اور اب پیر سید کرم علی شاہ بھی ہم میں نہ رہے

علی احمد جان

کیا ہی غضب کا سال ہے ایک ایک کر کے سب ہی رخصت ہوئے جا رہے ہیں، ابھی سلطان مدد، راجہ عادل غیاث، ملک مسکین، حاجی جانباز، سعید افضل اور پروفیسر حشمت الہامی کے قبروں کی مٹی بھی نہ سوکھی تھی کہ گلگت بلتستان کی ایک اور بلند قامت سیاسی، سماجی و روحانی شخصیت پیر سید کرم علی شاہ بھی نہ رہے۔ ان کا سیاسی سفر ناردرن ایریاز کی مشاورتی کونسل سے گلگت بلتستان کی گورنری کے سنگھاسن تک پھیلا ہوا ہے جس میں ان کو چالیس سال تک سیاست کی بساط پر ناقابل شکست رہنے اور اس علاقے کا پہلا ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو منتخب ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

پیر سید کرم علی شاہ روائتی تاجیک لباس میں۔.

پیر سید کرم علی شاہ کے اجداد نے تاجکستان کے بدخشان، شمالی افغانستان، پاکستان میں چترال، یاسین اور ضلع غذر کے گاؤں چٹور کھنڈ تک کا سفر کیا۔ وسطی ایشیا بشمول افغانستان، چینی ترکستان اور پاکستان میں نہ صرف ان کے مریدین، معتقدین اور پیرو کاروں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے بلکہ ان کے خونی رشتے بھی موجود ہیں۔

اردو، شینا، کھوار اور بروشسکی زبان روانی سے بولنے کے علاوہ پیر سید کرم علی شاہ اعلیٰ پایہ کے فارسی دان بھی تھے، سعدی، حافظ شیرازی کے اشعار، فارسی حکائتیں اور اقوال ہر موقع کے لئے ان کی زبان پر رہتے تھے۔ مریدین کودم، دعا اور تعویز سے کبھی محروم نہیں کیا۔ وہ ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو رہے یا گورنر جب بھی کوئی مرید ان کے پاس آیا وہ تسلی سے اس کی بات سنتے، دعا دیتے اور حسب ضرورت تعویز لکھ دیتے۔ گورنر کی کرسی پر بھی گھنٹوں کتابیں کھولے تعویز لکھتے اور استخارہ کرتے دیکھ کر لوگ پوچھتے تو کہتے کہ وہ لوگوں کا پیر پہلے اور علاقے کا گورنر بعد میں ہے.

پیر سید کرم علی شاہ گورنر کا حلف لیتے ہوئے۔.

سنہ 1870ء کی دہائی میں ڈوگروں کی پشت پناہی کے بعد اس علاقے کے مقامی راجاؤں کو بڑی طاقت حاصل ہوئی۔ کشمیر کے طاقتور مہاراجہ کی فوجی کمک اور انگریزوں کی سرپرستی نے مقامی راجاؤں کو مقامی آبادی پر اپنا تسلط مستحکم کرنے کا موقع فراہم کیا۔ ڈوگروں کی مدد کرنے والے راجہ عیسیٰ بہادر کے بیٹے راجہ اکبر خان کے جبر و استبداد سے تنگ آئے پونیال کے لوگوں نے 1895ء میں انگریز سرکار سے داد رسی کے لئے گلگت شہر کی طرف مارچ کیا۔ گلگت میں لوگوں کو دریا کے پار کونو داس میں بند کر کے مارچ کی قیادت کرنے والے ان کے پیر سید جلال علی شاہ (پیر سید کرم علی شاہ کے دادا) کو ریزیڈنسی میں زیر حراست رکھا گیا۔

انگریزوں نے پیر سید جلال کو سنا اور لوگوں کے مطالبات کو مدنظر رکھ کر ”دستور العمل پونیال (اؤل)“ ترتیب دیا جس کی منظوری 1898ء میں ہوئی۔ اس دستور العمل کے تحت راجہ اور عوام کے درمیان حقوق و فرائض کا تعین ہوا تو لوگوں کو کسی حد تک سکھ کا سانس نصیب ہوا۔ مقامی لوگ اس کامیابی کو پیر سید جلال علی شاہ سے موسوم کرتے ہیں۔

پونیال میں دوسری بغاوت 1935ء میں راجہ اکبر خان کے بیٹے راجہ انور خان نے خود ہی کروائی تھی۔ 1898ء کے دستور العمل میں راجہ کے علاوہ ان کے رشتے داروں (گشپور) کو بھی مراعات دی گئی تھیں جن سے راجہ انور خان جان چھڑانا چاہتا تھا۔ راجہ انور خان اپنے چچا صفت بہادر کے بیٹے خان بہادر کے اثر و رسوخ کو ختم کرنا چاہتا تھا جس کے لئے دستور العمل میں ترمیم ضروری تھی۔ خود ہی بغاوت کروائی جس کے نتیجے میں ترمیم شدہ ”دستور العمل پونیال (دوئم)” 1935ء میں لکھا گیا جس میں راجہ کے رشتے داروں کو حاصل تمام مراعات ختم کردی گئیں.

پیر سید کرم علی شاہ گھڑئ خدا بخش سندہ میں 21 فروری 2011 کو شہید بے نظیر بھٹو کے مزار پر پھولوں کی پتیاں نچاور کرتے ہوئے۔ (فائل فوٹو

پونیال کی تیسری بغاوت پاکستان بننے کے بعد 1952ء میں ہوئی جس کی قیادت شیر قلعہ کے منشی سخی غلام کے علاوہ پیر سید کرم علی شاہ کے والد سید جمال شاہ اور چچا حاجی جان نے کی۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ ایف سی آر (فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن) کا کالا قانون اور راجگی کے نظام کو ختم کیا جائے۔ بغاوت کے دوران گلگت کی طرف مارچ کرتے ہوئے لوگوں پر فوج نے گولی چلائی اور راجوں کے مقامی کارندوں نے لوگوں کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی لوگ شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔

وقتی طور پر پونیال کی بغاوت کچل دی گئی مگر ان کا مطالبہ ایک نعرہ بن گیا جس کے لئے گلگت، نگر، یاسین اور ہنزہ میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ عوامی مطالبے کو مدنظر رکھتے ہوئے 1972ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے پونیال کے گاؤں سینگل میں جہاں بیس سال پہلے 1952ء میں لوگوں کی شہادتیں ہوئی تھیں راجگی اور ایف سی آر کے خاتمے کا اعلان کیا۔

ایف سی آر اور راجگی کے خاتمے کے بعد ناردرن ایریاز ایڈوائزری کونسل کی بذریعہ رائے عامہ تشکیل ہوئی تو لوگوں کے لئے 1895ء کی بغاوت کے سرخیل پیر جلال علی شاہ کے پوتے اور 1952ء کے انقلاب کے سرکردگان پیر جمال شاہ کے بیٹے اور ان کے انقلابی بھائی حاجی جان کے بھتیجے پیر کرم علی شاہ سے بہتر کوئی انتخاب ہی نہ تھا.

1994ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں گلگت بلتستان میں اختیارات کی مقامی نمائندوں کو منتقلی کے لئے اصلاحات کیے گئے اور انتخابات جماعتی بنیاد پر کروانے کا فیصلہ ہوا۔ سینگل کے گاؤں میں کھڑے ہو کر راجگی اور ایف سی آر کو ختم کرنے والے ذوالفقار علی بھٹو کا احسان اس کی جماعت کو ووٹ دے کر چکانے کا وقت آ گیا تھا۔ پیر سید کرم علی شاہ نے لوگوں کا موڈ دیکھ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا جس کے بعد اگلے کئی برس تک وہ نہ صرف ناقابل شکست رہے بلکہ اس خطے کے پہلے ڈپٹی چیف ایگزیکٹیو اور گورنر کے عہدے پر بھی براجمان ہوئے۔

 ۔ (فائل فوٹو) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو مرحوم پیر سید کرم علی شاہ. کے رہائش گاہ پر اظہار تشکر کر رہے ہیں 

پیر سید کرم علی شاہ کی پیپلز پارٹی میں شمولیت کو پاکستان کی جاگیر درانہ سیاست کی روایتی موقع پرستی سے تعبیر کیا گیا تھا مگر انھوں نے اپنی استقامت اور وفاداری سے سب کو غلط ثابت کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی پر لگنے والے الزامات کو جواز بنا کر بھی پیرکرم علی شاہ الگ ہوسکتے تھے۔ جنرل مشرف، اس کے بعد نواز شریف اور اب تبدیلی کے دور میں کئی مواقع ایسے آئے جب ان کو وفاداری بدلنے کی شہ دی گئی مگر انھوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنے تعلق کو قطعی قرار دیا۔

پیر سید کرم علی شاہ کی سیاست کبھی بھی تنقید سے ماورا نہیں رہی خاص طور پڑھے لکھے نوجوانوں نے ہمیشہ ان کو ہدف تنقید بنایا۔ مگر یہ ان کا طرہ امتیاز تھا کہ انھوں نے کبھی بھی سیاسی مخالفت کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ اپنے خلاف الیکشن لڑنے والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی حسن سلوک اختیار کیا کہ ان کے بد ترین مخالف بھی ان کے سامنے آ کر ان کے اخلاق اور فراخدلی کا متعرف ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ آج تک کوئی ایک بھی ایسی مثال نہیں کہ انھوں نے اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا ہو یا کسی کو انتقام کا نشانہ بنایا ہو۔

پیر صاحب کا ایک اور وصف یہ تھا کہ وہ ہر خاندان کے ہر فرد کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ کون کس خاندان سے ہے اور اس کا والد، دادا اور پردادا کون تھا۔ ایک بار احقر نے ان سے پوچھ بھی لیا کہ وہ ہر فرد کو کیسے جانتے اور یاد رکھتے ہیں۔ کہا کہ ان کے والد، دادا اور پر دادا نے بھی ہر خاندان اور ہر فرد کو نہ صرف یاد رکھا تھا بلکہ ان تک یہ باتیں پہنچائی ہیں جن کو یاد رکھنا ان کے لئے کبھی مشکل نہ رہا.

ان کے سامنے لوگ نہ صرف اپنا دکھڑا سناتے تھے بلکہ ایک دوسرے کی شکایتیں بھی کرتے تھے مگر آج تک پیر سید کرم علی شاہ نے کسی کی بات دوسرے کو نہیں بتائی۔ ہر شخص کے راز کو اپنے سینے میں رکھتے تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو ان کے سامنے اپنے دل کی بات کہنے میں کبھی دشواری یا خوف محسوس نہیں ہوا۔ اپنی ملنساری، غیر جانبداری، اعلیٰ مرتبت اور فہم و فراست کی وجہ سے نہ اپنے مریدوں بلکہ ان میں بھی ہمیشہ عزت و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے جو ان کے مرید نہیں بھی تھے۔

کرونا کی وباء کے پھیلنے کے بعد انھوں نے لوگوں کو کئی بار احتیاط کی تلقین بھی کی مگر اپنے چاہنے والوں اور معتقدین کے پھیلے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھنے سے نہ روک پائے جو عقیدت سے دست مرشد کو اپنے ہونٹوں اور آنکھوں پر رکھنے کو باعث سعادت سمجھتے تھے۔ ان کے لئے شاید ممکن نہ تھا کہ مریدوں کو اپنے ہاتھوں کے بوسہ عقیدت سے محروم رکھتے۔ ابھی کچھ دن پہلے ہی کسی مرید کے گیسٹ ہاؤس کا افتتاح کر کے دعا کرتے تصویر دیکھی تھی اور آج ان کے وفات کی خبر آئی۔

پیر سید کرم علی شاہ کی وفات کے ساتھ ہی گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست کا وہ دور بھی اختتام پذیر ہوا جو 1973ء سے شروع ہوا تھا۔ اپنے مریدوں سے محبت کرنے، اچھے برے وقت میں ان کے ساتھ کھڑے رہنے، ان کا دکھ درد ہمدردی سے سننے اور ان کے لئے پیرانہ سالی کے باوجود دعا کرنے، تعویز لکھنے اور خبر گیری کرنے والا پیر سید کرم علی شاہ اب نہیں رہا۔ انا للٰہ و انا الیہ راجعون.

  • علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جوسوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں