یاسین کا ‘محبوب’ شاعر

تحریر: گل نایاب شاہ کیسر

یہ 14-2013 کی بات ہے جب میں نے بروشسکی شاعری اور ادب پر غور کرنا شروع کیا تھا۔ یا یوں کہے کہ میں بروشسکی شعر و ادب کے سحر میں مبتلا ہو گیا تھا۔ جب بھی میں اپنا بروشسکی سے تعلق کا ذکر کرتا ہوں تو ایک ناممیرے لا شعور سے آواز دیتا ہے اور وہ نام مرحوم بشارت شفیع کا ہے جس کی وجہ سے ہی مجھ حقیر نے بروشسکی زبان میں قلم کو جنبش دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ بہرحال ان دنوں یاسین کےبروشو حلقے میں ایک نام جو زبان زد عام ہو گیا تھا ایک خوب صورت لہجہ اور مدھر آواز والے شاعر اور گلو کار محبوب جان یاسینی کا تھا۔ محبوب جان سے پہلے بھی بہت سارے لکھاری مشق سخن میں مصروف تھے جن میں نیت شاہ قلندر، راحت علی گلزار، محمد رحیم بیگانہ، جمروز مرحوم اور دیگر شامل تھے۔ یہ میں ان شعراء کا تذکرہ کر رہا ہوں جنھیں میں جانتا ہوں یا جنہیں میں نے سنا ہے۔ لیکن اس وقت پورے غزر بشمول یاسین میں اپنے عہد کا معتبر نام شہید مظفر الدین بیگانہ مشہور تھا۔ وہ مجازی عشق کے مضامین چھیڑتا تو ہر عاشق، نیم عاشق اور طفل عشق، تہزیب حسین کے اس شعر کے مصداق کہ

یہی تو شعر کی سب سے بڑی ستائش ہے
کہ سننے والا کہے یہ مری کہانی ہے

اپنے دل اور جگر پر ہاتھ رکھتے اور داد دئیےبغیر نہیں رہتے۔ اس دوران ایک نوجوان شاعر اور گلو کار تھوئی سے تعلق رکھنے والے دو شہداء کی شان میں مرثیہ کلام لئے بروشسکی ادبی حلقے میں متتعارف ہوا۔ اس البم کے ساتھ ہی محبوب جان بروشسکی سننے والوں کے دلوں میں جگہ بنا چکے تھے۔ اس کے بعد مرحوم بشارت شفیع کے البم ‘ہیشنگاکھیش’ میں اپنی اواز کا جادو جگایا۔ لیکن محبوب جان صحیح معنوں میں متعارف تب ہوا جب ان کا دوسرا البم ‘قسمت لکیر’ منظر عام پر آگیا۔ اس البم میں محبوب جان کی منفرد اواز اور سدابہار گیتوں نے خوب داد سمیٹی۔ بشارت شفیع کے ‘ہیشےتسقن’ جو وجاہت شاہ عالمی کی اواز میں ریکارڈ ہو گیا تھا اور محبوب جان کے ‘قسمت لکیر’ کے بعد بروشسکی شاعری کا ایک نیا عہد شروع ہوگیا۔ ایک ایسا عہد جس میں تخیل کی پختگی تھی اور خالص لفظوں کا استعمال تھا، زلف و رخسار کے قصے تھے اور معاشرتی مسائل کی آہیں تھیں، تصوف کی نو عمر کلیاں تھیں اور ترقی پسندانہ سوچ تھی۔ غرض یہ بروشاسکی ادب کا نیا دور تھا ۔ اس البم کے بعد ایک اور البم ‘ہائےدریخا’ محبوب جان کی اپنی اواز میں منظر عام پر آ گیا۔ اس البم کے گیت بھی اپنی مثال آپ تھے۔
میں نے متعدد بار محبوب جان کی شاعری پر قلم اٹھانے کی کوشش کی لیکن ہر بار میرا قلم مجھ سے کہتا رہا

قلم کی نوک میں وسعت نہیں ہے
عبارت کو ذرا قابو میں رکھیئے

یعنی میں اپنی ادبی بصیرت اور قد کا کل بھی قائل نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہوں۔ سو ان کی شاعری پہ قلم اٹھانا مناسب نہیں جانا۔
لیکن کچھ دن قبل جب میں نے ایڈوکیٹ کریم اللہ کی اواز میں محبوب جان کا نیا کلام ‘تائی کا اپی’ سنا تو میرے قلم نے مجھے اپنے حصے کی شمع جلانے پر مجبور کر دیا، سو میں لکھنے بیٹھ گیا۔ محبوب جان لالا سے معذرت کے ساتھ ان کی شاعری پہ قلم اٹھا رہا ہوں۔ بروشسکی کا ہر شاعر ہی منفرد ہے اور کمال خیالات کا مالک (یہاں ہر سے مراد شاعر ہے ہر وہ شخص نہیں جو بس لکھ دیتا ہے۔ بہر حال آپ کے نزدیک شاعر کون ہے اور بس لکھنے والا کون، اپنے شعور کے مطابق طے کریں)۔ میں نے آصف علی اشرف کی شاعری پہ ایک سال پہلے لکھنے کی کوشش کی تھی۔ بشارت شفیع میرے دل کے ہر حصے میں ہے۔ ریاض ساقی، شیر نادر شاہی، آصم شکست، جمشید فگار، عظمت خان، بروشوڈوڈک، عابد علی اور دیگر پر بھی لکھنے کی جسارت کروں گا۔

اب ذرا محبوب جان یاسینی کی شاعری پہ بات کرتے ہے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہے۔
اپنے نئے کلام جس کا ذکر کر چکا ہوں، میں محبوب جان نے کس خوب صورتی کے ساتھ اس دور میں رہتے ہوئے جان نچاشور کر نے کے جھوٹے خیالات کو کس مہارت سے رد کیا ہے، دیکھ لیجئے

گو گمان گو گن اولے جا تایا ان گوتھینمبا
دنیا بٹ شوقم دوا لے یاران تائی کا اپی

کہ تمہارے خیال ہے کہ اب بھی میں تمہاری راہوں میں پلکے بچایئے بیٹھا ہوں، دنیا بہت وسیع ہے میرے دوست، اب ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ اس دور کے عاشقوں سے ہم سب واقف ہیں جن کا دعوا ہوتا ہے کہ بس مر جائیں گے اگر ایک لمحے کی بھی جدائی ہو تو۔ لیکن یہ شاعر کتنا سچا ہے کہ وہ کہتے ہے اب ایسا بھی نہیں ہے۔ ناصر کاظمی صاحب کا ایک شعر یاد آرہا ہے، لکھتے ہے

مرتا نہیں ہے کوئی بھی کسی کے لئے اب
تھے اپنے زمانے کے جواں اور طرح کے

خود احتسابی اس دور کا سب سے بڑا المیہ ہے۔ اپنے گریبان میں جھانکے بغیر ہی دوسروں پہ کیچڑ اچھالنا ایک بہت ہی عام اور آسان فعل بن چکا ہے جس کی محبوب جان سختی سے مذمت کرتے ہے۔

گوکھرآیاشانیچھو بٹ سے ساغاکیرآکومن
یارا سے گورو اولےگوکھرغان تائی کا اپی

کہ غرور و تکبر کے نشے میں دت ہو کر سورج کو آنکھ دکھانا بند کرو۔ پہلے اس آئینے میں خود کو دیکھو یعنی اپنے گریبان میں جھانکو کہ جو تم سوچ رہے ہو سب ویسا ہی نہیں ہوتا۔

اسی غزل کے اگلے شعر میں لکھتے ہے

سیساخدائےدورونگلل بیچا ان اوسکیآیوت
نہ نے نمیجایچومبائے نہ آزان تائی کا اپی

ان لوگوں کی بات ہو رہی ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ بس وہی علم کل ہے اور خدا پرست اور خدا شناس ہیں۔ کہتے ہے کہ سب کو معلوم ہے کہ اس خالق کے کرامات کیا کیا ہیں، تم کیوں یاد دلانے میں لگے ہو۔ کوئی بھی نماز و آزان سے واقف نہیں اگر یہ سمجھتے ہو تو پھر ایسا بھی نہیں ہے۔ لو جی، مطلع کی بات کرنا ہی بھول گیا۔ اسی غزل کے مطلع میں محبوب جان نے یہ واضع کر دیا ہے کہ حال سب کا یکساں نہیں ہوتا اور سوچ سب کی ایک جیسی نہیں ہوتی۔ اور منافقت سے پرے حقیقت کی دنیا سے ایک آواز بنتے ہوئے کہتے ہے کہ

ان جا دونشاولے با تھوم آپانتایی کا اپی
غوشان اکھر چھم اپائی ہر انسان تائی کا اپی

تم ہی میری سوچ پر قابض ہو اور کوئی بھی نہیں ہے، اب ایسی بھی بات نہیں۔ اور اگر تم یہ کہتے ہو کہ کوئی بھی انسان خود سے خوش نہیں ہے تو پھر یہ بھی کوئی حرف آخر نہیں ہے۔ ایسا بھی نہیں ہے۔

محبوب جان نے بھی بشارت شفیع کی طرح بروشسکی ادب کی طرف تب قدم بڑھایا جب ہر طرف سے بروشسکی شاعری کو رد کیا جاتا تھا اور یہ نظریہ عام تھا کہ بروشسکی زبان میں شاعری ممکن ہی نہیں ہے۔
جب پانی سر سے گزر جائے تو انسان کو ہوش آجاتا ہے اور پھر رونے بیٹھ جاتا ہے۔ محبوب جان بھی اسی بات سے تنگ ہے اور اپنے محبوب سے مخاطب ہے

ہاویلناچھو جا لپ اچومہ ان گورینےفوغا
داالجووارےچھورومہ جا جی ہرنگدیری کا

کہ پہلے خود اپنے ہاتھوں مجھے آگ میں پھینک دو گے اور جب میں جل کے راکھ ہوجاؤں گا، تم روتے ہوئے اس آگ کا طواف کرنے پہنچ جاوگے۔ یہ تب ہوگا جب میری جان جسم سے جل کے الگ ہوئی ہوگی۔
ہر سچ جاننے والا یا سچ کا متلاشی راہ منصور کا دیوانہ ہوتا ہے اور محبوب جان بھی خود کو اسی راہ کا مسافر کہتے ہوئے لکھتے ہے کہ

جا با ہررلتیاروم کوٹو دوہورجازیراماناس با
منصور اے چھے غاغویمبا جا سنگسیراماناس با

محبوب خود کو ایک نحیف بارش کے نیچے موجود گھر سے تشبیح دیتے ہوئے کہتے ہے کہ بارش کی وجہ سے میں گر کے تباہ ہونے والا ہوں، یعنی میں راہ منصور کا مسافر ہوں سو میں مارے جانے والا ہوں، ٹکڑا ٹکڑا ہونے والے ہوں۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ شاعر کا رو ٹھنا ہر قیمت درست ہے، کیونکہ وہ سب کے غم کو اپنا غم سمجھتا ہے اور یہ بات بھی درست ہے کہ یہ عمل کسی پہ احسان کرنے کے زمرے میں بھی نہیں آتا کیونکہ یہ تو اس کا روز گار ہے۔ اس غزل کا مقطع بھی شاعر کے اسی خصوصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کہتے ہے

جا چھیکے بر یانوم محبوب، جا چھیکا کھارا دویس بم
جا نابیہل سیسے اتین، جا کا مضیراماناس با

شاعر شکوہ کر رہا ہے کہ میں وہ محبوب ہوں جو سب کی بات مانتا ہے، جو سب کو اپنا سمجھتا ہے۔ لیکن مجھے ہی سب بد دعا د یتے ہیں۔ تو بس جان لو میں بھی برا ہونے والا ہوں۔ یہاں ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ شاعر کہہ رہا میں ہونے والا ہوں ‘اماناس با’، ہو گیا ہوں نہیں کہہ رہا کیونکہ شاعر برا ہو نہیں سکتا۔
ہر قلم سے محبت رکھنے والے کی طرح محبوب جان بھی قلم کی طاقت کے مقابلے تیغ و تلوار کو حقیر جانتے ہوئیے کم عقلوں اور اہل تلوار سے مخاطب ہے:

غاتینھج کا گو تھویکچھوم قلم اے شھوثکچھولومغان
کھوک تیک چھے ان دکھر با، ِان سا غانیماسثھ خاص

کہتے ہے کہ تمھارے تلوار اور بندوق کی طاقت سے دیکھو میرے قلم کی سیاہی بھاری ہے۔ یہ تمھاری ہٹ دھرمی ہی ہے جس کی وجہ سے تم ابھی تک خاک سے کھیلنے میں مگن ہو اور وہ سورج کو ہاتھ لگانے پہنچ چکا ہے۔

اسی غزل کے اگلے شعر میں محبوب اپنے خالق سے اپنی در قسمت کے بند ہونے پہ شکوہ کر رہے ہیں:

اکھر جا سنگ سیر نیت، آس غانہنذرِ پیر نیت
ان آنے بم خدایا، جا بختِ ہینگ دیچسخاص

کہ میں نے خود کو سنگسار کیا کچھ نہ ملا، اپنے دل کو حضور پیر پیش کر کے بھی دیکھا۔ اور پھر شکوہ کر رہا ہے کہ اے خدا تو کہاں تھا میرے تقدیر کے در کے بند ہونے تک۔ شاعری کی مختلف تشریح کئے گئے ہیں، ان میں سے ایک الہام بھی ہے۔ شاعری مالک کی طرف سے عطا کردہ صلاحیت ہے سو شاعر عشقِ خدا میں شکوہ کرنے میں بھی صفِ اول میں ہوتا ہے۔

آغاز عشق کا تذکرہ محبوب کی شاعری میں ایک منفرد اور دلکش انداز میں بارہا آیا ہے۔ وہ محبت کے آغاز اور اگے بڑھنے کے سفر کو اور اس سفر میں پیش آنے والے مراحل کو دو مصروں میں ہی مکمل بیان کر دیتے ہیں:

ہاویلآسورا دوکو الچیمو چھے لیشگووانا
تولومآوونکومالامنچھے نیوش گووانا

کہ پہلے تم میرے نزدیک آئیے اور بذریعہ چشم میرے وجود کا حصہ بن گئے اور پھر انہی آنکھوں سے آنسوؤں کی صورت میرے دامن سیراب کر گئے۔ گو یہ کہانی طویل ہے کیونکہ آنکھوں سے گفتگو کے بعد آنسو میں بدلنے تک کا سفر عموماً طویل ہی ہوتا ہے۔ لیکن شاعر نے کمال مہارت سے اس کہانی کو دو مصروں میں قید کر لیا ہے۔

اگلے شعر میں شاعر دنیا کی بے ثباتی کی بات کرتے ہوئے اپنے محبوب سے مخاطب ہے:

دنیا اکھیلچ یہ دوا ہین ہینا راوح منی بے
سفے جا آہیرومان ان دوکو غاسشگومانا

کہ یہ مزاجِ دنیا ہے کہ یہاں کسی ایک کی خوشی سے دوسرے کو تسکین نہیں ملتی۔ اپنے محبوب سے التجا کر رہے ہے کہ سب مجھے رلانے پہ تلے ہوئے ہیں۔ تم آ کے میری خوشی بن جاؤ۔

محبوب جان ایک طرف اپنی شاعری میں یادوں کی حسین وادیاں آباد کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف حال میں رہتے ہوئےعشق کی لذت کو محسوس کرنے کا گر بھی خوب جانتے ہے۔ منافقت اور غرور سے دور رہنے کی تلقین ہے تو دوسری طرف وطن سے محبت کا جذبہ بھی سادہ الفاظ میں واضح ہے۔ ان کی شاعری پہ بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے لیکن میں اپنے قلم کو یہی پر روکنا ہوں کیونکہ زیادہ لکھنے سے شاعر کے خیالات کا حق ادا نہیں کیا جا سکتا البتہ کوئی بڑی غلطی سر زدہوسکتی ہے۔

آخر میں تمام زبان سے محبت رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ زبان کی خدمت ہر کوئی کر سکتا ہے، اس کے لئے فقط صاف نیت اور اپنے حصے کہ شمع روشن کرنے کی تڑپ شرط ہے۔ ایک اور گزارش یہ کہ اس تحریر میں بروشسکی ادب سے مراد یاسین میں بولی جانے والی بروشسکی ہے۔ زبان سمجھنے میں یا لکھنے میں کہیں غلطی ہوئی ہے تو اس کے لئے اہل زبان سے بھی معذرت اور محبوب جان یاسینی سے پیشگی معذرت کر چکا ہوں۔


گل نایاب شاہ ایک طالب علم، ابھرتے ہوئے لکھاری ہیں اور ہائی ایشیاء ہیرالڈ اور بام جہان کے ساتھ وابستہ ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں