شیر کیے ہیں جوگزشتہ 8 سال سے اپنے اکلوتے بیٹے کی رہائی کی منتظر ہے۔
انہوں نے اپنے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے کہ "علیم کی پانچ بہنیں اپنے اکلوتے بھائی کی راہ دیکھ رہی ہیں؛ علیم کی ہمسفر اور بچے اپنے باپ کی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ رہے ہیں.”
ان کارکنوں کا ماننا ہے کہ بوڈھی ماں کے آنکھوں سے نکلنے والے آنسوؤں اک دن ان تمام کرداروں کو نشان عبرت بنادینگے جنہوں نے علیم اور بابا جان سمیت 14 سیاسی اور سماجی کارکنوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر اور جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر طویل ترین سزائیں دلوائی جس کی گواہی خود صدر پاکستان ، سپریم کورٹ کے ججوں، حکومتی ایوانوں، مذہبی شخصیات اور عام آدمی تک دیتے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ کامریڈ بابا جان اور ساتھیوں کے ساتھ ظلم ھوا ھے۔۔۔۔۔۔۔

گلگت بلتستان میں عدالت عظمیٰ اڈھائی سال سے دو ججوں کی تقرری کی منتظر ہے ججوں کی تعیناتی نہ ھونے سے مقدمات فائلوں میں دب کر رہ گئے ہیں بے گناہ شہریوں کو جیل کی سلاخوں سے باھر آنے میں ججوں کی کمی رکاوٹ بنی ھوئی ھے لیکن ماھرین قانون یہ بھی کہتے ہیں کہ چیف جج سزائیں معطل کر سکتا ھے اور ضمانت دے سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں